Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1715

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

{یَاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّا اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ اللَّاتِیْ آتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ…} کی تفسیر

1 hadith in this chapter

8714

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8714

Zaeef

۔ (۸۷۱۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نُہِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَ صْنَافِ النِّسَائِ إِلَّا مَا کَانَ مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ الْمُہَاجِرَاتِ قَالَ:{ لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَائُ مِنْ بَعْدُ وَلَا أَ نْ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنْ أَ زْوَاجٍ وَلَوْ أَ عْجَبَکَ حُسْنُہُنَّ إِلَّا مَا مَلَکَتْ یَمِینُکَ} [الاحزاب: ۵۲] وَأَ حَلَّ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَتَیَاتِکُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَامْرَأَ ۃً مُؤْمِنَۃً إِنْ وَہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ وَحَرَّمَ کُلَّ ذَاتِ دِینٍ غَیْرَ دِینِ الْإِسْلَامِ، قَالَ: {وَمَنْ یَکْفُرْ بِالْإِیمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہُ وَہُوَ فِی الْآخِرَۃِ مِنْ الْخَاسِرِینَ} وَقَالَ: { یَا أَ یُّہَا النَّبِیُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَکَ أَزْوَاجَکَ اللَّاتِی آتَیْتَ أُجُوْرَہُنَّ وَمَا مَلَکَتْ یَمِینُکَ} إِلٰی قَوْلِہِ: {خَالِصَۃً لَکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ} وَحَرَّمَ سِوٰی ذٰلِکَ مِنْ اَصْنَافِ النِّسَائِ۔ (مسند احمد: ۲۹۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چند قسم کی عورتوں سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا تھا،صرف ہجرت کرنے والی ایماندار عورتوں سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نکاح کر سکتے تھے، پھر حکم ہوا: { لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَائُ مِنْ بَعْدُ وَلَا أَ نْ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنْ أَ زْوَاجٍ وَلَوْ أَ عْجَبَکَ حُسْنُہُنَّ إِلَّا مَا مَلَکَتْ یَمِینُکَ} … تیرے لیے اس کے بعد عورتیں حلال نہیں اور نہ یہ کہ تو ان کے بدلے کوئی اور بیویاں کر لے، اگرچہ ان کا حسن تجھے اچھا لگے مگر جس کا مالک تیرا دایاں ہاتھ بنے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ایماندار لونڈیوں کو حلال قرار دیا اور اس مومن خاتون کو بھی حلال کر دیا، جو اپنا نفس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ہبہ کر دے، اور اللہ تعالیٰ نے اسلام کے علاوہ ہر دین والی کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے حرام قرار دیا اور فرمایا: {یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ الّٰتِیْٓ اٰتَیْتَ اُجُوْرَہُنَّ وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّآ اَفَائَ اللّٰہُ عَلَیْکَ وَبَنٰتِ عَمِّکَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَبَنٰتِ خَالِکَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِکَ الّٰتِیْ ہَاجَرْنَ مَعَکَ ْ وَامْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنْ وَّہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْکِحَہَا ٓ خَالِصَۃً لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ}… اے نبی! بے شک ہم نے تیرے لیے تیری بیویاں حلال کر دیں جن کا تو نے مہر دیا ہے اور وہ عورتیں جن کا مالک تیرا دایاں ہاتھ بنا ہے، اس (غنیمت) میں سے جو اللہ تجھ پر لوٹا کر لایا ہے اور تیرے چچا کی بیٹیاں اور تیری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں، جنھوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے اور کوئی بھی مومن عورت اگر وہ اپنا آپ نبی کو ہبہ کر دے، اگر نبی چاہے کہ اسے نکاح میں لے لے۔ یہ خاص تیرے لیے ہے، مومنوں کے لیے نہیں۔ بے شک ہم نے جان لیا جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور ان عورتوں کے بارے میں فرض کیا جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں، تاکہ تجھ پر کوئی تنگی نہ ہو اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔