Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 136 · Chapter 1386

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو دوائیں اور چیزوں کے خواص بیان کیے ہیں، ان کے بارے میں ابواب

زخموں اور جسم پر نکل آنے والے دانوں کے علاج کا بیان

3 hadiths in this chapter

7694

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7694

Sahih

(۷۶۹۴)۔عَنْ سَہْلٍ بِأَیِّ شَیْئٍ دُووِیَ جُرْحُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: کَانَ عَلِیٌّ یَجِیئُ بِالْمَاء ِ فِی تُرْسِہِ وَفَاطِمَۃُ تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْ وَجْہِہِ وَأَخَذَ حَصِیرًا فَأَحْرَقَہُ فَحَشَا بِہِ جُرْحَہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زخموں کا علاج کس چیز سے کیا گیا تھا، انھوں نے کہا: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے ڈھال میں پانی لاتے تھے اور سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرۂ انور سے خون دھوتی تھیں اور ایک چٹائی لے کر اسے جلا کر اس کی راکھ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا زخم بھرا گیا۔

7695

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7695

Sahih

(۷۶۹۵)۔(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٍ) عَنْ أَبِی حَازِمٍ أَنَّ سَہْلَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ رَأَیْتُ فَاطِمَۃَ بِنْتَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ أُحُدٍ أَحْرَقَتْ قِطْعَۃً مِنْ حَصِیرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ تَجْعَلُہُ عَلٰی جُرْحِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّذِی بِوَجْہِہِ قَالَ وَأُتِیَ بِتُرْسٍ فِیہِ مَائٌ فَغَسَلَتْ عَنْہُ الدَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو احد کے دن دیکھا کہ انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لیا، اسے جلا کر اس کی راکھ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے مبارک کے زخم بھرے اور ڈھال میں پانی لایا گیا تھا، اس سے انھوں نے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خون صاف کیا تھا۔

7696

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7696

Sahih

(۷۶۹۶)۔عَنْ مَرْیَمَ ابْنَۃِ إِیَاسِ بْنِ الْبُکَیْرِ صَاحِبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم أَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم دَخَلَ عَلَیْہَا فَقَالَ: ((أَعِنْدَکِ ذَرِیرَۃٌ۔)) قَالَتْ: نَعَمْ، فَدَعَا بِہَا فَوَضَعَہَا عَلَی بَثْرَۃٍ بَیْنَ أَصَابِعِ رِجْلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ مُطْفِئَ الْکَبِیرِ وَمُکَبِّرَ الصَّغِیرِ أَطْفِہَا عَنِّی۔)) فَطُفِئَتْ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ صحابی رسول سیدنا ایاس بن بکیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیٹی مریم، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کسی زوجہ محترمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے بیان کرتی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا ذریرہ خوشبو ہے۔ میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ منگوائی اور اسے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان نکلنے والے چھالے پر لگا کر یہ دعا پڑھی: اَللّٰھُمَّ مُطْفِیئَ الْکَبِیرِ وَمُکَبِّرَ الصَّغِیرِ أَطْفِہَا عَنِّی (اے اللہ! بڑے کو بجھانے والے اور چھوٹے کو بڑا کرنے والے، اسے بجھا دے۔) پس وہ چھالہ وہیں بجھ گیا۔