Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1716

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

{تُرْجِیْ مَنْ تَشَائُ مِنْہُنَّ وَتُؤْوِیْ اِلَیْکَ مَنْ تَشَائُ…} کی تفسیر

2 hadiths in this chapter

8715

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8715

Sahih

۔ (۸۷۱۵)۔ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَ بِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ: أَ نَّہَا کَانَتْ تُعَیِّرُ النِّسَائَ اللَّاتِی وَہَبْنَ أَ نْفُسَہُنَّ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: أَ لَا تَسْتَحِی الْمَرْأَ ۃُ أَ نْ تَعْرِضَ نَفْسَہَا بِغَیْرِ صَدَاقٍ، فَنَزَلَ أَ وْ قَالَ: فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {تُرْجِی مَنْ تَشَاء مِنْہُنَّ وَتُؤْوِی إِلَیْکَ مَنْ تَشَائُ وَمَنْ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکَ} [الأحزاب: ۵۱] قَالَتْ: إِنِّی أَرٰی رَبَّکَ عَزَّ وَجَلَّ یُسَارِعُ لَکَ فِی ہَوَاکَ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ وہ ان عورتوں پر عیب لگاتی تھیں جو اپنا نفس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ہبہ کر دیتی تھیں اور سیدہ کہتی تھیں: کیا عورت کو اس سے شرم محسوس نہیں ہوتی کہ بغیر مہر کے اپنے آپ کو ہبہ کر دیتی ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {تُرْجِیْ مَنْ تَشَاء ُ مِنْہُنَّ وَ تُؤْوِیْٓ اِلَیْکَ مَنْ تَشَائُ وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکَ ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُہُنَّ وَلَا یَحْزَنَّ وَیَرْضَیْنَ بِمَآ اٰتَیْتَہُنَّ کُلُّہُنَّ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا۔} … ان میں سے جسے تو چاہے مؤخر کر دے اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے دے اور تو جسے بھی طلب کر لے، ان عورتوں میں سے جنھیں تو نے الگ کر دیا ہو تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کریں اور وہ سب کی سب اس پر راضی ہوں جو تو انھیں دے اور اللہ جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے اور اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، بڑے حلم والا ہے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی!آپ کا رب بلاتا خیر آپ کی مرضی پوری کر دیتا ہے۔

8716

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8716

Sahih

۔ (۸۷۱۶)۔ عَنْ مُعَاذَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أَ نَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَسْتَأْذِنُ إِذَا کَانَ یَوْمُ الْمَرْأَ ۃِ مِنَّا بَعْدَ أَ نْ نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {تُرْجِی مَنْ تَشَائُ مِنْہُنَّ وَتُؤْوِی إِلَیْکَ مَنْ تَشَائُ وَمَنْ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکَ} [الأأحزاب: ۵۱] قَالَتْ: فَقُلْتُ لَہَا: مَا کُنْتِ تَقُولِینَ لَہُ؟ قَالَتْ: کُنْتُ أَ قُولُ لَہُ: إِنْ کَانَ ذٰلِکَ إِلَیَّ فَإِنِّی لَا أُرِیدُیَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنْ أُوثِرَ عَلَیْکَ أَ حَدًا۔ (مسند احمد: ۲۴۹۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی جب کسی بیوی کی باری ہوتی تو اس سے اجازت طلب کرتے تھے: {تُرْجِیْ مَنْ تَشَاء ُ مِنْہُنَّ وَ تُؤْوِیْٓ اِلَیْکَ مَنْ تَشَائُ وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکَ} … ان میں سے جسے تو چاہے مؤخر کر دے اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے دے اور تو جسے بھی طلب کر لے، ان عورتوں میں سے جنھیں تو نے الگ کر دیا ہو تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں۔ میں(معاذہ) نے کہا: عائشہ! جب آپ ﷺ تم سے پوچھتے تو تم کیا کہتی تھیں؟ انھوں نے کہا: میں یہ کہتی تھی: اے اللہ کے رسول! اگر یہ میرا اختیار ہے تو میں آپ پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گی۔