Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 139 · Chapter 1416

لہو و لعب کے بارے میں مسائل

عیدین جیسے مواقع پر دف بجانے کے جواز کا بیان

2 hadiths in this chapter

7875

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7875

Sahih

(۷۸۷۵)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ أَمَۃً سَوْدَائَ أَتَتْ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم وَقَدْ رَجَعَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِیہِ فَقَالَتْ: إِنِّی کُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّکَ اللّٰہُ صَالِحًا أَنْ أَضْرِبَ عِنْدَکَ بِالدُّفِّ، قَالَ: ((إِنْ کُنْتِ فَعَلْتِ فَافْعَلِی وَإِنْ کُنْتِ لَمْ تَفْعَلِی فَلَا تَفْعَلِی۔)) فَضَرَبَتْ فَدَخَلَ أَبُو بَکْرٍ وَہِیَ تَضْرِبُ وَدَخَلَ غَیْرُہُ وَہِیَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ قَالَ فَجَعَلَتْ دُفَّہَا خَلْفَہَا وَہِیَ مُقَنَّعَۃٌ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((إِنَّ الشَّیْطَانَ لَیَفْرَقُ مِنْکَ یَا عُمَرُ أَنَا جَالِسٌ ہَاہُنَا وَدَخَلَ ہٰؤُلَاء ِ فَلَمَّا أَنْ دَخَلْتَ فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سیاہ فام لونڈی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی، یہ اس وقت کی بات ہے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک غزوہ سے واپس لوٹے تھے، اس نے آکر کہا: میں نے نذرمان رکھی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و سلامتی کے ساتھ واپس لوٹائے گا تو میں دف بجاؤں گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تونے یہ نذر مانی ہے تو اسے پورا کرلے اور اگر ایسی بات نہیں ہے تو اس طرح نہ کر۔ پس اس نے دف بجایا، اتنے میں جب سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے تو وہ بجاتی رہی، اور بھی لوگ آتے رہے اور وہ بجاتی رہی، لیکن جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ داخل ہوئے تو اس نے دف اپنے پیچھے رکھ دی اور کپڑا اوڑھ لیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! تجھ سے شیطان بھی ڈرتا ہے، میں بیٹھا ہوا تھا، یہ دف بجارہی تھی، یہ یہ افراد بھی آئے، لیکن یہ دف بجاتی رہی، جب تو داخل ہوا تو اس نے ایسے ایسے کر لیا۔

7876

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7876

Sahih

(۷۸۷۶)۔عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ دَخَلَ عَلَیْہَا وَعِنْدَہَا جَارِیَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّیْنِ فَانْتَہَرَہُمَا أَبُو بَکْرٍ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ((دَعْہُنَّ فَإِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ عِیدًا۔)) (مسند احمد: ۲۵۴۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس آئے اور میرے پاس دو لونڈیاں دو دف بجارہی تھیں، انھوں نے ان کو ڈانٹا، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: انہیں چھوڑ دو، بیشک ہر قوم کی عید ہوتی ہے (جس پر وہ خوشی کرتی ہے)۔