Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1727

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

سورۂ زمر {اِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِنَّہُمْ مَیِّتُوْنَ} کی تفسیر

2 hadiths in this chapter

8737

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8737

Sahih

۔ (۸۷۳۷)۔ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ السُّورَۃُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم {إِنَّکَ مَیِّتٌ وَإِنَّہُمْ مَیِّتُونَ ثُمَّ إِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُونَ} [الزمر: ۳۱] قَالَ الزُّبَیْرُ: أَ یْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! أَیُکَرَّرُعَلَیْنَا مَا کَانَ بَیْنَنَا فِی الدُّنْیَا مَعَ خَوَاصِّ الذُّنُوبِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، لَیُکَرَّرَنَّ عَلَیْکُمْ حَتّٰییُؤَدّٰی إِلٰی کُلِّ ذِی حَقٍّ حَقُّہُ۔)) فَقَالَ الزُّبَیْرُ: وَاللّٰہِ! إِنَّ الْأَ مْرَ لَشَدِیدٌ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے جب سورۂ زمر کی یہ اٰیات نازل ہوئیں: {إِنَّکَ مَیِّتٌ وَإِنَّہُمْ مَیِّتُونَ ثُمَّ إِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُونَ} … (اے نبی) یقینا تم بھی وفات پانے والے ہو اور وہ لوگ بھی مرنے والے ہیں، پھر تم روزقیامت اپنے رب کے پاس جھگڑا کرو گے۔ سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! گناہوں کے ساتھ ساتھ دنیا میں ہمارے ما بین جو کچھ ہوتا ہے، کیا پھر اس کاتکرار ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، تم پر ضرور تکرار ہوگا، یہاں تک کہ ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم!پھر تو معاملہ بڑا سخت ہے۔

8738

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8738

Sahih

۔ (۸۷۳۸)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {ثُمَّ إِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُونَ} [الزمر: ۳۱] قَالَ الزُّبَیْرُ: أَ یْ رَسُولَ اللّٰہِ! مَعَ خُصُومَتِنَا فِی الدُّنْیَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔))، وَلَمَّا نَزَلَتْ {ثُمَّ لَتُسْأَ لُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیمِ} [الکاثر: ۸] قَالَ الزُّبَیْرُ: أَ یْ رَسُولَ اللّٰہِ! أَ یُّ نَعِیمٍ نُسْأَ لُ عَنْہُ؟ وَإِنَّمَا یَعْنِی ہُمَا الْأَ سْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَائُ، قَالَ: ((أَ مَا إِنَّ ذٰلِکَ سَیَکُونُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {ثُمَّ إِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُونَ} … (پھر تم روزقیامت اپنے رب کے پاس جھگڑا کرو گے۔ تو میں (زبیررضی ‌اللہ ‌عنہ) نے کہا:اے اللہ کے رسول! دنیا میں ہونے والے ہمارے مابین کے جھگڑوں کے ساتھ (آخرت میں بھی یہ جھگڑے) ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اور جب یہ آیت نازل ہوئی: {ثُمَّ لَتُسْأَ لُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنْ النَّعِیمِ} … پھر اس دن تم سے ضرور ضرور نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ میں (زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) نے کہا: اے اللہ کے رسول!کون سی نعمت کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا؟ بس ہمارے پاس تو یہ دو کالے رنگ کی چیزیں ہیں، ایک کھجور ہے اور ایک پانی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! عنقریب یہ سوال ہو گا۔