Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 140 · Chapter 1445

لباس اور زینت کے مسائل

گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان

19 hadiths in this chapter

8077

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8077

Sahih

(۸۰۷۷)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنِ الصُّوَرِ فِی الْبَیْتِ وَنَہَی الرَّجُلَ أَنْ یَصْنَعَ ذٰلِکَ وَأَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ زَمَنَ الْفَتْحِ وَہُوَ بِالْبَطْحَاء ِ أَنْ یَأْتِیَ الْکَعْبَۃَ فَیَمْحُوَ کُلَّ صُورَۃٍ فِیہَا وَلَمْ یَدْخُلِ الْبَیْتَ حَتّٰی مُحِیَتْ کُلُّ صُورَۃٍ فِیہِ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) فَبَلَّ عُمَرُ ثَوْبًا وَمَحَاھَا فَدَخَلَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم وَمَا فِیْھَا مِنْہَا شَیْئٌ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھر میں تصویروں سے اور اس سے منع فرمایا کہ آدمی تصویریں بنائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے دن سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ کعبہ میں جائیں اور اس میں موجود ہر تصویر کو مٹا دیں، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادیٔ بطحاء میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت تک بیت اللہ میں داخل نہ ہوئے، جب تک اس میں موجود تمام تصویریں مٹا نہ دی گئیں۔ایک روایت میں ہے: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کپڑا بھگویا اور ان تمام تصویروں کو مٹا ڈالا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس میں ایک تصویر بھی باقی نہیں تھی۔

8078

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8078

Sahih

(۸۰۷۸)۔عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہُ بَعَثَ عَامِلَ شُرْطَتِہِ فَقَالَ: لَہُ أَتَدْرِی عَلٰی مَا أَبْعَثُکَ؟ عَلٰی مَا بَعَثَنِی عَلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم أَنْ أَنْحِتَ کُلَّ یَعْنِی صُورَۃً وَأَنْ أُسَوِّیَ کُلَّ قَبْرٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی پولیس کا ایک عامل بھیجا اور اس سے کہا: کیا تجھے یہ پتہ ہے میں تجھے کس مہم پر بھیج رہا ہوں؟ اس کام پر جس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا تھا کہ میں ہر تصویر کو مٹا دوں اور ہر قبر کو برابر کردوں۔

8079

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8079

Sahih

(۸۰۷۹)۔عَنْ سَفِیْنَۃَ أَنَّ رَجُلًا ضَافَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ فَصَنَعُوا لَہُ طَعَامًا فَقَالَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا: لَوْ دَعْونَا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَکَلَ مَعَنَا فَأَرْسَلُوا إِلَیْہِ فَجَائَ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَیِ الْبَابِ فَإِذَا قِرَامٌ قَدْ ضُرِبَ بِہِ فِی نَاحِیَۃِ الْبَیْتِ فَلَمَّا رَآہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجَعَ فَقَالَتْ فَاطِمَۃُ لِعَلِیٍّ: اِتْبَعْہُ فَقُلْ لَہُ مَا رَجَعَکَ، قَالَ: فَتَبِعَہُ فَقَالَ: مَا رَجَعَکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((إِنَّہُ لَیْسَ لِی أَوْ لَیْسَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَدْخُلَ بَیْتًا مُزَوَّقًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کامیزبان بنا،انھوں نے اس کے لئے کھانا تیار کیا، سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اگر ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھی دعوت دے دیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ہمارے ساتھ کھانا کھائیں (تو بہتر ہو گا)، سو انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف پیغام بھیجا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے، آپ ابھی دروازے کی چوکھٹ پر ہی تھے کہ گھر کے کونے میں لٹکایا ہوا ایک پردہ دیکھا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ پر دہ دیکھا، تو واپس تشریف لے گئے۔ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے چلو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مل کر پوچھو کہ آپ کس چیز کی وجہ سے واپس جا رہے ہیں، پس وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ واپس کیوں تشریف لے جا رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے لیے یا نبی کے لئے مناسب نہیں کہ اس طرح کے مزین گھر میں داخل ہو۔

8080

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8080

Sahih

(۸۰۸۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ أَنَّہَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَۃً فِیہَا تَصَاوِیرُ فَلَمَّا رَآہَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَی الْبَابِ فَلَمْ یَدْخُلْ فَعَرَفْتُ فِی وَجْہِہِ الْکَرَاہِیَۃَ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتُوبُ إِلَی اللّٰہِ وَإِلٰی رَسُولِہِ مَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((مَا بَالُ ہٰذِہِ النُّمْرُقَۃِ؟)) فَقُلْتُ: اِشْتَرَیْتُہَا لِتَقْعُدَ عَلَیْہَا وَلِتَوَسَّدَہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ أَصْحَابَ ہٰذِہِ الصُّورِ یُعَذَّبُونَ بِہَا یُقَالُ لَہُمْ أَحْیُوا مَا خَلَقْتُمْ۔)) وَقَالَ: ((إِنَّ الْبَیْتَ الَّذِی فِیہِ الصُّورَۃُ لَا تَدْخُلُہُ الْمَلَائِکَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۶۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے ایک چھوٹا سا تکیہ خریدا، اس میں تصوریں تھیں، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دروازے پر کھڑے ہوگئے اور اندر داخل نہ ہوئے، میں آپ کے چہرۂ مبارک سے ناراضگی بھانپ گئی اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا گناہ کیا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس تکیے کا کیا معاملہ ہے؟ میں نے عرض کی: میں نے یہ خریدا ہے تا کہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان تصویر والوں کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے تصویریں بنائی تھیں، اب ان کو زندہ کرو، اور جس گھر میں یہ تصویر ہو، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔

8081

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8081

Sahih

(۸۰۸۱)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتٰی فَاطِمَۃَ فَوَجَدَ عَلٰی بَابِہَا سِتْرًا فَلَمْ یَدْخُلْ عَلَیْہَا وَقَلَّمَا کَانَ یَدْخُلُ إِلَّا بَدَأَ بِہَا قَالَ فَجَائَ عَلِیٌّ فَرَآہَا مُہْتَمَّۃً فَقَالَ: مَا لَکِ؟ فَقَالَتْ جَائَ إِلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ یَدْخُلْ عَلَیَّ فَأَتَاہُ عَلِیٌّ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ فَاطِمَۃَ اشْتَدَّ عَلَیْہَا أَنَّکَ جِئْتَہَا فَلَمْ تَدْخُلْ عَلَیْہَا؟ فَقَالَ: ((وَمَا أَنَا وَالدُّنْیَا وَمَا أَنَا وَالرَّقْمُ۔)) قَالَ فَذَہَبَ إِلٰی فَاطِمَۃَ فَأَخْبَرَہَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فَقُلْ لِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: فَمَا تَأْمُرُنِی بِہِ؟ فَقَالَ: ((قُلْ لَہَا تُرْسِلُ بِہِ إِلٰی بَنِی فُلَانٍ۔)) (مسند احمد: ۴۷۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئے اور ان کے دروازے پر پردہ پایا، پس اس وجہ سے وہ اندر داخل نہ ہوئے، حالانکہ ایسا کم ہی ہوتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آئیں اور سب سے پہلے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر نہ جائیں، جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گھر آئے تو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو پریشان دیکھا اور پوچھا: کیا بات ہے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری طرف تشریف تو لائے لیکن میرے پاس گھر میں داخل نہیں ہوئے، یہ سن کر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! فاطمہ پر یہ بات بہت گراں گزری ہے کہ آپ تشریف لے بھی گئے، لیکن گھر میں داخل نہ ہوئے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق ہے؟ میرا نقش و نگار سے کیا واسطہ ہے؟ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ سن کر سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئے اور ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پیغام پہنچایا، انھوں نے کہا: تم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھو کہ اب میرے لئے کیا حکم ہے؟ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فاطمہ سے کہو کہ یہ کپڑا بنو فلاں کے پاس بھیج دے۔

8082

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8082

Zaeef

(۸۰۸۲)۔عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ آخِرُ عَہْدِہِ بِإِنْسَانٍ فَاطِمَۃُ وَأَوَّلُ مَنْ یَدْخُلُ عَلَیْہِ إِذَا قَدِمَ فَاطِمَۃُ قَالَ فَقَدِمَ مِنْ غَزَاۃٍ لَہُ فَأَتَاہَا فَإِذَا ہُوَ بِمِسْحٍ عَلٰی بَابِہَا وَرَأٰی عَلَی الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ قَلْبَیْنِ مِنْ فِضَّۃٍ فَرَجَعَ وَلَمْ یَدْخُلْ عَلَیْہَا فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِکَ فَاطِمَۃُ ظَنَّتْ أَنَّہُ لَمْ یَدْخُلْ عَلَیْہَا مِنْ أَجْلِ مَا رَأٰی فَہَتَکَتِ السِّتْرَ وَنَزَعَتِ الْقَلْبَیْنِ مِنِ الصَّبِیَّیْنِ فَقَطَعَتْہُمَا فَبَکَی الصَّبِیَّانِ فَقَسَمَتْہُ بَیْنَہُمَا فَانْطَلَقَا إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُمَا یَبْکِیَانِ فَأَخَذَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْہُمَا فَقَالَ: ((یَا ثَوْبَانُ! اذْہَبْ بِہٰذَا إِلٰی بَنِی فُلَانٍ أَہْلُ بَیْتٍ بِالْمَدِینَۃِ وَاشْتَرِ لِفَاطِمَۃَ قِلَادَۃً مِنْ عَصَبٍ وَسِوَارَیْنِ مِنْ عَاجٍ فَإِنَّ ہٰؤُلَاء ِ أَہْلُ بَیْتِی وَلَا أُحِبُّ أَنْ یَأْکُلُوا طَیِّبَاتِہِمْ فِی حَیَاتِہِمُ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو سب سے آخر میں سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ملتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ملاقات کرتے، اسی طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک غزوہ سے واپس آئے تو حسب ِ دستور سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ملنے گئے، اچانک نظر پڑی تو ان کے دروازے پر پردہ دیکھا اور حسن و حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو دیکھا کہ انھوں نے چاندی کے کنگن پہنے ہوئے ہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ملے بغیر واپس تشریف لے گئے اور ان کے پاس داخل نہ ہوئے، جب سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے دیکھا تو خیال کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو کچھ دیکھا ہے، اس کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم داخل نہیں ہوئے، انہوں نے وہ پردہ پھاڑ دیا اور بچوں کے ہاتھوں سے کنگن اتار لئے اور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، بچے رونے لگے، انھوں نے دونوں میں ان کے حصے بانٹ دئیے، وہ دونوں روتے ہوئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ چاندی بچوں سے لے لی اور مجھ سے فرمایا: اے ثوبان! یہ بنو فلاں کے پاس لے جاؤ اور ان سے ان کے عوض فاطمہ کے لیے حیوان کے پٹھوں کا ہار اور عاج کے دو کنگن بچوں کے لئے خرید لاؤ، یہ میرے اہل بیت ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ یہ اپنی نیکیوں کو دنیا میں ہی استعمال کر لیں۔

8083

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8083

Zaeef

(۸۰۸۳)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ کَتَبَ إِلَیَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَنْ أَنْسَخَ إِلَیْہِ وَصِیَّۃَ فَاطِمَۃَ فَکَانَ فِی وَصِیَّتِہَا السِّتْرُ الَّذِی یَزْعُمُ النَّاسُ أَنَّہَا أَحْدَثَتْہُ وَأَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَیْہَا فَلَمَّا رَآہُ رَجَعَ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ محمد بن علی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عمر بن عبد العزیز نے میری طرف یہ خط لکھا کہ میں ان کے لیے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی وصیت تحریر کر کے بھیجوں، پس ان کی وصیت میں وہ پردہ بھی تھا، جس کے بارے میں لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ انھوں نے اس کو لگایا تھا، تو جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس گئے تو اس پردے کو دیکھ کر واپس چلے گئے۔

8084

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8084

Sahih

(۸۰۸۴)۔ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا لَیْثٌ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ وَہُوَ مُتَّکِیئٌ عَلَی وِسَادَۃٍ فِیہَا تَمَاثِیلُ طَیْرٍ وَوَحْشٍ، فَقُلْتُ: أَلَیْسَ یُکْرَہُ ہٰذَا؟ قَالَ: لَا إِنَّمَا یُکْرَہُ مَا نُصِبَ نَصْبًا، حَدَّثَنِی أَبِی عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((مَنْ صَوَّرَ صُورَۃً عُذِّبَ وَقَالَ حَفْصٌ مَرَّۃً کُلِّفَ أَنْ یَنْفُخَ فِیہَا وَلَیْسَ بِنَافِخٍ)) (مسند احمد: ۶۳۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ لیث کہتے ہیں: میں سالم بن عبداللہ کے پاس گیا، وہ ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، جبکہ اس تکیے میں پرندوں اور وحشی جانوروں کی تصاویر تھیں، میں نے کہا: یہ تو مکروہ نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، مکروہ صورت وہ ہے، جس میں تصویریں سیدھی رکھی گئی ہوں، سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے مجھے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے تصاویربنائیں، اس کو عذاب دیا جائے گا اور اس کو یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ ان میں روح پھونکے، جبکہ وہ اس میں روح پھونک نہیں سکے گا۔

8085

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8085

Sahih

(۸۰۸۵)۔عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ لَنَا سِتْرٌ فِیہِ تِمْثَالُ طَائِرٍ، فَکَانَ الدَّاخِلُ إِذَا دَخَلَ اسْتَقْبَلَہُ، فَقَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((یَا عَائِشَۃُ حَوِّلِی ہٰذَا فَإِنِّی کُلَّمَا دَخَلْتُ فَرَأَیْتُہُ ذَکَرْتُ الدُّنْیَا)) وَکَانَتْ لَہُ قَطِیفَۃٌ کُنَّا نَقُولُ عَلَمُہَا مِنْ حَرِیرٍ فَکُنَّا نَلْبَسُہَا (مسند احمد: ۲۴۷۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمارا ایک پردہ تھا، اس میں پرندے کی تصویر تھی، جب اندر آنے والا آتا تو وہ اسے سامنے نظر آتا تھا، ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! اسے پھیر دو، میں جب بھی داخل ہوتا ہوں اور اس کو دیکھتاہوں تو مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک چادر تھی، اس پر ریشم کے نشانات تھے، ہم وہ پہن لیتی تھیں۔

8086

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8086

Sahih

(۸۰۸۶)۔(وَعَنْہَا اَیْضًا) اَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم لَمْ یَکُنْ یَتْرُکْ فِیْ بَیْتِہٖ شَیْئًا (وَفِیْ لَفْظٍ: ثَوْبًا) فِیْہِ تَصْلِیْبٌ اِلَّا قَضَبَہٗ۔ (مسند احمد: ۲۶۵۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر میں کوئی ایسی چیزنہ رہنے دیتے تھے جس میں صلیب کا نشان ہو، مگر اس کو کاٹ دیتے تھے۔

8087

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8087

Sahih

(۸۰۸۷)۔عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِی دَقِرَۃُ أُمُّ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أُذَیْنَۃَ قَالَتْ کُنَّا نَطُوفُ بِالْبَیْتِ مَعَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ فَرَأَتْ عَلَی امْرَأَۃٍ بُرْدًا فِیہِ تَصْلِیبٌ، فَقَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِینَ: اِطْرَحِیہِ اِطْرَحِیہِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم کَانَ إِذَا رَأَی نَحْوَ ہٰذَا قَضَبَہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ام عبدالرحمن دقرہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہی تھیں، انہوں نے ایک عورت پر ایسی چادر دیکھی، جس میں صلیب کا نشان تھا۔ سیدہ نے کہا:اس کو پھینک دو، اس کو پھینک دو،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اس کو دیکھتے تو کاٹ دیتے تھے۔

8088

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8088

Sahih

(۸۰۸۸)۔عَنْ اَنَسٍ قَالَ: کانَ قِرَامٌ لِعَائِشَۃَ رضي الله عنها قَدْ سَتَرَتْ بِہٖ جَانِبَ بَیْتِہَا، فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اَمِیْطِیْ عَنَّا قِرَامَکِ ھٰذَا، فَاِنَّ تَصَاوِیْرَہٗ تَعْرِضُ لِیْ فِیْ صَلَاتِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنے گھر کے کونے میں ایک پردہ لٹکا رکھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! یہ پردہ ہم سے دور کر دو، اس کی تصاویر نماز میں میرے سامنے آتی رہی ہیں۔

8089

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8089

Sahih

(۸۰۸۹)۔عَنْ عَائِشَۃَ دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم وَقَدِ اسْتَتَرْتُ بِقِرَامٍ فِیہِ تَمَاثِیلُ فَلَمَّا رَآہُ تَلَوَّنَ وَجْہُہُ وَقَالَ مَرَّۃً تَغَیَّرَ وَجْہُہُ وَہَتَکَہُ بِیَدِہِ وَقَالَ: ((أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الَّذِینَ یُضَاہُونَ بِخَلْقِ اللّٰہِ جَلَّ وَعَزَّ أَوْ یُشَبِّہُونَ۔)) قَالَ سُفْیَانُ سَوَائٌ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس آئے، جبکہ میں نے تصاویر والا ایک پردہ لٹکا رکھا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دیکھا تو آپ کا چہرہ غصے سے تبدیل ہوگیا اور اس پردے کو اپنے دست مبارک سے پھاڑ ڈالا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں روزِ قیامت لوگوں میں سب سے سخت عذاب ان کو ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے مشابہت اختیار کرتے ہیں (یعنی تصویریں بناتے ہیں)۔ امام سفیان نے کہا: دونوں الفاظ کا ایک ہی معنی ہے۔

8090

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8090

Sahih

(۸۰۹۰)۔(وَعَنْہَا اَیْضًا) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: اتَّخَذْتُ دُرْنُوکًا فِیہِ الصُّوَرُ (وَفِیْ لَفْظٍ: فِیْہِ الْخَیْلُ اُوْلَاتِ الْاَجْنِحَۃِ) فَجَائَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَہَتَکَہُ وَقَالَ: ((إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الَّذِینَ یُشَبِّہُونَ بِخَلْقِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۵۰۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے ایک پردہ بنایا جس میں تصویریں تھیں، ایک روایت میں ہے: اس میں پروں والے گھوڑے تھے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آئے اور اسے چاک کر دیا اور فرمایا: روزِ قیامت لوگوں میں سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو ہوگا، جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے مشابہ چیز بناتے ہیں۔

8091

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8091

Sahih

(۸۰۹۱)۔عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ جَعَلْتُ عَلٰی بَابِ بَیْتِی سِتْرًا فِیہِ تَصَاوِیرُ فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم لِیَدْخُلَ نَظَرَ إِلَیْہِ فَہَتَکَہُ قَالَتْ فَأَخَذْتُہُ فَقَطَعْتُ مِنْہُ نُمْرُقَتَیْنِ فَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَرْتَفِقُہُمَا۔ (مسند احمد: ۲۵۲۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنے دروازہ پر پردہ لٹکایا، اس میں تصویریں تھیں، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم داخل ہونے کے لئے تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ پردہ دیکھا اور پھر اس کو چاک کر دیا، میں نے وہ پکڑا اور اس کو کاٹ کر دو تکیے بنا لئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان پر ٹیک لگاتے تھے۔

8092

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8092

Zaeef

(۸۰۹۲)۔عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا اشْتَرَتْ نَمَطًا فِیہِ تَصَاوِیرُ فَأَرَادَتْ أَنْ تَصْنَعَہُ حَجَلَۃً فَدَخَلَ عَلَیْہَا النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم فَأَرَتْہُ إِیَّاہُ وَأَخْبَرَتْہُ أَنَّہَا تُرِیدُ أَنْ تَصْنَعَہُ حَجَلَۃً فَقَالَ لَہَا: ((اِقْطَعِیہِ وِسَادَتَیْنِ۔)) قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَکُنْتُ أَتَوَسَّدُہُمَا وَیَتَوَسَّدُہُمَا النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم۔ (مسند احمد: ۲۵۳۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک باریک سی چادر خریدی، اس میں تصویریں تھیں، ان کا ارادہ تھا کہ اس سے دلہن خانہ بناؤں گی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو انہوں نے آپ کو وہ پردہ دکھایا اور بتایا کہ وہ اس سے دلہن خانہ بنانا چاہتی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے دو تکیے بنا لو۔ وہ کہتی ہیں: پس میں نے ایسے ہی کیا، پھر میں اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دونوں ان تکیوں پر ٹیک لگاتے تھے۔

8093

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8093

Sahih

(۸۰۹۳)۔عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِی طَلْحَۃَ صَاحِبِ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم أَنَّہُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَۃُ بَیْتًا فِیہِ صُورَۃٌ۔)) قَالَ بُسْرٌ ثُمَّ اشْتَکٰی فَعُدْنَاہُ فَإِذَا عَلٰی بَابِہِ سِتْرٌ فِیہِ صُورَۃٌ فَقُلْتُ لِعُبَیْدِ اللّٰہِ الْخَوْلَانِیِّ رَبِیبِ مَیْمُونَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم أَلَمْ یُخْبِرْنَا وَیَذْکُرِ الصُّوَرَ یَوْمَ الْأَوَّلِ، فَقَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ: أَلَمْ تَسْمَعْہُ یَقُولُ قَالَ إِلَّا رَقْمٌ فِی ثَوْبٍ قَالَ ہَاشِمٌ أَلَمْ یُخْبِرْنَا زَیْدٌ عَنِ الصُّوَرِ یَوْمَ الْأَوَّلِ فَقَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ أَلَمْ تَسْمَعْہُ حِینَ قَالَ إِلَّا رَقْمٌ فِی ثَوْبٍ وَکَذَا قَالَ یُونُسُ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ زید بن خالد سے مروی ہے کہ صحابیٔ رسول سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر ہو۔ بسر کہتے ہیں: پھر زید بن خالد بیمار ہو گئے اور ہم ان کی تیمارداری کے لئے گئے اور دیکھا کہ ان کے دروازے پر پردہ لگا ہوا تھا، اس میں تصویر تھی، میں نے سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پروردہ عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا انہوں نے ہمیں گزشتہ دنوں میں تصویروں کی مذمت بیان نہیں کی تھی؟ لیکن اب ان کے دروازے پر پردہ تصویر والا ہے، عبید اللہ نے کہا: کیا تم نے یہ نہیں سنا تھا کہ انہوں نے کہا تھا کہ کپڑے میں نقش و نگار کی اجازت ہے؟ ہاشم نے کہا: کیا زید نے ہمیں گزشتہ دنوں بتایا نہیں تھا کہ تصویر نا جائز ہے تو عبید اللہ نے کہا: کیا تم نے یہ نہیں سنا تھا کہ کپڑے میں نقش و نگار مستثنی ہے۔

8094

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8094

Sahih

(۸۰۹۴)۔عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّہُ دَخَلَ عَلٰی أَبِی طَلْحَۃَ الْأَنْصَارِیِّ یَعُودُہُ قَالَ فَوَجَدْنَا عِنْدَہُ سَہْلَ بْنَ حُنَیْفٍ قَالَ فَدَعَا أَبُو طَلْحَۃَ إِنْسَانًا فَنَزَعَ نَمَطًا تَحْتَہُ فَقَالَ لَہُ سَہْلُ بْنُ حُنَیْفٍ لِمَ تَنْتَزِعُہُ قَالَ لِأَنَّ فِیہِ تَصَاوِیرَ وَقَدْ قَالَ فِیہَا رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم مَا قَدْ عَلِمْتَ، قَالَ سَہْلٌ: أَوَلَمْ یَقُلْ إِلَّا مَا کَانَ رَقْمًا فِی ثَوْبٍ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنَّہُ اَطْیَبُ لِنَفْسِیْ۔ (مسند احمد: ۱۶۰۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبید اللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیاِ ان کی تیمارداری کیِ ان کے پاس سہل بن حنیف کو پایا، ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک انسان کو بلایا اس نے ان کے نیچے سے چادر نکالی، سیدنا سہل نے ان سے کہا: اسے کیوں نکالتے ہو؟ کہا اس میں تصویریں ہیں اور تصویروں کے بارے میں جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان ہے وہ تمہیں معلوم ہی ہے، سہل نے کہا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کپڑے میں تصویر کو مستثنیٰ کیا ہے، انھوں نے کہا: ٹھیک ہے، لیکن میرا دل اسی طرح مطمئن ہے۔

8095

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8095

Zaeef

(۸۰۹۵)۔عَنْ شُعْبَۃَ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ دَخَلَ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَعُودُہُ مِنْ وَجَعٍ وَعَلَیْہِ بُرْدُ إِسْتَبْرَقٍ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا عَبَّاسٍ! مَا ہٰذَا الثَّوْبُ؟ قَالَ: وَمَا ہُوَ؟ قَالَ: ہٰذَا الْإِسْتَبْرَقُ، قَالَ: وَاللّٰہِ مَا عَلِمْتُ بِہِ وَمَا أَظُنُّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنْ ہٰذَا حِینَ نَہٰی عَنْہُ إِلَّا لِلتَّجَبُّرِ وَالتَّکَبُّرِ وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللّٰہِ کَذٰلِکَ، قَالَ: فَمَا ہٰذِہِ التَّصَاوِیرُ فِی الْکَانُونِ؟ قَالَ: أَلَا تَرٰی قَدْ أَحْرَقْنَاہَا بِالنَّارِ، فَلَمَّا خَرَجَ الْمِسْوَرُ، قَال:َ انْزَعُوا ہٰذَا الثَّوْبَ عَنِّی وَاقْطَعُوا رُئُ وْسَ ہَذِہِ التَّمَاثِیلِ، قَالُوا یَا أَبَا عَبَّاسٍ لَوْ ذَہَبْتَ بِہَا إِلَی السُّوقِ کَانَ أَنْفَقَ لَہَا مَعَ الرَّأْسِ قَالَ: لَا، فَأَمَرَ بِقَطْعِ رُئُوسِہَا۔ (مسند احمد: ۲۹۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ شعبہ سے مروی ہے کہ سیدنا مسوربن مخرمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی تکلیف کی وجہ سے ان کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس گئے، ان پر ریشم کی چادر تھی، میں (مسور) نے کہا، اے ابو عباس! یہ کپڑا کیوں؟ انھوں نے کہا: کیا ہوا؟ میں نے کہا: یہ تو ریشم ہے، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو پتہ نہیں تھا، لیکن میرا خیال یہ ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بڑائی اور تکبر کی وجہ سے ریشم سے منع کیا ہے اور ہم الحمد اللہ ایسے نہیں ہیں۔ میں نے کہا: تو آتش دان میں یہ تصویریں کیسی ہیں؟ انھوں نے کہا: تم دیکھ نہیں رہے کہ ہم ان کو آگ میں جلانے لگے ہیں۔ جب مسور نکل کر چلے گئے تو انھوں نے کہا: یہ کپڑا مجھ سے اتار دو اور ان تصوریروں کے سرکاٹ دو، لوگوں نے کہا: اے ابن عباس! اگر آپ اسے بازار میں لے جائیں تو یہ سروں سمیت جلدی اور اچھی قیمت میں فروخت ہو جائیں گے، انھوں نے کہا: نہیں، پھر ان تصویروں کے سر کاٹنے کا حکم دیا۔