Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 145 · Chapter 1502

قرآن مجید اور اوراد کی تحزیب کرنے اور مصاحف میں اس کی تالیف کرنے جمع کرنے اور اس کو لکھنے کے ابواب

عہد ِ نبوی میں کندھوں کی ہڈیوں اور سفید پتھروں پر قرآن مجید کی کتابت کا بیان

4 hadiths in this chapter

8403

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8403

Sahih

۔ (۸۴۰۳)۔ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: قَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ: إِنِّی قَاعِدٌ إِلٰی جَنْبِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا إِذْ أُوحِیَ إِلَیْہِ، قَالَ: وَغَشِیَتْہُ السَّکِینَۃُ وَوَقَعَ فَخِذُہُ عَلَی فَخِذِی حِینَ غَشِیَتْہُ السَّکِینَۃُ، قَالَ زَیْدٌ: فَلَا وَاللّٰہِ! مَا وَجَدْتُ شَیْئًا قَطُّ أَ ثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ فَقَالَ: ((اکْتُبْ یَا زَیْدُ۔)) فَأَ خَذْتُ کَتِفًا فَقَالَ: ((اکْتُبْ {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ} الْآیَۃَ کُلَّہَا إِلَی قَوْلِہِ: {أَ جْرًا عَظِیمًا} فَکَتَبْتُ ذَلِکَ فِی کَتِفٍ، فَقَامَ حِینَ سَمِعَہَا ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ وَکَانَ رَجُلًا أَ عْمٰی فَقَامَ حِینَ سَمِعَ فَضِیلَۃَ الْمُجَاہِدِینَ، قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَکَیْفَ بِمَنْ لَا یَسْتَطِیعُ الْجِہَادَ مِمَّنْ ہُوَ أَعْمٰی وَأَ شْبَاہِ ذَلِکَ؟ قَالَ زَیْدٌ: فَوَاللّٰہِ! مَا مَضٰی کَلَامُہُ أَوْ مَاہُوَ إِلَّا أَنْ قَضٰی کَلَامَہُ، غَشِیَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم السَّکِینَۃُ فَوَقَعَتْ فَخِذُہُ عَلٰی فَخِذِی، فَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِہَا کَمَا وَجَدْتُ فِی الْمَرَّۃِ الْأُولٰی، ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ فَقَالَ: ((اِقْرَأْ۔)) فَقَرَأْتُ عَلَیْہِ {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ} فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ} قَالَ زَیْدٌ: فَأَ لْحَقْتُہَا، فَوَاللّٰہِ! لَکَأَ نِّی أَ نْظُرُ إِلٰی مُلْحَقِہَا عِنْدَصَدْعٍ کَانَ فِی الْکَتِفِ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں بیٹھا تھا، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہونے لگی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرسکون طاری ہو گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ران، میری ران پر تھی، اللہ کی قسم! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ران سے زیادہ بھاری چیز میں نے کبھی محسوس نہیں کی تھی، پھر جب یہ کیفیت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دور ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے زید! لکھو۔ میں نے شانے کی ہڈی لی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آیت لکھو {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ … أَ جْرًا عَظِیمًا} جب سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت سنی جو کہ نابینا آدمی تھے اور انھوں نے سنا کہ اس آیت میں تو مجاہدوں کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتا اس کا کیا ہو گا، مثلاً نابینا وغیرہ؟ سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ابھی تک سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوتے ہوئے جو سکون چھا جاتا تھا، وہ چھا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ران میری ران پرتھی، میں نے اس سے اتنا ہی بوجھ محسوس کیا، جس طرح میں نے اس سے پہلے وحی کی حالت میں محسوس کیا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے وحی کی کیفیت دور ہوئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آیت پڑھو۔ جب میں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ لکھو: {غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ}۔ سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے یہ حصہ اس آیت کے ساتھ ملا دیا، گویا کہ اب بھی میں شانے میں اس آیت والی جگہ پر پھٹن کا نشان دیکھ رہا ہوں۔

8404

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8404

Sahih

۔ (۸۴۰۴)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ اَنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنِ شُمَاسَۃَ اَخْبَرَہٗ: اَنَّزَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ اِذْ قَالَ: ((طُوْبٰی لِلشَّامِ)) قِیْلَ: وَلِمَ ذٰلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((اِنَّ مَلَائِکَۃَ الرَّحْمَۃِ بَاسِطَۃٌ اَجْنِحَتَہَا عَلَیْہٖ)) (مسند احمد: ۲۱۹۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے کپڑے کے ٹکڑوں میں قرآن مجید کی تالیف کر رہے تھے، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شام کے علاقہ کے لئے خوشخبری ہو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رحمت کے فرشتوں نے اس پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔

8405

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8405

Sahih

۔ (۸۴۰۵)۔ عَنْ أَ نَسٍ أَ نَّ رَجُلًا کَانَ یَکْتُبُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَدْ کَانَ قَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ، وَکَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ جَدَّ فِینَایَعْنِی عَظُمَ، فَکَانَ النَّبِیُّ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُیُمْلِی عَلَیْہِ {غَفُورًا رَحِیمًا} فَیَکْتُبُ {عَلِیمًا حَکِیمًا} فَیَقُولُ لَہُ النَّبِیُّ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ: ((اکْتُبْ کَذَا وَکَذَا اکْتُبْ کَیْفَ شِئْتَ۔)) وَیُمْلِی عَلَیْہِ {عَلِیمًا حَکِیمًا} فَیَقُولُ: أَ کْتُبُ {سَمِیعًا بَصِیرًا} فَیَقُولُ: ((اکْتُبْ کَیْفَ شِئْتَ۔)) فَارْتَدَّ ذَلِکَ الرَّجُلُ عَنِ الْإِسْلَامِ فَلَحِقَ بِالْمُشْرِکِینَ وَقَالَ: أَ نَا أَ عْلَمُکُمْ بِمُحَمَّدٍ إِنْ کُنْتُ لَأَ کْتُبُ مَا شِئْتُ، فَمَاتَ ذَلِکَ الرَّجُلُ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْأَ رْضَ لَمْ تَقْبَلْہُ۔)) و قَالَ أَ نَسٌ: فَحَدَّثَنِی أَ بُو طَلْحَۃَ: أَ نَّہُ أَ تَی الْأَرْضَ الَّتِی مَاتَ فِیہَا ذَلِکَ الرَّجُلُ فَوَجَدَہُ مَنْبُوذًا، فَقَالَ أَ بُو طَلْحَۃَ: مَا شَأْنُ ہَذَاالرَّجُلِ؟ قَالُوْا: قَدْ دَفَنَّاہُ مِرَارًا فَلَمْ تَقْبَلْہُ الْأَ رْضُ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے کتابت کرتا تھا، اس نے سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران پڑھی ہوئی تھی اور جو آدمی سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران پڑھ لیتا تھا،وہ ہم میں بڑی قدر و منزلت والا سمجھا جاتا تھا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کو{غَفُورًا رَحِیمًا} تو وہ {عَلِیمًا حَکِیمًا} لکھتا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے فرماتے: ایسے ایسے لکھ، چلو جیسے تیری مرضی لکھ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو {عَلِیمًا حَکِیمًا} لکھواتے، لیکن وہ کہتا: میں تو {سَمِیعًا بَصِیرًا} لکھوں گا۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس طرح تو چاہتا ہے لکھ لے۔ پھر ہوا یوں کہ وہ آدمی اسلام سے مرتد ہوگیا اور مشرکوں کے ساتھ جا ملا اور ان کو کہنے لگا: میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ جاننے والا ہوں میں جو چاہتا تھا، لکھ لیتا تھا۔ پھر وہ مر گیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین اس کو قبول نہیں کرے گی۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیانکیا کہ وہ اس علاقے میں گیا، جس میں وہ آدمی مرا تھا، انھوں نے اس کو اس حال میں دیکھا کہ اس کی میت باہر پھینکی ہوئی پڑی تھی، پس انھوں نے اس کے بارے میں پوچھا کہ اس آدمی کا کیا معاملہ ہے، لوگوں نے کہا:ہم تو اس کو کئی بار دفن کر چکے ہیں، لیکن زمین اس کو قبول نہیں کرتی۔

8405

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8405

Sahih

۔ (۸۴۰۵م)۔ (وَعَنْہُ مِْن طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَانَ مِنَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ، قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ، وَکَانَ یَکْتُبُ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَانْطَلَقَ ہَارِبًا حَتّٰی لَحِقَ بِأَ ہْلِ الْکِتَابِ، قَالَ: فَرَفَعُوہُ، وَقَالُوْا: ہٰذَا کَانَ یَکْتُبُ لِمُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأُعْجِبُوا بِہِ فَمَا لَبِثَ أَنْ قَصَمَ اللّٰہُ عُنُقَہُ فِیہِمْ فَحَفَرُوْا لَہُ فَوَارَوْہُ، فَأَ صْبَحَتِ الْأَرْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْہِہَا، ثُمَّ عَادُوْا فَحَفَرُوا لَہُ فَوَارَوْہُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَ رْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْہِہَا، ثُمَّ عَادُوْا فَحَفَرُوا لَہُ فَوَارَوْہُ، فَأَصْبَحَتِ الْأَ رْضُ قَدْ نَبَذَتْہُ عَلٰی وَجْہِہَا، فَتَرَکُوہُ مَنْبُوذًا۔ (مسند احمد: ۱۳۳۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہمارے قبیلے بنو نجار کا ایک آدمی تھا، اس نے سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران پڑھی تھی اور وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کاتب تھا، لیکن ہوا یوں کہ وہ (مرتدّ ہو کر) بھاگ گیا اور اہل کتاب سے جا ملا، انہوں نے اس کو بڑی شان دی اور کہاکہ یہ شخص تو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کاتب تھا، سو انھیں بڑا تعجب ہوا (کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خلاف بڑی دلیل مل گئی ہے)، لیکن کچھ دنوں کے بعد ہی اللہ تعالی نے اس کا قصہ تمام کر دیا (اور وہ مر گیا)، انہوں نے اسے دفن کرنے کے لئے گڑھا کھودا اور اس میں دفن کر دیا، لیکن جب صبح ہوئی تو دیکھا گیا کہ زمین نے تو اس کو باہر پھینک دیاہے، انہوں نے دوبارہ گڑھا کھودا اور اس کو دفن کیا، لیکن جب صبح ہوئی تو پھر دیکھا گیا کہ زمین نے اس کو پھر پھینک دیا، انہوں نے پھر گڑھا کھودا اور اس کو دفن کیا، لیکن پھر وہی کچھ ہوا کہ زمین نے اس کو باہر پھینک دیا، پس انھوں نے اس کو ایسے ہی سطح زمین پر چھوڑ دیا۔