Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1750

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

سورۂ قمر {اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ}کی تفسیر

4 hadiths in this chapter

8770

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8770

Sahih

۔ (۸۷۷۰)۔ عَنْ أَ بِی مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ أَ نَّہُ قَالَ فِی ہٰذِہِ الْآیَۃِ: {اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ} [القمر: ۱] قَالَ: قَدِ انْشَقَّ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِرْقَتَیْنِ أَ وْ فِلْقَتَیْنِ، شُعْبَۃُ الَّذِییَشُکُّ، فَکَانَ فِلْقَۃٌ مِنْ وَرَائِ الْجَبَلِ، وَفِلْقَۃٌ عَلَی الْجَبَلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اللّٰہُمَّ اشْہَدْ۔)) (مسند احمد: ۴۲۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ}… قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔ کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد مبارک میں چاند دو ٹکڑے ہوا تھا، ایک ٹکڑا (حرا) پہاڑ کے پیچھے نظر آ رہا تھا اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر، یہ معجزہ دیکھ کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ رہنا۔

8771

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8771

Sahih

۔ (۸۷۷۱)۔ عَنْ أَ نَسٍ سَأَ لَ أَ ہْلُ مَکَّۃَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آیَۃً، فَانْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَکَّۃَ مَرَّتَیْنِ فَقَالَ: {اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ یَرَوْا آیَۃًیُعْرِضُوْا وَیَقُولُوْا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ} [القمر: ۱۔۲]۔ (مسند احمد: ۱۲۷۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ مکہ والوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے معجزہ طلب کیا تو مکہ میں چاند دو ٹکڑے ہوا، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ یَرَوْا آیَۃًیُعْرِضُوْا وَیَقُولُوْا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ} … قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا، مگر ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔

8772

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8772

Sahih

۔ (۸۷۷۲)۔ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ قَالَ: رَأَ یْتُ رَجُلًا سَأَ لَ الْأَ سْوَدَ بْنَ یَزِیدَ وَہُوَ یُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِی الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: کَیْفَ نَقْرَأُ ہٰذَا الْحَرْفَ {فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ} [القمر: ۱۵] أَ ذَالٌ أَ مْ دَالٌ؟ فَقَالَ: لَا بَلْ دَالٌ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَؤُہَا: {مُدَّکِرٍ} دَالًا۔ (مسند احمد: ۴۴۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو دیکھا، اس نے اسود بن یزید،جو مسجد میں قرآن کی تعلیم دیتاتھا، سے سوال کیااور کہا: ہم اس آیت کو کیسے پڑھیں:{فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ} یہ ذ ہے یا د ؟ انھوں نے کہا: نہیں،یہ د ہے، میں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو {مُدَّکِرٍ}پڑھتے ہوئے سنا، یعنی د کے ساتھ۔

8773

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8773

Sahih

۔ (۸۷۷۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: جَائَ مُشْرِکُوْا قُرَیْشٍ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُخَاصِمُوْنَہٗ فِی الْقَدْرِ فَنَزَلَتْ: {یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْھِمِ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ۔ اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنَاہٗبِقَدَرٍ} [القمر: ۴۸۔۴۹]۔ (مسند احمد: ۹۷۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ قریشی مشرک، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تقدیر کے بارے میں جھگڑنے لگے، پس یہ آیات نازل ہوئیں: {یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْھِمِ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ۔ اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنَاہٗ بِقَدَرٍ}… جس دن یہ چہرں کے بل دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے، ان سے کہا جائے گا دوزخ کا عذاب چکھو۔ بے شک ہم نے ہر چیز کوتقدیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔