Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1658

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

{وَاَقِمِ الصَّلاۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ…} کی تفسیر

3 hadiths in this chapter

8637

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8637

Sahih

۔ (۸۶۳۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَ نَّ امْرَأَ ۃً مُغِیبًا أَتَتْ رَجُلًا تَشْتَرِی مِنْہُ شَیْئًا فَقَالَ: ادْخُلِی الدَّوْلَجَ حَتّٰی أُعْطِیَکِ، فَدَخَلَتْ فَقَبَّلَہَا وَغَمَزَہَا فَقَالَتْ: وَیْحَکَ إِنِّی مُغِیبٌ فَتَرَکَہَا وَنَدِمَ عَلٰی مَا کَانَ مِنْہُ، فَأَ تَی عُمَرَ فَأَ خْبَرَہُ بِالَّذِی صَنَعَ، فَقَالَ: وَیْحَکَ فَلَعَلَّہَا مُغِیبٌ، قَالَ: فَإِنَّہَا مُغِیبٌ، قَالَ: فَأْتِ أَبَابَکْرٍ فَاسْأَ لْہُ، فَأَتٰی أَ بَابَکْرٍ فَأَ خْبَرَہُ، فَقَالَ أَ بُو بَکْرٍ: وَیْحَکَ لَعَلَّہَا مُغِیبٌ، قَالَ: فَإِنَّہَا مُغِیبٌ، قَالَ: فَأْتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَ خْبِرْہُ، فَأَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَ خْبَرَہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَعَلَّہَا مُغِیبٌ۔)) قَالَ: فَإِنَّہَا مُغِیبٌ، فَسَکَتَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَزَلَ الْقُرْآنُ: {وَأَقِمْ الصَّلَاۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ} إِلٰی قَوْلِہِ: {لِلذَّاکِرِینَ} قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَ ہِیَ فِیَّ خَاصَّۃً أَ وْ فِی النَّاسِ عَامَّۃً؟ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: لَا، وَلَا نَعْمَۃَ عَیْنٍ لَکَ بَلْ ہِیَ لِلنَّاسِ عَامَّۃً، قَالَ: فَضَحِکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((صَدَقَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، ایک عورت جس کا خاوند گھر سے باہر تھا، وہ ایک آدمی کے پاس کچھ خریدنے آئی۔ اس نے کہا: اس حجرہ میں اندر چلی جاؤ، تاکہ میں تمہیں تمہاری چیز دے سکوں، جب وہ داخل ہوئی تو اس آدمی نے اس سے بوس و کنار کیا، اس عورت نے کہا: بڑا افسوس ہے، میرا خاوند گھر سے باہر تھا تونے یہ کیا کیا، اس آدمی نے اسے چھوڑ دیا اور نادم ہوا، پھر وہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور جو کیا تھا انہیں بتا دیا، انہوں نے کہا: لگتا ہے اس عورت کا خاوند گھر پر نہ ہو گا، تب وہ سودا خریدنے آئی ہو گی؟ اس نے کہا: جی ہاں وہ گھر سے باہر تھا۔ انہوں نے کہا؛ تو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس چلا جا اور ان سے پوچھ لے، پس وہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا انہیں ساری بات بتائی، انھوں نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، شاید اس کا خاوند گھر پر نہ ہو، اس نے کہا: جی ہاں، اس پر خاوند گھر پر نہیں تھا، پھرسیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا اور آپ کو ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ تفصیل بتا، پس وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو آپ کو واقعہ بتایا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لگتا ہے کہ اس عورت کا خاوند گھر سے باہر تھا؟ اس آدمی نے کہا: جی ہاں، واقعی وہ گھر پر نہ تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو گئے اوریہ قرآن مجید نازل ہوا: {وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّـیِّاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ۔} … اور دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔ یہیاد کرنے والوں کے لیےیاد دہانی ہے۔ اس آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول! کیایہ حکم میرے لئے خاص ہے یا لوگوں کے عام ہے؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نہیں، اس سے صرف تیری ہی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوں گی، بلکہ یہ تمام لوگوں کے لئے خوشبخری ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا کرفرمایا: عمر نے سچ کہا ہے۔

8638

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8638

Sahih

۔ (۸۶۳۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنِّی أَ خَذْتُ امْرَأَ ۃً فِی الْبُسْتَانِ فَفَعَلْتُ بِہَا کُلَّ شَیْئٍ غَیْرَ أَ نِّی لَمْ أُجَامِعْہَا، قَبَّلْتُہَا وَلَزِمْتُہَا، وَلَمْ أَ فْعَلْ غَیْرَ ذٰلِکَ، فَافْعَلْ بِی مَا شِئْتَ، فَلَمْ یَقُلْ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا، فَذَہَبَ الرَّجُلُ فَقَالَ عُمَرُ: لَقَدْ سَتَرَ اللّٰہُ عَلَیْہِ لَوْ سَتَرَ عَلٰی نَفْسِہِ، قَالَ: فَأَ تْبَعَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَصَرَہُ فَقَالَ: ((رُدُّوہُ عَلَیَّ۔)) فَرَدُّوہُ عَلَیْہِ فَقَرَأَ عَلَیْہِ: {وَأَ قِمِ الصَّلَاۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّئَاتِ} إِلَی {الذَّاکِرِینَ} فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: أَ لَہُ وَحْدَہُ أَ مْ لِلنَّاسِ کَافَّۃًیَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((بَلْ لِلنَّاسِ کَافَّۃً۔)) (مسند احمد: ۴۲۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے باغ میں ایک عورت کو پکڑ لیا اور میں نے اس کے ساتھ ہر کام کیا ہے، بس صرف زنا نہیں کیا، میں نے اسے بوسہ دیا اور اس کے ساتھ چمٹا، اس کے علاوہ کچھ نہیں کیا، اب میں حاضر ہوں، آپ جو چاہیں، مجھے سزا دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کچھ نہ کہا اور وہ چلا بھی گیا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کے بارے میںکہا: اللہ تعالیٰ نے تو اس پر پردہ ڈالا تھا، اگر وہ خود بھی پردہ ڈال لیتا،اُدھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس جانے والے کو پیچھے سے تک رہے تھے اور بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے واپس بلاؤ۔ پس جب اس کو لوٹایا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر یہ آیت تلاوت کی: {وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّـیِّاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ۔} … اور دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔ یہیاد کرنے والوں کے لیےیاد دہانی ہے۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ اس اکیلے کے لئے ہے یا سب لوگوں کے لئے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب لوگوں کے لئے ہے۔

8638

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8638

Sahih

۔ (۸۶۳۸م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ نَحْوُہٗ ) وَفِیْہٍ: فَسَکَتَ عَنْہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {إِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّئَاتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذَّاکِرِینَ} قَالَ: فَدَعَاہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَرَأَ ہَا عَلَیْہِ، فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَ لَہُ خَاصَّۃً أَ مْ لِلنَّاسِ کَافَّۃً؟ فَقَالَ: ((بَلْ لِلنَّاسِ کَافَّۃً۔)) (مسند احمد: ۴۲۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو گئے، پس یہ آیت نازل ہوئی: {وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّـیِّاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ۔} … اور دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کیکچھ گھڑیوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔ یہیاد کرنے والوں کے لیےیاد دہانی ہے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو بلایا اور اس پر اس آیت کیتلاوت کی، سیدنا عمر نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ اس کے لئے خاص ہے یا سب لوگوں کے لئے ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب لوگوں کے لئے عام ہے۔