Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1780

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

سورۂ مدثر {یَا أَ یُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَ نْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ} کی تفسیر

1 hadith in this chapter

8812

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8812

Sahih

۔ (۸۸۱۲)۔ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَقُولُ: أَ خْبَرَنِی جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ أَ نَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْیُ عَنِّی فَتْرَۃً فَبَیْنَا أَ نَا أَمْشِی سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ السَّمَائِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِی قِبَلَ السَّمَائِ، فَإِذَا الْمَلَکُ الَّذِی جَائَ نِی بِحِرَائٍ، الْآنَ قَاعِدٌ عَلَی کُرْسِیٍّ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَ رْضِ، فَجُئِثْتُ مِنْہُ فَرَقًا حَتَّی ہَوَیْتُ إِلَی الْأَ رْضِ، فَجِئْتُ أَ ہْلِی فَقُلْتُ: زَمِّلُونِی زَمِّلُونِی زَمِّلُونِی فَزَمَّلُونِی، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {یَا أَ یُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَ نْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ}۔)) [المدثر: ۱۔۵] قَالَ أَ بُو سَلَمَۃَ: الرُّجْزُ الْأَ وْثَانُ ثُمَّ حَمِیَ الْوَحْیُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)سیدنا جابر بن عبدا للہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر وحی رک گئی، پس ایک دن میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی،جب میں نے نگاہ اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حراء میں آیا تھا، اب وہی آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، میں اس کے خوف سے کپکپانے لگا، یہاں تک کہ میں زمین کی طرف جھکا، پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور کہا: مجھے کمبل اوڑھاؤ، مجھے کمبل اوڑھاؤ، مجھے کمبل اوڑھا دو۔ پس انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی، پس اللہ تعالیٰ نے آیات نازل کیں: {یَا أَ یُّھَا الْمُدَّثِّرْ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثَیَابَکَ فَطَھِّرْ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ} … اے کمبل اوڑھنے والے، کھڑا ہو جا، پس ڈرا اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک کر اور پلیدی کو چھوڑ دے۔ ابو سلمہ نے کہا: پلیدی سے مراد بت ہیں، اس کے بعد وحی پے در پے اور کثرت سے نازل ہونے لگی۔