Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 140 · Chapter 1453

لباس اور زینت کے مسائل

خواتین کے لئے مہندی لگانے کے مستحبّ ہونے کا بیان

5 hadiths in this chapter

8150

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8150

Zaeef

(۸۱۵۰)۔عَنْ ضَمْرَۃَ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ جَدَّتِہِ عَنِ امْرَأَۃٍ مِنْ نِسَائِہِمْ قَالَ وَقَدْ کَانَتْ صَلَّتْ الْقِبْلَتَیْنِ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَتْ دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: دَخَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم) فَقَالَ لِی: ((اخْتَضِبِی تَتْرُکُ إِحْدَاکُنَّ الْخِضَابَ حَتّٰی تَکُونَ یَدُہَا کَیَدِ الرَّجُلِ۔)) قَالَتْ: فَمَا تَرَکَتِ الْخِضَابَ حَتّٰی لَقِیَتِ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ، وَإِنْ کَانَتْ لَتَخْتَضِبُ، وَإِنَّہَا لَابْنَۃُ ثَمَانِینَ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ضمرہ بن سعید اپنی دادی سے اور وہ اپنے خاندان کی ایک عورت سے بیان کرتی ہیں، اس خاتون نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دو قبلوں کی جانب نماز پڑھی تھی، یہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا: ہاتھ رنگا کرو، عورتیں مہندی کو چھوڑے رکھتی ہیں، یہاں تک کہ ان کا ہاتھ مرد کے ہاتھ کی طرح لگنے لگتا ہے۔ اس فرمان کے بعد اس خاتون نے مہندی کو ترک نہیں کیا، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملی، یہ اس وقت بھی مہندی لگاتی تھی، جس وقت اس کی عمر اسی برس تھی۔

8151

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8151

Sahih

(۸۱۵۱)۔عَنْ عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ رضي الله عنها قَالَتْ: مَدَّتِ امْرَاَۃٌ مِنْ وَرَائِ السَّتْرِ بِیَدِھَا کِتَابًا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَبَضَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم یَدَہٗ وَقَالَ: ((مَا اَدْرِیْ اَیَدُ رَجُلٍ اَوْ یَدُ امْرَاَۃٍ؟)) فَقَالَتْ: بَلِ امْرَاَۃٌ، فَقَالَ: ((لَوْ کُنْتِ امْرَاَۃً لَغَیَّرتِ اَظْفَارَکِ بِالْحِنَّائِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے پردہ کے پیچھے سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جانب ہاتھ پھیلایا، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اور فرمایا: مجھے معلوم نہیں ہے کہ یہ مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا۔ اس نے کہا: جی میں عورت ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو عورت ہے تو مہندی سے اپنے ناخنوں کا رنگ تبدیل کر لیا ہوتا۔

8152

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8152

Zaeef

(۸۱۵۲)۔عَنْ کَرِیمَۃَ ابْنَۃِ ہَمَّامٍ قَالَتْ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، فَأَخْلَوْہُ لِعَائِشَۃَ، فَسَأَلَتْہَا امْرَأَۃٌ مَا تَقُولِی یَا ُٔمَّ الْمُؤْمِنِینَ فِی الْحِنَّاء ِ فَقَالَتْ: کَانَ حَبِیبِی صلى الله عليه وآله وسلم یُعْجِبُہُ لَوْنُہُ وَیَکْرَہُ رِیحَہُ وَلَیْسَ بِمُحَرَّمٍ عَلَیْکُنَّ بَیْنَ کُلِّ حَیْضَتَیْنِ أَوْ عِنْدَ کُلِّ حَیْضَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ کریمہ بنت ہمام کہتی ہیں: میں مسجد حرام میں داخل ہوئی تو میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو تنہا پایا، ایک عورت نے ان سے سوال کیا: اے ام المومنین! مہندی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انھوں نے کہا:میرے پیارے حبیب ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے رنگ کو تو پسند کرتے تھے، لیکن اس کی بو کو ناپسند کرتے تھے، بہرحال یہ حرام نہیں، پاکیزگی کی حالت میں یا حیض کے فارغ ہوتے وقت اس کا اہتمام کیا کرو۔

8153

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8153

Zaeef

(۸۱۵۳)۔(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٍ) قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَۃَ تَقُولُ: یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ! إِیَّاکُنَّ وَقَشْرَ الْوَجْہِ فَسَأَلَتْہَا امْرَأَۃٌ عَنِ الْخِضَابِ فَقَالَتْ لَا بَأْسَ بِالْخِضَابِ وَلٰکِنِّی أَکْرَہُہُ لِأَنَّ حَبِیبِی صلى الله عليه وآله وسلم کَانَ یَکْرَہُ رِیحَہُ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے عورتوں کی جماعت! تم چہروں پر زعفران لگانے سے پرہیز کیا کرو، اتنے میں ایک عورت نے ان سے مہندی کے متعلق سوال کیا، انھوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن میں اسے پسند نہیں کرتی، کیونکہ میرے حبیب ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی بو کو نا پسند کرتے تھے۔

8154

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8154

Sahih

(۸۱۵۴)۔عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَتْ امْرَأَۃُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ تَخْتَضِبُ وَتَتَطَیَّبُ فَتَرَکَتْہُ فَدَخَلَتْ عَلَیَّ فَقُلْتُ لَہَا أَمُشْہِدٌ أَمْ مُغِیبٌ؟ فَقَالَتْ: مُشْہِدٌ کَمُغِیبٍ، قُلْتُ لَہَا: مَا لَکِ؟ قَالَتْ: عُثْمَانُ لَا یُرِیدُ الدُّنْیَا وَلَا یُرِیدُ النِّسَائَ، قَالَتْ عَائِشَۃُ فَدَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَأَخْبَرْتُہُ بِذَلِکَ فَلَقِیَ عُثْمَانَ فَقَالَ: ((یَا عُثْمَانُ! أَتُؤْمِنُ بِمَا نُؤْمِنُ بِہِ؟)) قَالَ: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((فَأُسْوَۃٌ مَا لَکَ بِنَا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) فَاصْنَعْ کَمَا نَصْنَعُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۲۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی مہندی اور خوشبو لگایا کرتی تھیں، لیکن پھر اس نے یہ چیزیں چھوڑ دیں، وہ میرے پاس آئی تو میں نے اس سے پوچھا: کیا تمہارا خاوند گھر پر موجود ہے یا غائب ہے؟ اس نے کہا: حاضر تو ہے، لیکن غائب کی مانند ہے۔ میں نے کہا: کیا مطلب؟ تم کیا کہنا چاہتی ہو؟ اس نے کہا: عثمان نہ دنیا چاہتے ہیں اورنہ عورتوں سے رغبت رکھتے ہیں۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس آئے تو میں نے یہ بات آپ کوبتائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملے اور فرمایا: اے عثمان ! کیا تم اسی طرح ایمان رکھتے ہو، جس طرح ہم ایمان رکھتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر یہ بات ہے تو پھر ہم میں تیرے لیے کوئی نمونہ اور اسوہ نہیں ہے، پس تو اس طرح کر، جیسے ہم کرتے ہیں۔