Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 140 · Chapter 1447

لباس اور زینت کے مسائل

لباس کے معاملے میں شہرت اور کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی ممانعت اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان

13 hadiths in this chapter

8098

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8098

Sahih

(۸۰۹۸)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُہْرَۃٍ فِی الدُّنْیَا اَلْبَسَہُ اللّٰہُ ثَوْبَ مَذَلَّۃٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۵۶۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاجس نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا،اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت ذلت کا لباس پہنائیں گے۔

8099

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8099

Sahih

(۸۰۹۹)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((بَیْنَمَا رَجُلٌ یَجُرُّ اِزَارَہٗ مِنَ الْخُیْلَائِ خُسِفَ ِبہٖ، فَہُوَ یَتَجَلْجَلُ فِی الْاَرْضِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۵۳۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ ایک آدمی تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند زمین پر گھسیٹتا جا رہاتھا تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت تک زمین دھنستا چلا جائے گا۔

8100

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8100

Sahih

(۸۱۰۰)۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم نَحْوُہٗ۔ (مسند احمد: ۷۶۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی گئی ہے۔

8101

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8101

Sahih

(۸۱۰۱)۔عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَنَّاقَ کُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ فِی مَجْلِسِ بَنِی عَبْدِ اللّٰہِ فَمَرَّ فَتًی مُسْبِلًا إِزَارَہُ مِنْ قُرَیْشٍ فَدَعَاہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ بَنِی بَکْرٍ فَقَالَ: تُحِبُّ أَنْ یَنْظُرَ اللّٰہُ تَعَالٰی إِلَیْکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اِرْفَعْ إِزَارَکَ فَإِنِّی سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وآله وسلم وَأَوْمَأَ بِإِصْبَعِہِ إِلٰی أُذُنَیْہِ یَقُولُ: ((مَنْ جَرَّ إِزَارَہُ لَا یُرِیدُ إِلَّا الْخُیَلَائَ لَمْ یَنْظُرِ اللّٰہُ إِلَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۵۳۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مسلم بن یناق کہتے ہیں:میں سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ عبداللہ کے بیٹوں کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک قریشی نوجوان کا وہاں سے گزر ہوا، اس نے اپنا تہبند نیچے لٹکایا ہواتھا، سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اسے بلایا اور کہا: تیرا کس قبیلہ سے تعلق ہے؟ اس نے کہا: بنو بکر سے، انھوں نے کہا:کیا تو پسند کرتا ہے کہ روز قیامت اللہ تعالیٰ تجھے دیکھے؟ اس نے کہا: جی بالکل، انھوں نے کہا: تو پھر اپنا تہبند اوپر کر لو، کیونکہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا کہ جس نے تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند زمین پرکھینچا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔

8102

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8102

Sahih

(۸۱۰۲)۔عَنِ الْحَسَنِ قَالَ بَیْنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ أَصْحَابَہُ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلٰی أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَہُوَ فِی الْمَجْلِسِ فَأَقْبَلَ وَعَلَیْہِ حُلَّۃٌ لَہُ فَجَعَلَ یَمِیسُ فِیہَا حَتّٰی قَامَ عَلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَقَالَ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ! ہَلْ عِنْدَکَ فِی حُلَّتِی ہٰذِہِ مِنْ فُتْیَا، فَرَفَعَ رَأْسَہُ إِلَیْہِ وَقَالَ حَدَّثَنِی الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ خَلِیلِی أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((بَیْنَا رَجُلٌ مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ یَتَبَخْتَرُ بَیْنَ بُرْدَیْنِ فَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ فَأَمَرَ الْأَرْضَ فَبَلَعَتْہُ فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّہُ لَیَتَجَلْجَلُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) اِذْہَبْ أَیُّہَا الرَّجُلُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۰۴۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حسن کہتے ہیں:ایک دفعہ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے ساتھیوں سے بات چیت کر رہے تھے، اچانک ایک آدمی سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ اپنی مجلس میں تھے، اس پر ایک حلہ تھا اور وہ اس میں اترا کے چل رہا تھا، یہاں تک کہ وہ سیدنا بو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آ کر رکا اوراس نے کہا: اے ابو ہریرہ! میری اس پوشاک کے بارے میں آپ کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنا سر اٹھایا اور کہا: مجھے میرے صادق و مصدوق خلیل ابو قاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیان کیا کہ تم سے پہلے ایک آدمی دو چادروں میں اترا کر چلتا ہواجا رہاتھا کہ اللہ پاک اس پر غضبناک ہوئے اور زمین کو حکم دیا، پس اس نے اسے نگل لیا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ قیامت تک زمین میں دھنستا جائے گا۔ اے آدمی توبھی قیامت کے دن تک چلتا جا۔

8103

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8103

Sahih

(۸۱۰۳)۔عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی گئی ہے۔

8104

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8104

Sahih

(۸۱۰۴)۔عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ أَسْلَمَ أَبِی عِمْرَانَ عَنْ ہُبَیْبِ بْنِ مُغْفِلٍ الْغِفَارِیِّ أَنَّہُ رَأٰی مُحَمَّدًا الْقُرَشِیَّ قَامَ یَجُرُّ إِزَارَہُ (وَفِیْ لَفْظٍ: یَجُرُّ رِدَائَہُ خَلْفَہٗ وَیَطَؤُہٗ) فَنَظَرَ إِلَیْہِ ہُبَیْبٌ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُولُ: ((مَنْ وَطِئَہُ خُیَلَائَ وَطِئَہُ فِی النَّارِ (وَفِیْ لَفْظٍ) مَنْ وَطِیَ عَلٰی اِزَارِہٖ خُیَلَائَ وَطِیَ فِیْ نَارِجَہَنَّمَ)) (مسند احمد: ۱۸۲۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ہبیب بن مغفل انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے محمد قریشی کو دیکھا، وہ کھڑاہوا اور اپنا تہبند اپنے پیچھے گھسیٹ رہا تھا اور وہ اس کو روند رہا تھا، سیدنا ہبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کو دیکھا اور کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے کو روندا تو وہ اس کو دوزخ کی آگ میں بھی روندے گا۔

8105

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8105

Sahih

(۸۱۰۵)۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ اَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((لَا یَنْظُرُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلٰی مَنْ جَرَّ اِزَارَہٗ بَطَرًا)) (مسند احمد: ۸۹۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو قاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی طرف نہیں دیکھے گا، جس نے تکبر سے اپنے تہبند کو گھسیٹا۔

8106

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8106

Sahih

(۸۱۰۶)۔عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَۃَ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ قُرْصٍ أَوْ قُرْطٍ إِنَّکُمْ لَتَعْمَلُونَ الْیَوْمَ أَعْمَالًا ہِیَ أَدَقُّ فِی أَعْیُنِکُمْ مِنَ الشَّعْرِ کُنَّا نَعُدُّہَا عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم مِنْ الْمُوبِقَاتِ فَقُلْتُ لِأَبِی قَتَادَۃَ فَکَیْفَ لَوْ أَدْرَکَ زَمَانَنَا ہٰذَا فَقَالَ أَبُو قَتَادَۃَ لَکَانَ لِذٰلِکَ أَقْوَلَ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبادہ بن قرص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تم آج ایسے اعمال کرتے ہو، جو تمہاری آنکھوں میں بال سے بھی زیادہ باریک ہیں، جبکہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد مبارک میں ان کو تباہ کن اور مہلک اعمال تصور کرتے تھے۔ میں نے ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا کہ اگر وہ سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارا زمانہ پا لیتے تو پھر کیا ہوتا؟ انھوں نے کہا: تو پھر وہ اور سخت بات کہتے۔

8107

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8107

Sahih

(۸۱۰۷)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ عُبَادَۃُ بْنُ قُرْطٍ إِنَّکُمْ لَتَأْتُونَ أُمُورًا ہِیَ أَدَقُّ فِی أَعْیُنِکُمْ مِنَ الشَّعَرِ کُنَّا نَعُدُّہَا عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم الْمُوبِقَاتِ قَالَ فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ فَقَالَ صَدَقَ وَأَرٰی جَرَّ الْإِزَارِ مِنْہَا (مسند احمد: ۲۱۰۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا عبادہ بن قرط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم ایسے ایسے امور سر انجام دے رہے ہو کہ وہ تمہاری نگاہوں میں تو بال سے بھی زیادہ باریک ہیں، لیکن ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں ان کو تباہ کن گناہ سمجھتے تھے۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں: انھوں نے یہ بات سچی بیان کی ہے اور میرا خیال ہے کہ تہبند لٹکانا بھی اسی کی ایک مثال ہے۔

8108

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8108

Zaeef

(۸۱۰۸)۔عَنْ عَطَاء ِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ بَیْنَمَا رَجُلٌ یُصَلِّی وَہُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَہُ إِذْ قَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اذْہَبْ فَتَوَضَّأْ۔)) قَالَ فَذَہَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اذْہَبْ فَتَوَضَّأْ۔)) قَالَ فَذَہَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَائَ فَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا لَکَ أَمَرْتَہُ یَتَوَضَّأُ ثُمَّ سَکَتَّ قَالَ إِنَّہُ کَانَ یُصَلِّی وَہُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَہُ وَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یَقْبَلُ صَلَاۃَ عَبْدٍ مُسْبِلٍ إِزَارَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۷۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عطاء بن یسار ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک آدمی نماز پڑھ رہاتھا، جبکہ اس کا ازار اس کے ٹخنوں سے نیچے تک لٹک رہا تھا، کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تو جا اور وضو کر۔ پس وہ گیا اور وضو کر کے آ گیا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: تو جا اور پھر وضو کر۔ پس وہ گیا اور وضو کر کے آ گیا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کیا ہے کہ آپ نے اس کو وضو کرنے کا حکم دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہلے تو خاموش ہو گئے، لیکن پھر فرمایا: اس نے تہبند نیچے لٹکایا ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ اس بندے کی نماز قبول نہیں کرتا جس نے تہبند نیچے لٹکایا ہوا ہو۔

8109

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8109

Sahih

(۸۱۰۹)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِنَّ اللّٰہَ لَا یَنْظُرُ اِلٰی مُسْبِلٍ۔)) (مسند احمد: ۲۹۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی طرف نہیں دیکھتا جس نے تہبند لٹکایا ہوا ہو۔

8110

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8110

Sahih

(۸۱۱۰)۔عَنْ خُرَیْمِ بْنِ فَاتِکٍ الْأَسَدِیِّ قَالَ قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ یَا خُرَیْمُ! لَوْلَا خُلَّتَانِ فِیکَ۔)) قُلْتُ: وَمَا ہُمَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((إِسْبَالُکَ إِزَارَکَ وَإِرْخَاؤُکَ شَعْرَکَ)) (مسند احمد: ۱۹۲۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا خریم بن فاتک اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے خریم! تو بڑا اچھا آدمی ہے، کاش اگر تجھ میں دو عادتیں نہ ہوتیں۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکانا اور بال زیادہ لمبے رکھنا۔