Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1784

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

سورۃ القیامہ {لَا تُحَرِّکْ بِہٖلِسَانَکَلِتَعْجَلَبِہٖ} کی تفسیر

2 hadiths in this chapter

8816

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8816

Sahih

۔ (۸۸۱۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ: { لَا تُحَرِّکْ بِہِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہِ} [القیامۃ: ۱۶] قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَالِجُ مِنْ التَّنْزِیلِ شِدَّۃً فَکَانَ یُحَرِّکُ شَفَتَیْہِ، قَالَ: فَقَالَ لِی ابْنُ عَبَّاسٍ: أَ نَا أُحَرِّکُ شَفَتَیَّ کَمَا کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحَرِّکُ، وَقَالَ لِی سَعِیدٌ: أَنَا أُحَرِّکُ کَمَا رَأَ یْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یُحَرِّکُ شَفَتَیْہِ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا تُحَرِّکْ بِہِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہِ إِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہُ وَقُرْآنَہُ} قَالَ: جَمْعَہُ فِی صَدْرِکَ ثُمَّ نَقْرَؤُہُ {فَإِذَا قَرَأْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَہُ} فَاسْتَمِعْ لَہُ وَأَ نْصِتْ {ثُمَّ إِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہُ} فَکَانَ بَعْدَ ذٰلِکَ إِذَا انْطَلَقَ جِبْرِیلُ قَرَأَ ہُ کَمَا أَ قْرَأَ ہُ۔ (مسند احمد: ۳۱۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے: ارشادِ باری تعالی ہے: { لَا تُحَرِّکْ بِہِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہِ}… (اے نبی) آپ قرآن کو جلدییاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں۔ قرآن اترتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سخت محنت اٹھاتے تھے، منجملہ ان کے ایکیہ تھا کہ آپ اپنے دونوں ہونٹ ہلاتے تھے، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: میں ہونٹوں کو اس طرح ہلاتا ہوں، جس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہلاتے تھے، سعید نے کہا: میں بھی اپنے ہونٹوں کو ایسے ہلاتا ہوں، جس طرح سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ہلاتے تھے، پھر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کر دی: {لَا تُحَرِّکْ بِہِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہِ إِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہُ وَقُرْآنَہُ}… (اے نبی) آپ قرآن کو جلدییاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں، اس کا جمع کرنا اور آپ کی زبان سے پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔ یعنی قرآن کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینۂ مبارک میں جمع کرنا اور آپ کا اس کو پڑھنا، {فَإِذَا قَرَأْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَہُ} … ہم جب اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں۔ پس تو سنا کر اور خاموش رہا کر، { ثُمَّ إِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہُ} … پھر اس کا واضح کردینا ہمارے ذمہ ہے۔ پھر جب جبرائیل علیہ السلام چلے جاتے، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وحی کو اسی طرح پڑھ لیتے، جیسے جبرائیل نے پڑھی ہوتی۔

8816

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8816

Sahih

۔ (۸۸۱۶م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: کَانَ اِذَا نَزَلَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُرْآنٌ یُرِیْدُ أَ نْ یَحْفَظَہٗ، قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: { لَا تُحَرِّکْ بِہِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہِ إِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہُ وَقُرْآنَہُ فَاِذَا قَرَاْنَاہٗ فَاتَّبِعْ قُرْآنَہٗ} [القیامۃ: ۱۶]۔ (مسند احمد: ۱۹۹۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قرآن نازل ہوتاآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو یاد کرتے (اور اس نیت سے (اپنی زبان کو جلدی جلدی ساتھ حرکت دیتے)، پس اللہ تعالی نے فرمایا: {لَا تُحَرِّکْ بِہِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہِ إِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہُ وَقُرْآنَہُ۔ فَإِذَا قَرَأْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَہُ۔}… (اے نبی) آپ قرآن کو جلدییاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں، اس کا جمع کرنا اور آپ کی زبان سے پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔ ہم جب اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں۔