Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 144 · Chapter 1492

قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان

قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے

7 hadiths in this chapter

8365

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8365

Sahih

۔ (۸۳۶۵)۔ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((زَیِّنُوْا الْقُرْآنَ بِاَصْوَاتِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی آوازوں کے ذریعہ قرآن پاک کو خوبصورت بناؤ۔

8366

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8366

Sahih

۔ (۸۳۶۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَ: ذُکِرَ لَہَا أَ نَّ نَاسًا یَقْرَؤُ وْنَ الْقُرْآنَ فِی اللَّیْلَۃِ مَرَّۃً أَ وْ مَرَّتَیْنِ، فَقَالَتْ: أُولَئِکَ قَرَئُ وْا وَلَمْ یَقْرَئُ وْا، کُنْتُ أَ قُومُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ التَّمَامِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْمُ اللَّیْلَۃَ التَّمَامَ) فَکَانَ یَقْرَأُ سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ وَآلِ عِمْرَانَ وَالنِّسَائِ، فَلَا یَمُرُّ بِآیَۃٍ فِیہَا تَخَوُّفٌ إِلَّا دَعَا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَعَاذَ، وَلَا یَمُرُّ بِآیَۃٍ فِیہَا اسْتِبْشَارٌ إِلَّا دَعَا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَغِبَ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ان کے سامنے ایسے لوگوں کا ذکر کیا گیا، جو ایک رات میں ایک دو دو بار قرآن مجید پڑھ لیتے ہیں، سیدہ نے ان کے بارے میں کہا: ان کا پڑھنا بھی نہ پڑھنے کی طرح ہے، میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ساری رات قیام کرتی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سورۂ بقرہ، سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء پڑھتے تھے اور جب خوف والی آیت کی تلاوت کرتے تواللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور پناہ طلب کرتے اور اگر خوشخبری والی آیت کے پاس سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور اس کے سامنے عاجزانہ درخواست کرتے۔

8367

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8367

Sahih

۔ (۸۳۶۷)۔ عَنِ ابْنِ أَ بِی مُلَیْکَۃَ أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا أَ عْلَمُہَا إِلَّا حَفْصَۃَ سُئِلَتْ عَنْ قِرَائَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: إِنَّکُمْ لَا تُطِیقُونَہَا قَالَتْ: {اَلْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ} تَعْنِی التَّرْتِیلَ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کسی بیوی سے سوال کیا گیا، میرا خیال تو یہی ہے کہ وہ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا، انہوں نے کہا: تم اُس اندازِ تلاوت کی طاقت نہیں رکھتے، پھر انھوں نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ}۔

8368

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8368

Sahih

۔ (۸۳۶۸)۔ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَاَلْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ قِرَائَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَ یَمُدُّ بِہَا صَوْتَہٗمَدًّا،وَفِیْ لَفْظٍ: کَانْتَ قِرَائَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَدًّا یَمُدُّ بِہَا مَدًّا۔ (مسند احمد: ۱۲۲۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ امام قتادہ ‌رحمۃ ‌اللہ ‌علیہ ‌ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت کیسی تھی؟ انھوں نے کہا: آپ کھینچ کھینچ کر اور لمبا کر کے قراء ت کرتے تھے۔

8369

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8369

Sahih

۔ (۸۳۶۹)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مُغَفَّلٍ یَقُولُ: قَرَأَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْفَتْحِ فِی مَسِیرِہِ سُورَۃَ الْفَتْحِ عَلَی رَاحِلَتِہِ، وَقَالَ مَرَّۃً: نَزَلَتْ سُورَۃُ الْفَتْحِ وَہُوَ فِی مَسِیرٍ لَہُ فَجَعَلَ یَقْرَأُ وَہُوَ عَلَی رَاحِلَتِہِ، قَالَ: فَرَجَّعَ فِیہَا قَالَ: فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: لَوْلَا أَنْ أَ کْرَہَ أَنْ یَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَیَّ لَحَکَیْتُ لَکُمْ قِرَائَتَہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ معاویہ بن قرہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے سال اپنے سفر میں سورۂ فتح کی تلاوت کی، اور ایک روایت میں ہے: سورۂ فتح اس وقت نازل ہوئی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر میں تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی سواری پر اس کی تلاوت کی اور بلند آواز میں تلاوت کرتے ہوئے آواز کو گلے میں گھمایا، پھر سیدنا معاویہ رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اگر لوگوں کے مجھ پر جمع ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت نقل کرتا۔

8370

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8370

Sahih

۔ (۸۳۷۰)۔ حَدَّثَنَا شَبَّابَۃُ وَاَبُوْ طَالِبٍ بْنُ جَابَانَ الْقَارِیُّ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَ ھٰذَا الْحَدِیْثِ، قَالَ ابْنُ جَابَانَ فِیْ حَدِیْثِہٖ: آہ آہ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ شبابہ اور ابو طالب بن جابان القاری رحمۃ اللہ علیہما دونوں بیان کرتے ہیں کہ ہم سےشعبہ نے بیان کیا ،انھوں نے معاویہ بن قرہ رحمۃ اللہ علیہ سے ،وہ سیدنا عبداللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور وہ بنی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اوپر والی حدیث کی مانند ہی بیان کرتے ہیں۔ ابن جابان (کی روایت )کے الفاظ یہ ہیں: آء آء یعنی الف کو کھینچ کر پڑھتے تھے۔

8371

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8371

Sahih

۔ (۸۳۷۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: سَمِعْتُہُ یَقْرَأُیَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ، فَلَوْلَا أَ نْ یَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَیَّ لَحَکَیْتُ لَکُمْ قِرَائَۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قَرَأَ سُورَۃَ الْفَتْحِ، قَالَ یَعْنِیْ مُعَاوِیَۃَ بْنَ قُرَّۃَ : لَوْلَا أَ نْ یَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَیَّ لَحَکَیْتُ لَکُمْ مَا قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ یَعْنِی ابْنَ مُغَفَّلٍ کَیْفَ قَرَأَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَالَ بَہْزٌ: وَغُنْدَرٌ قَالَ: فَرَجَّعَ فِیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۶۹۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فتح مکہ والے دن قراء ت کرتے ہوئے سنا، اگر مجھ پر لوگوں کا ہجوم ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراء ت کی نقل اتارتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ فتح پڑھی تھی۔معاویہ بن قرہ نے کہا: اگر مجھ پر لوگوں کے جمع ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے سیدنا عبد اللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بتلائی ہوئی سورت کی نقل اتارتا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیسے تلاوت کی تھی، غندر راوی نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آواز کو گھما کر پڑھا تھا۔