Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1726

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

سورۂ ص {اَجَعَلَ الْآلِھَۃَ اِلٰھًا وَاحِدًا} کی تفسیر

2 hadiths in this chapter

8735

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8735

Zaeef

۔ (۸۷۳۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرِضَ أَ بُو طَالِبٍ فَأَ تَتْہُ قُرَیْشٌ وَأَ تَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعُودُہُ، وَعِنْدَ رَأْسِہِ مَقْعَدُ رَجُلٍ فَقَامَ أَ بُو جَہْلٍ فَقَعَدَ فِیہِ، فَقَالُوْا: إِنَّ ابْنَ أَ خِیکَیَقَعُ فِی آلِہَتِنَا، قَالَ: مَا شَأْنُ قَوْمِکَ یَشْکُونَکَ؟ قَالَ: ((یَا عَمِّ! أُرِیدُہُمْ عَلٰی کَلِمَۃٍ وَاحِدَۃٍ، تَدِینُ لَہُمْ بِہَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّی الْعَجَمُ إِلَیْہِمُ الْجِزْیَۃَ۔))، قَالَ: مَا ہِیَ؟ قَالَ: ((لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔))، فَقَامُوْا فَقَالُوْا: أَ جَعَلَ الْآلِہَۃَ إِلَہًا وَاحِدًا، قَالَ: وَنَزَلَ {صٓ وَالْقُرْآنِ ذِی الذِّکْرِ} فَقَرَأَ حَتّٰی بَلَغَ {إِنَّ ہَذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ} [ص:۱۔ ۵]، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ الْاِمَامَ اَحْمَدَ): قَالَ اَبِیْ: وَحَدَّثَنَا اَبُوْا اُسَامَۃَ حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ، حَدَّثَنَا عَبَادٌ، فَذَکَرَ نَحْوَہٗ،وَقَالَاَبِیْ: قَالَ الْاَشْجَعِیُّ: یَحْیَی بْنُ عَبَادٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ ابو طالب بیمار پڑ گئے، قریشی ان کے پاس آئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ان کی تیمار داری کے لئے تشریف لے آئے،ان کے سر کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تو تھی، لیکن ابو جہل کھڑا ہوا اور اس جگہ میں بیٹھ گیا، پھر قریشیوں نے کہا: ابو طالب! تمہارا یہ بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے۔ ابو طالب نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مخاطب ہو کر کہا: کیا بات ہے، یہ آپ کی قوم آپ کی شکایت کررہی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے چچا! میں انہیں ایک ایسے کلمہ پر متحد کرنا چاہتا ہوں کہ جس کو قبول کرنے سے عرب ان کے تابع ہوں گے اور عجم انہیں جزیہ دیں گے۔ ابو طالب نے کہا: وہ کونسا کلمہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لا الہ الا اللہ وہ سب اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: کیا اس نے سب معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا ہے، اس وقت سورۂ ص کی یہ آیات نازل ہوئیں: {صٓ وَالْقُرْآنِ ذِی الذِّکْر … … إِنَّ ہٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ}

8736

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8736

Zaeef

۔ (۸۷۳۶)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ لَمَّا مَرِضَ أَ بُو طَالِبٍ دَخَلَ عَلَیْہِ رَہْطٌ مِنْ قُرَیْشٍ مِنْہُمْ أَ بُو جَہْلٍ، فَقَالُوْا: یَا أَ بَا طَالِبٍ! ابْنُ أَ خِیکَیَشْتِمُ آلِہَتَنَا یَقُولُ وَیَقُولُ وَیَفْعَلُ وَیَفْعَلُ، فَأَ رْسِلْ إِلَیْہِ فَانْہَہُ، قَالَ: فَأَ رْسَلَ إِلَیْہِ أَ بُو طَالِبٍ، وَکَانَ قُرْبَ أَ بِی طَالِبٍ مَوْضِعُ رَجُلٍ فَخَشِیَ إِنْ دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی عَمِّہِ أَ نْ یَکُونَ أَ رَقَّ لَہُ عَلَیْہِ فَوَثَبَ فَجَلَسَ فِی ذٰلِکَ الْمَجْلِسِ، فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَجِدْ مَجْلِسًا إِلَّا عِنْدَ الْبَابِ فَجَلَسَ، فَقَالَ أَ بُو طَالِبٍ: یَا ابْنَ أَ خِی! إِنَّ قَوْمَکَ یَشْکُونَکَ،یَزْعُمُونَ أَ نَّکَ تَشْتُمُ آلِہَتَہُمْ، وَتَقُولُ وَتَقُولُ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ، فَقَالَ: ((یَا عَمِّ! إِنِّی إِنَّمَا أُرِیدُہُمْ عَلٰی کَلِمَۃٍ وَاحِدَۃٍ، تَدِینُ لَہُمْ بِہَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّی إِلَیْہِمْ بِہَا الْعَجَمُ الْجِزْیَۃَ۔))، قَالُوْا: وَمَا ہِیَ نَعَمْ وَأَ بِیکَ عَشْرًا، قَالَ: ((لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) قَالَ: فَقَامُوْا وَہُم یَنْفُضُوْنَ ثِیَابَہُمْ وَھُمْ یَقُوْلُوْنَ: {اَجَعَلَ الْآلِھَۃَ اِلٰہًا وَاحِدًا اِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ} قَالَ: ثُمَّ قَرَاَ حَتّٰی بَلَغَ {لَمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِ} [ص: ۵۔ ۸]۔ (مسند احمد: ۳۴۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ جب ابو طالب بیمار ہوئے تو قریشیوں کا ایک گروہ ان کی تیمار داری کے لئے آیا، ان میں ابو جہل بھی تھا، انہوں نے کہا: ابو طالب ! تمہارا بھتیجا ہمارے معبودوں کو گالیاں دیتا ہے، یہ کہتا ہے، یہ کہتا ہے اور ایسے ایسے کرتا ہے۔ ابو طالب نے آپ کو اپنے پاس آنے کا پیغام بھیجا، ابو طالب کے قریب ایک آدمی کی جگہ خالی تھی، ابو جہل کو خدشہ تھاکہ اگر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم داخل ہوئے تو قریب ہو کر بیٹھ جائیں گے، اور پھر کہیں ایسا نہ ہو کہ ابو طالب کو اپنے بھتیجے پر ترس آ جائے، اس لیےیہ کود کر اس خالی جگہ پر بیٹھ گیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم داخل ہوئے اوربیٹھنے کی جگہ نہ پائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دروازے کے قریب ہی بیٹھ گئے۔ ابو طالب نے کہا: اے بھتیجے! تمہاری قوم تمہاری شکایت کر رہی ہے کہ تم ان کے معبودوں کو برا بھلا کہتے ہو اور یہ یہ کہتے ہو اور ایسے ایسے کرتے ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے چچا! میں ان سے ایسا کلمہ چاہتا ہوں کہ جس کی وجہ سے عرب ان کے تابع ہو جائیں گے اور عجمی ان کو جزیہ دیں گے۔ انہوں نے کہا: وہ کونسا کلمہ ہے؟ تیرے باپ کی قسم! ہم یہ اور اس طرح کی دس باتیں قبول کریں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لا الہ الا اللہ ہے۔ یہ سن کر وہ کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے (جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کہا:) {اَجَعَلَ الْآلِھَۃَ اِلٰہًا وَاحِدًا اِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ} … کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا ؟ بلاشبہ یہ یقینا بہت عجیب بات ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آگے تلاوت کی،یہاں تک کہ {لَمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِ} تک پہنچ گئے۔