Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 140 · Chapter 1443

لباس اور زینت کے مسائل

اس چیز کا بیان کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر، یا کتا، یا جنابت والا آدمی ہو

7 hadiths in this chapter

8063

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8063

Zaeef

(۸۰۶۳)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ نُجَیٍّ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ لِی عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: کَانَتْ لِی مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْزِلَۃٌ لَمْ تَکُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ إِنِّی کُنْتُ آتِیہِ کُلَّ سَحَرٍ فَأُسَلِّمُ عَلَیْہِ حَتّٰی یَتَنَحْنَحَ وَإِنِّی جِئْتُ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((عَلٰی رِسْلِکَ یَا أَبَا حَسَنٍ حَتّٰی أَخْرُجَ إِلَیْکَ۔)) فَلَمَّا خَرَجَ إِلَیَّ قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَغْضَبَکَ أَحَدٌ؟ قَالَ: ((لَا۔)) قُلْتَُ فَمَا لَکَ لَا تُکَلِّمُنِی فِیمَا مَضٰی حَتَّی کَلَّمْتَنِی اللَّیْلَۃَ قَالَ: ((سَمِعْتُ فِی الْحُجْرَۃِ حَرَکَۃً، فَقُلْتُ مَنْ ہٰذَا۔ فَقَالَ: أَنَا جِبْرِیلُ، قُلْتُ: اُدْخُلْ۔ قَالَ: لَا، اُخْرُجْ إِلَیَّ فَلَمَّا خَرَجْتُ قَالَ إِنَّ فِی بَیْتِکَ شَیْئًا لَا یَدْخُلُہُ مَلَکٌ مَا دَامَ فِیہِ قُلْتُ مَا أَعْلَمُہُ یَا جِبْرِیلُ قَالَ اذْہَبْ فَانْظُرْ فَفَتَحْتُ الْبَیْتَ فَلَمْ أَجِدْ فِیہِ شَیْئًا غَیْرَ جَرْوِ کَلْبٍ کَانَ یَلْعَبُ بِہِ الْحَسَنُ قُلْتُ مَا وَجَدْتُ إِلَّا جَرْوًا قَالَ إِنَّہَا ثَلَاثٌ لَنْ یَلِجَ مَلَکٌ مَا دَامَ فِیہَا أَبَدًا وَاحِدٌ مِنْہَا کَلْبٌ أَوْ جَنَابَۃٌ أَوْ صُورَۃُ رُوحٍ۔)) (مسند احمد: ۶۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ نجی حضرمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں لوگوں میں سے جو شرف مجھے حاصل تھا، وہ کسی اور کو نہیں تھا، میں ہر سحری کے وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں حاضری دیتا تھا، جب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام کہتا حتی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھنکارتے تھے، میں ایک رات کو آیا اور سلام کہتے ہوئے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ پر سلام ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو حسن! ذرا ٹھہر جاؤ، میں جب تک باہر نہیں آتا، اندر نہ آنا۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ کو کسی نے غضب ناک کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا بات ہے کہ اس سے پہلے آپ مجھ سے بات نہیں کرتے تھے، بلکہ صرف اشارہ دیتے تھے،آج رات آپ نے بات کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دراصل بات یہ ہے کہ میں نے حجرہ میں حرکت سی سنی، پس میں نے کہا: کون ہے؟ اس نے کہا: میں جبریل ہوں، میں نے کہا: داخل ہو جاؤ، انھوں نے کہا:جی نہیں، میں نہیں آؤں گا، آپ خود باہر آجائیں، جب میں باہر آیا تو انھوں نے کہا: آپ کے کمرہ میں ایک ایسی چیز ہے، جب تک وہ اس میں ہے، میں نہیں داخل ہو سکتا، میں نے کہا: اے جبریل! مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا چیز ہے، انھوں نے کہا: جاؤ اور دیکھو، پس میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ گھر میں ایک کتیا کا بچہ تھا، جس کے ساتھ حسن کھیلتے تھے، میں نے کہا کہ گھر میں صرف کتیا کا ایک بچہ ہے، انھوں نے کہا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ جب تک وہ ہوں گی، اس جگہ پر فرشتہ داخل نہ ہوگا،کتا، جنبی آدمی اور ذی روح کی تصویر۔

8064

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8064

Zaeef

(۸۰۶۴)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کَانَ لِی مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَدْخَلَانِ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَکُنْتُ إِذَا دَخَلْتُ عَلَیْہِ وَہُوَ یُصَلِّی تَنَحْنَحَ فَأَتَیْتُہُ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَقَالَ: ((أَتَدْرِی مَا أَحْدَثَ الْمَلَکُ اللَّیْلَۃَ کُنْتُ أُصَلِّی فَسَمِعْتُ خَشْفَۃً فِی الدَّارِ فَخَرَجْتُ فَإِذَا جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام فَقَالَ مَا زِلْتُ ہٰذِہِ اللَّیْلَۃَ أَنْتَظِرُکَ إِنَّ فِی بَیْتِکَ کَلْبًا فَلَمْ أَسْتَطِعْ الدُّخُولَ وَإِنَّا لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیہِ کَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ وَلَا تِمْثَالٌ۔)) (مسند احمد: ۶۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں رات دن میں میرا دو مرتبہ آنا جانا تھا، میں جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس داخل ہوتا اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھنکارتے تھے، ایک رات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں پتہ ہے کہ فرشتہ نے ایک نیا حکم دے دیا ہے؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نماز پڑھ رہاتھا، میں نے گھر میں حرکت سی سنی، جب میں باہر آیا تو وہ جبریل علیہ السلام تھے، انھوں نے کہا: میں اس رات آپ کے انتظار میں تھا، آپ کے گھر میں ایک کتا تھا، اس لئے میں داخل نہیں ہو سکتا تھا، ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ، جنبی اور تصویر ہو۔

8065

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8065

Zaeef

(۸۰۶۵)۔عَنْ عَلِیٍّ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: اَتَانِیْ جِبْرِیْلُ G (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: یُسَلِّمُ عَلَیَّ) فَلَمْ یَدْخُلْ عَلَیَّ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم: ((مَا مَنَعَکَ اَنْ تَدْخُلَ؟)) قَالَ: اِنَّا لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہٖ صُوْرَۃٌ وَلَا بَوْلٌ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے، انھوں نے مجھے سلام تو کہا، لیکن اندر نہ آئے، میں نے ان سے کہا: آپ کو اندر آنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ انھوں نے کہا: ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر اور پیشاب ہو۔

8066

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8066

Zaeef

(۸۰۶۶)۔(وَعَنْ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ۔)) اِنَّ جِبْرِیْلَ اَتَی النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالَ: اِنَّا لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ صُوْرَۃٌ اَوْ کَلْبٌ، وَکَانَ الْکَلْبُ لِلْحَسَنِ فِی الْبَیْتِ۔ (مسند احمد: ۱۲۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) جبریل علیہ السلام ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: بیشک ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر یا کتا ہو۔ یہ جو گھر میں کتا تھا، یہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تھا۔

8067

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8067

Sahih

(۸۰۶۷)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم حِیْنَ دَخَلَ الْبَیْتَ وَجَدَ فِیْہِ صُوْرَۃَ اِبْرَاہِیْمَ وَصُوْرَۃَ مَرْیَمَ، فَقَالَ: ((اَمَّا ھُمْ فَقَدْ سَمِعُوْا اَنَّ الْمَلَائِکَۃَ لَا تَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ صُوْرَۃٌ، وَھٰذَا اِبْرَاہِیْمُ مُصَوَّرًا، فَمَا بَالُہٗ یَسْتَقْسِمُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس وقت بیت اللہ میں داخل ہوئے تواس میں ابراہیم علیہ السلام اور مریم رحمہ اللہ ‌علیہا ‌ کی تصویریں تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! انہوں نے سنا ہوا ہے کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جسم میں تصویر ہو، یہ ابراہیم علیہ السلام کو تصویر میں پیش کیا گیا ہے،ان کو کیا ہوا کہ یہ تیروں سے قسمت آزمائی کر رہے ہیں (یعنی یہ تیروں سے قسمت آزمائی نہیں کرتے تھے)۔

8068

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8068

Sahih

(۸۰۶۸)۔عَنْ اَبِیْ طَلْحَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَۃُ بَیْتًا فِیْہِ کَلْبٌ وَلَا صُوْرَۃُ تَمَاثِیْلَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا، مورتیوں کی تصویر ہو۔

8069

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8069

Sahih

(۸۰۶۹)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَتَانِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام فَقَالَ: إِنِّی کُنْتُ أَتَیْتُکَ اللَّیْلَۃَ فَلَمْ یَمْنَعْنِی أَنْ أَدْخُلَ عَلَیْکَ الْبَیْتَ الَّذِی أَنْتَ فِیہِ إِلَّا أَنَّہُ کَانَ فِی الْبَیْتِ تِمْثَالُ رَجُلٍ وَکَانَ فِی الْبَیْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِیہِ تَمَاثِیلُ فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ یُقْطَعْ فَیُصَیَّرَ کَہَیْئَۃِ الشَّجَرَۃِ وَمُرْ بِالسِّتْرِ یُقْطَعْ فَیُجْعَلَ مِنْہُ وِسَادَتَانِ تُوطَآَنِ وَمُرْ بِالْکَلْبِ فَیُخْرَجَ۔)) فَفَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم وَإِذَا الْکَلْبُ جَرْوٌ کَانَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ عَلَیْہِمَا السَّلَام تَحْتَ نَضَدٍ لَہُمَا۔ (مسند احمد: ۸۰۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: میں رات آپ کی ملاقات کے لئے حاضر ہوا تھا، مجھے اس گھر میں جس میں آپ تشریف فرما تھے، داخل ہونے میں رکاوٹ یہ تھی کہ گھر میں ایک آدمی کی مورتی تھی اور گھر میں ایک باریک پردہ تھا، سو آپ حکم دیں کہ تصویروں کے سر کاٹ دیئے جائیں، تاکہ وہ درخت کی مانند ہو جائیں اور پردے کے بارے میں حکم دیں، ان کو کاٹ کر اس سے دو تکیے بنا لے جائیں، جن کو روندا جائے اور کتے کے بارے میں حکم دیں کہ اس کو نکال دیا جائے۔ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسا ہی کیا، وہ کتے کا بچہ دراصل سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا تھا، جو سامان والی چارپائی کے نیچے پڑا تھا۔