Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1657

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

{قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ} کی تفسیر

2 hadiths in this chapter

8636

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8636

Sahih

۔ (۸۶۳۶)۔ عَنْ أَ بِی ہُرَیْرَۃَ، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی قَوْلِ لُوطٍ:{لَوْ أَ نَّ لِی بِکُمْ قُوَّۃً أَ وْ آوِی إِلٰی رُکْنٍ شَدِیدٍ} [یونس: ۸۰] قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَانَ یَأْوِی إِلٰی رُکْنٍ شَدِیدٍ إِلٰی رَبِّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَمَا بُعِثَ بَعْدَہُ نَبِیٌّ إِلَّا فِی ثَرْوَۃٍ مِنْ قَوْمِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوط علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {لَوْ أَ نَّ لِی بِکُمْ قُوَّۃً أَوْ آوِی إِلٰی رُکْنٍ شَدِیدٍ}… کاش کہ مجھ میں تمہارا مقابلہ کرنے کی قوت ہوتییا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا۔ (سورۂ ہود: ۸۰) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ (لوط علیہ السلام ) ایک مضبوط سہارے اپنے رب کی طرف آسرا پکڑتے تھے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کے بعد اللہ تعالی نے جو نبی بھی بھیجا، اس کو اس کی قوم کے انبوہ کثیر میں بھیجا۔

8636

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8636

Sahih

۔ (۸۶۳۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہٖ) وَفِیْہٖ قَالَ: ((قَدْ کَانَ یَأْوِی إِلٰی رُکْنٍ شَدِیدٍ وَلٰکِنَّہُ عَنٰی عَشِیرَتَہُ فَمَا بَعَثَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بَعْدَہُ نَبِیًّا إِلَّا بَعَثَہُ فِی ذُرْوَۃِ قَوْمِہِ۔)) قَالَ أَبُو عُمَرَ: ((فَمَا بَعَثَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِیًّا بَعْدُ اِلَّا فِیْ مَنْعَۃٍ مِنْ قَوْمِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۰۹۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے : لوط علیہ السلام مضبوط قلعہ کی جانب جگہ پکڑتے تھے، ان کی مراد رشتہ دار تھے، پس اللہ نے اس کے بعد کسی نبی کو نہیں بھیجا، مگر اس کی قوم کے اعلی نسب سے۔ ابو عمر راوی کے الفاظ یہ ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اللہ تعالی نے ان کے بعد کوئی نبی نہیں بھیجا، مگر اس کو اپنی قوم میں محفوظ کر کے۔