Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 144 · Chapter 1491

قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان

قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب

8 hadiths in this chapter

8357

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8357

Zaeef

۔ (۸۳۵۷)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ اَبِیْہٖ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَرَأَ اَلْفَ آیَۃٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، کُتِبَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَاءِ وَالصَّالِحِیْنَ وَحَسُنَ اُوْلٰئِکَ رَفِیْقًا، اِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاذ بن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو رضائے الٰہی کی خاطر ہزار آیات پڑھے گا، روزِ قیامت اس کا ساتھ انبیائے کرام، صدیقوں، شہیدوں اور نیک لوگوں میں لکھا جائے گا اور ان لوگوں کا ساتھ کتنا ہی اچھا ہے، ان شاء اللہ۔

8358

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8358

Sahih

۔ (۸۳۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اَذِنَ اللّٰہُ لِشَیْئٍ مَا اَذِنَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَتَغَنّٰی بِالْقُرْآنِ، زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: فِیْمَایَجْھَرُ بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۷۶۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی چیز کو اس قدر غور سے نہیں سنا جتنا وہ اپنے نبی کی آواز سننے کے لئے کان لگاتے ہیں، جب وہ قرآن بلند آواز سے پڑھ رہا ہو۔

8359

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8359

Sahih

۔ (۸۳۵۹)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ))، قَالَ وَکِیْعٌ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ): یَعْنِی: یَسْتَغْنِیْ بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۱۵۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناسعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو قرآن پاک گا کر نہیں پڑھتا، وہ ہم سے نہیں ہے۔ وکیع راوی نے اس کا یہ معنی بیان کیا: وہ اس کے ذریعے لوگوں سے مستغنی ہو جاتا ہے۔

8360

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8360

Sahih

۔ (۸۳۶۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْجَاھِرُ بِالْقُرْآنِ کَالْجَاھِرِ بِالصَّدَقَۃِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ کَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَۃِ)) (مسند احمد: ۱۷۵۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کرنے والا اعلانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور پوشیدہ آواز میں تلاوت کرنے والا مخفی انداز میں صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔

8361

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8361

Sahih

۔ (۸۳۶۱)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِرَجُلٍ یُقَالُ لَہُ: ذُوا الْبِجَادَیْنِ: ((اِنَّہٗ اَوَّاہٌ۔)) وَذٰلِکَ اَنَّہٗ کَانَ رَجُلًا کَثِیْرَ الذِّکْرِ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فِی الْقُرْآنِ وَیَرْفَعُ صَوْتَہٗ فِی الدُّعَاءِ۔ (مسند احمد: ۱۷۵۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذو بِجادَین نامی ایک آدمی کے بارے میں فرمایا: بیشک وہ بہت زیادہ گڑگڑانے والا ہے۔ یہ آدمی بہت زیادہ قرآن مجید کی تلاوت کر کے ذکر میں مشغول رہنے والا تھا اور دعا کرتے وقت اپنی آواز کو بلند کرتا تھا۔

8362

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8362

Zaeef

۔ (۸۳۶۲)۔ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: (( لَلّٰہُ أَشَدُّ أَذَنًا إِلَی الرَّجُلِ حَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ مِنْ صَاحِبِ الْقَیْنَۃِ إِلَی قَیْنَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی طرف بہت زیادہ کان لگاتے ہیں، جو قرآن پاک خوبصورت آواز سے پڑھتا ہے، گانے والی کا مالک بھی گانے والی کی طرف اتنا کان نہیں لگاتا۔

8363

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8363

Sahih

۔ (۸۳۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ فَسَمِعَ قِرَأَۃَ رَجُلٍ فَقَالَ: ((مَنْ ھٰذَا؟)) قِیْلَ: عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ قَیْسٍ، فَقَالَ: ((لَقَدْ اُوْتِیَ ھٰذَا مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوٗدَ۔)) (مسنداحمد: ۹۸۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور ایک آدمی کی تلاوت کی آواز سنی اور پوچھا: یہ کون ہے؟ کسی نے کہا: یہ عبداللہ بن قیس ہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تحقیق اس کو داود علیہ السلام کی بانسریاں عطا کی گئی ہیں۔

8364

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8364

Sahih

۔ (۸۳۶۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہٖ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ((اِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ قَیْسٍ الْاَ شْعَرِیِّ اُعْطِیَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوٗدَ۔)) (مسنداحمد: ۲۳۴۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عبداللہ بن قیس اشعری کو داود علیہ السلام کی بانسریوں میں سے ایک بانسری عطا کی گئی ہے۔