Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 141 · Chapter 1462

آداب کی کتاب

سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان

13 hadiths in this chapter

8198

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8198

Sahih

(۸۱۹۸)۔عَنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((غَیِّرُوْا الشَّیْبَ وَلَا تَشَبَّہُوْا بِالْیَہُوْدِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بالوں کی سفیدی کو تبدیل کرو اور یہودیوں کی مشابہت اختیاور نہ کرو۔

8199

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8199

Sahih

(۸۱۹۹)۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((غَیِّرُوْا الشَّبْبَ، وَلَا تَشَبَّہُوْا بِالْیَھُوْدِ وَلا بِالنَّصَارٰی)) (مسند احمد: ۱۰۴۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفید بالوں کو تبدیل کرو اور یہود و نصاریٰ کی مشابہت اختیار نہ کرو۔

8200

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8200

Sahih

(۸۲۰۰)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((إِنَّ الْیَہُودَ وَالنَّصَارٰی لَا یَصْبُغُونَ فَخَالِفُوہُمْ۔)) قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِی حَدِیثِہِ: قَالَ الزُّہْرِیُّ: وَالْأَمْرُ بِالْأَصْبَاغِ فَأَحْلَکُہَا أَحَبُّ إِلَیْنَا، قَالَ مَعْمَرٌ: وَکَانَ الزُّہْرِیُّ یَخْضِبُ بِالسَّوَادِ۔ (مسند احمد:)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ بالوں کو نہیں رنگتے تم ان کی مخالفت کرو۔ امام زہری نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رنگنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے سخت سیاہ رنگ سب سے زیادہ پسند ہے، امام زہری خود سیاہ رنگ لگاتے تھے۔

8201

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8201

Sahih

(۸۲۰۱)۔عَنْ اَبِیْ رِمْثَۃَ رضي الله عنه قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم یَخْضِبُ بِالْحِنَّائِ وَالْکَتَمِ، وَکَانَ شَعْرُہٗ یَبْلُغُ کَتِفَیْہِ اَوْ مَنْکِبَیْہٖ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو رمثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مہندی اور کتم (پودا) کے ساتھ بال رنگتے تھے، آپ کے بال کندھوں تک پہنچتے تھے۔

8202

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8202

Sahih

(۸۲۰۲)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنْ أَبِی رِمْثَۃَ قَالَ حَجَجْتُ فَرَأَیْتُ رَجُلًا جَالِسًا فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ فَقَالَ أَبِی: تَدْرِی مَنْ ہٰذَا؟ ہٰذَا رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم، فَلَمَّا انْتَہَیْنَا إِلَیْہِ، إِذَا رَجُلٌ ذُو وَفْرَۃٍ بِہِ رَدْعٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: رِدْعٌ مِنْ حِنَّائٍ) وَعَلَیْہِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ، (زَادَ فِیْ رِاوَیَۃٍ: وَرَاَیْتُ الشَّیْبَ اَحْمَرَ)۔ (مسند احمد: ۷۱۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو رمثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ روایت ہے کہ میں نے حج کیا اور میں نے کعبہ کے سائے میں ایک آدمی کو دیکھا، میرے ابا جان نے مجھ سے کہا:کیا تجھے معلوم ہے یہ کون آدمی ہے؟ یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، جب ہم آپ تک پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال کان تک تھے اور بالوں پر مہندی کے نشانات تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو سبز رنگ کی چادریں اوڑھ رکھی تھیں، میں نے دیکھا کہ آپ کے سفید بال مہندی کی وجہ سے سرخ نظر آ رہے تھے۔

8203

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8203

Sahih

(۸۲۰۳)۔عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَوْھَبٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ (زَوْجِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم) فَاَخْرَجَتْ اِلَیْنَا شَعْرًا مِنْ شَعْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم مَخْضُوْبًا بِالْحِنَّائِ وَالْکَتَمِ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں: میں ام المومنین سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا، انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کچھ بال نکالے، وہ مہندی اور کتم سے رنگے ہوئے تھے۔

8204

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8204

Sahih

(۸۲۰۴)۔عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِنَّ اَحْسَنَ مَا غُیِّرَ بِہِ ھٰذَا الشَّیْبُ الْحِنَّائُ وَالْکَتَمُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین چیز، جس سے تم ان سفید بالوں کو تبدیل کرتے ہو، وہ مہندی اور وسمہ ہیں۔

8205

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8205

Zaeef

(۸۲۰۵)۔ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِیِّ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَخِی رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو عَلٰی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّائِ وَأَخِی مَخْضُوبٌ بِالصُّفْرَۃِ فَقَالَ لِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: ہٰذَا خِضَابُ الْإِسْلَامِ وَقَالَ لِأَخِی رَافِعٍ: ہٰذَا خِضَابُ الْإِیمَانِ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا حکم بن عمرو غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں اور میرا بھائی رافع بن عمرو امیر المومنین سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، میں نے بالوں کو مہندی کے ساتھ اورمیرے بھائی نے زرد رنگ کے ساتھ بالوں کو رنگا ہوا تھا۔ مجھ سے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ اسلامی رنگ ہے، اور میرے بھائی رافع سے کہا: یہ ایمانی رنگ ہے۔

8206

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8206

Sahih

(۸۲۰۶)۔عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ ہَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم؟ قَالَ: إِنَّہُ لَمْ یَرَ مِنْ الشَّیْبِ إِلَّا نَحْوًا مِنْ سَبْعَ عَشْرَۃَ أَوْ عِشْرِینَ شَعْرَۃً فِی مُقَدَّمِ لِحْیَتِہِ وَقَالَ إِنَّہُ لَمْ یَشِنْ بِالشَّیْبِ، فَقِیلَ لِأَنَسٍ: أَشَیْنٌ ہُوَ؟ قَالَ کُلُّکُمْ یَکْرَہُہُ وَلٰکِنْ خَضَبَ أَبُو بَکْرٍ بِالْحِنَّاء ِ وَالْکَتَمِ وَخَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّائِ۔ (مسند احمد: ۱۲۸۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حمید کہتے ہیں کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بالوں کو رنگتے تھے۔ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی مبارک کے شروع میں سترہ یا بیس سے زیادہ سفید بال نظر نہیں آتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بڑھاپے کے سفید بالوں کے عیب سے پاک رہے ہیں۔ کسی نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا بڑھاپے کے سفید بال عیب ہیں؟ انھوں نے کہا: بس تم اس کو پسند نہیں کرتے، البتہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مہندی اور وسمہ سے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مہندی سے بالوں کو رنگ کرتے تھے۔

8207

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8207

Sahih

(۸۲۰۷)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ شَہِدَ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم عَلَی الْمَنْحَرِ وَرَجُلًا مِنْ قُرَیْشٍ وَہُوَ یَقْسِمُ أَضَاحِیَّ فَلَمْ یُصِبْہُ مِنْہَا شَیْئٌ وَلَا صَاحِبَہُ فَحَلَقَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم رَأْسَہُ فِی ثَوْبِہِ فَأَعْطَاہُ فَقَسَمَ مِنْہُ عَلٰی رِجَالٍ وَقَلَّمَ أَظْفَارَہُ فَأَعْطَاہُ صَاحِبَہُ قَالَ فَإِنَّہُ لَعِنْدَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّائِ وَالْکَتَمِ یَعْنِی شَعْرَہٗ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن زید بن عبدربہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں قربان گاہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر تھا، قریش کا ایک اور آدمی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قربانی کے جانور تقسیم کر رہے تھے، نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قربانی کا جانور لیا اور نہ اس آدمی نے لیا، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر مبارک منڈوایا اور بال ایک کپڑے میں جمع کیے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ساتھی کو وہ بال دئیے، اس نے انہیں کچھ آدمیوں میں تقسیم کردیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ناخن بھی ترشوا کر اپنے ساتھی کو دئیے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے وہ بال ابھی تک ہمارے پاس موجود ہیں، وہ مہندی اور وسمہ میں رنگے ہوئے ہیں۔

8208

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8208

Sahih

(۸۲۰۸)۔عَنْ اَبِیْ مَالِکٍ الْاَشْجَعِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ اَبِیْ (یَعْنِیْ طَارِقَ بْنَ اَشْیَمَ رضي الله عنه) وَسَاَلْتُہُ فَقَالَ: کَانَ خِضَابُنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم الْوَرْسَ وَالزَّعْفَرَانَ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو مالک اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں ہمارا خضاب ورس بوٹی اور زعفران ہوتا تھا۔

8209

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8209

Zaeef

(۸۲۰۹)۔حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ حَدَّثَتْنِیْ اُمُّ غُرَابٍ عَنْ بُنَانَۃَ قَالَتْ: مَا خَضَبَ عُثْمَانُ قَطُّ (تَعْنِیْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ) رضي الله عنه۔ (مسند احمد: ۵۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ بنا نہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کبھی بالوں کو رنگ نہیں لگایا تھا۔

8210

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8210

Sahih

(۸۲۱۰)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم لَمْ یَخْضِبْ قَطُّ، اِنَّمَا کَانَ الْبَیَاضُ فِیْ مُقَدَّمِ لِحْیَتِہٖ وَفِی الْعَنَفَقَۃِ وَفِی الرَّاْسِ وَفِی الصُّدْغَیْنِ شَیْئًا لَا یُکَادُ یُرٰی، وَاِنّ اَبَا بَکْرٍ خَضَبَ بِالْحِنَّائِ۔ (مسند احمد: ۱۳۲۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا، بس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی مبارک کے سامنے والے حصے میں، داڑھی بچے میں، کنپٹیوں میں اتنے معمولی بال سفید تھے کہ ان کو دیکھنا بھی مشکل ہوتا تھا، البتہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مہندی سے رنگا کرتے تھے۔