Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 141 · Chapter 1463

آداب کی کتاب

سفید بالوں کو کالا رنگ لگانے کی کراہت کا بیان

5 hadiths in this chapter

8211

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8211

Sahih

(۸۲۱۱)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((یَکُونُ قَوْمٌ فِی آخِرِ الزَّمَانِ یَخْضِبُونَ بِہٰذَا السَّوَادِ قَالَ حُسَیْنٌ کَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ لَا یَرِیحُونَ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو بالوں کو سیاہ رنگ سے رنگا کریں گے، جیسے کبوتروں کے سینے کے بال ہوتے ہیں، یہ لوگ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گے۔

8212

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8212

Sahih

(۸۲۱۲)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ خِضَابِ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم لَمْ یَکُنْ شَابَ إِلَّا یَسِیرًا وَلٰکِنَّ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ بَعْدَہُ خَضَبَا بِالْحِنَّاء ِ وَالْکَتَمِ قَالَ وَجَائَ أَبُو بَکْرٍ بِأَبِیہِ أَبِی قُحَافَۃَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ یَحْمِلُہُ حَتّٰی وَضَعَہُ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم لِأَبِی بَکْرٍ: ((لَوْ أَقْرَرْتَ الشَّیْخَ فِی بَیْتِہِ لَأَتَیْنَاہُ مَکْرُمَۃً لِأَبِی بَکْرٍ۔)) فَأَسْلَمَ وَلِحْیَتُہُ وَرَأْسُہُ کَالثَّغَامَۃِ بَیَاضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((غَیِّرُوہُمَا وَجَنِّبُوہُ السَّوَادَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خضاب کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تو معمولی بال سفید ہوئے تھے، البتہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما آپ کے بعد مہندی اور کتم ملا کر خضاب لگایا کرتے تھے۔سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے باپ سیدنا ابو قحافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے کر آئے، یہ فتح مکہ کے دن کی بات ہے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں اٹھایا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے رکھ دیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم بزرگ کو ان کے گھر ہی ٹھہرنے دیتے تو ابو بکر کی عزت افزائی کے لیے ہم خود ہی ان کے پاس چلے جاتے۔ پھر ابو قحافہ نے اسلام قبول کیا، ان کی داڑھی اور سر کے بال ثغامہ بوٹی کی مانند سفید تھے، اس لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے رنگ کو تبدیل کر دو، البتہ سیاہی سے بچو۔

8213

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8213

Sahih

(۸۲۱۳)۔(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٍ) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((غَیِّرُوا الشَّیْبَ وَ لَا تُقَرِّبُوْہُ السَّوَادَ۔)) (مسند احمد: ۱۳۶۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفید بالوں کا رنگ تبدیل کر دو، البتہ سیاہی اس کے قریب نہ کرو۔

8214

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8214

Sahih

(۸۲۱۴)۔عَنْ جَابِرٍ قَالَ جِیئَ بِأَبِی قُحَافَۃَ یَوْمَ الْفَتْحِ إِلَی النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم وَکَأَنَّ رَأْسَہُ ثَغَامَۃٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِذْہَبُوا بِہِ إِلٰی بَعْضِ نِسَائِہِ فَلْیُغَیِّرْہُ بِشَیْئٍ وَجَنِّبُوہُ السَّوَادَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ والے دن سیدنا ابو قحافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا، ان کے سر کے بال ثغامہ بوٹی کی مانند سفید تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کو ان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ، تاکہ وہ ان کے بالوں کو رنگ کر تبدیل کر دے، البتہ ان کو سیاہی سے بچاؤ۔

8215

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8215

Sahih

(۸۲۱۵)۔حَدَّثَنَا اَبُو الْقَاسِمِ بْنُ اَبِی الزَّنَادِ عَنِ الزَّنْجِیِّ قَالَ: رَاَیْتُ الزُّھْرِیَّ صَابِغًا رَاْسَہٗ بِالسَّوَادِ۔ (مسند احمد: ۱۶۷۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ زنجی بیان کرتے ہیں میں نے امام زہری کو دیکھا، انہوں نے سر کے بالوں کو سیاہ رنگ کر رکھا تھا۔