Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1785

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

سورۂ مرسلات {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} کی تفسیر

2 hadiths in this chapter

8817

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8817

Sahih

۔ (۸۸۱۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَارٍ فَنَزَلَتْ عَلَیْہِ: {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} فَأَ خَذْتُہَا مِنْ فِیہِ وَإِنَّ فَاہُ لَرَطْبٌ بِہَا فَلَا أَ دْرِی بِأَ یِّہَا خَتَمَ: {فَبِأَ یِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ} أَ وْ {وَاِذَا قِیلَ لَہُمْ ارْکَعُوْا لَا یَرْکَعُونَ} سَبَقَتْنَا حَیَّۃٌ فَدَخَلَتْ فِی جُحْرٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدْ وُقِیتُمْ شَرَّہَا وَوُقِیَتْ شَرَّکُمْ۔)) (مسند احمد: ۳۵۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غار حراء میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سورۂ مرسلات نازل ہوئی، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منہ مبارک سے یہ سورت حاصل کیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دہن مبارک اس کے ذریعے تر تھا،مجھے یہ معلوم نہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آیت {فَبِأَ یِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ} کے ساتھ اس سورت کو ختم کیایا اس {وَاِذَا قِیلَ لَہُمْ ارْکَعُوْا لَا یَرْکَعُونَ} کے ساتھ۔ اتنے میں ایک سانپ ظاہر ہوا اور کسی بل میں داخل ہو گیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہیں اس کے شر سے محفوظ رکھا گیا اور اس کو تمہارے شر سے بچا لیا گیا۔

8818

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8818

Sahih

۔ (۸۸۱۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ نَزَلَتْ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} لَیْلَۃَ الْحَیَّۃِ، قَالَ: فَقُلْنَا لَہُ: وَمَا لَیْلَۃُ الْحَیَّۃِ؟یَا أَ بَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ!، قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِحِرَائٍ لَیْلًا خَرَجَتْ عَلَیْنَا حَیَّۃٌ مِنَ الْجَبَلِ، فَأَ مَرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَتْلِہَا فَطَلَبْنَاہَا فَأَعْجَزَتْنَا، فَقَالَ: ((دَعُوہَا عَنْکُمْ، فَقَدْ وَقَاہَا اللّٰہُ شَرَّکُمْ، کَمَا وَقَاکُمْ شَرَّہَا۔)) (مسند احمد: ۴۳۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سورۂ مرسلات سانپ والی رات کو نازل ہوئی تھی، ہم نے کہا:اے ابوعبد الرحمن! سانپ والی رات سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: ہم ایک دفعہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غار حراء میں تھے،پہاڑ سے ایک سانپ نکل پڑا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس کو قتل کرنے کا حکم دیا، ہم اس کے پیچھے لگے، لیکن اس نے ہمیں عاجز کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: اب اسے چھوڑ دو، اللہ نے اس کو تمہارے شرسے بچا لیا اور تمہیں اس کے شر سے۔