Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 134 · Chapter 1376

شکار اور ذبائح کا بیان

جو چیز بھی خون بہا دے،اس کے ذریعے ذبح کرنے کے جواز کا بیان، ما سوائے دانت اور ناخن کے، نیز اس امر کی وضاحت کہ بدک جانے والے اونٹ کے ساتھ کیا کیا جائے گا

8 hadiths in this chapter

7607

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7607

Sahih

(۷۶۰۷)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ امْرَاَۃً کَانَتْ تَرْعٰی عَلٰی آلِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ غَنَمًا بِسَلْعٍ فَخَافَتْ عَلٰی شَاۃٍ مِنْہَا الْمَوْتَ فَذَبَحَتْہَا بِحَجَرٍ، فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ فَاَمَرَھُمْ بِاَکْلِہَا۔ (مسند احمد: ۵۴۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمابیان کرتے ہیں کہ ایک عورت کعب بن مالک کی آل کی بکریاں سلع پہاڑ کے دامن میں چرا رہی تھی، اسے اندیشہ ہوا کہ ایک بکری مرنے کے قریب ہے، پس اس نے اس کو پتھر کے ساتھ ذبح کر دیا، جب اس کا ذکر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دے دی۔

7608

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7608

Sahih

(۷۶۰۸)۔عَنِ ابْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ جَارِیَۃً لِکَعْبٍ کَانَتْ تَرْعٰی غَنَمًا لَہُ بِسَلْعٍ فَعَدَا الذِّئْبُ عَلٰی شَاۃٍ مِنْ شَاتِہَا فَاَدْرَکَتْہَا الرَّاعِیَۃُ فَذَکَّتْہَا بِمَرْوَۃٍ، فَسَاَلَ کَعْبُ بْنُ مَالِکِ نِ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم فَاَمَرَہٗ بِاَکْلِہَا۔ (مسند احمد: ۱۵۸۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا کعب بن مالک کا بیٹا بیان کرتا ہے کہ سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی لونڈی سلع پہاڑ کے دامن میں ان کی بکریاں چرا رہی تھی، ایک بکری پر بھیڑیا حملہ آور ہوا، لیکن جب اس چرواہی نے اس بکری کو زندہ پایا تو اس نے ایک پتھر کے ذریعے اس کو ذبح کر دیا، جب سیدنا کعب بن مالک نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھانے کی اجازت دے دی۔

7609

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7609

Sahih

(۷۶۰۹)۔عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ اَنَّہُ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ!! إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَیْسَ مَعَنَا مُدًی قَالَ: ((مَا أَنْہَرَ الدَّمَ وَذُکِرَ عَلَیْہِ اسْمُ اللّٰہِ فَکُلْ، لَیْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُکَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَی الْحَبَشَۃِ۔)) قَالَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہْبًا۔ فَنَدَّ مِنْہَا بَعِیرٌ فَسَعَوْا لَہُ فَلَمْ یَسْتَطِیعُوا فَرَمَاہُ رَجُلٌ بِسَہْمٍ فَحَبَسَہُ ،فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ لِہٰذِہِ الْإِبِلِ أَوْ قَالَ لِہٰذِہِ النَّعَمِ أَوَابِدَ کَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَکُمْ فَاصْنَعُوا بِہِ ہٰکَذَا۔)) قَالَ: وَکَانَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم یَجْعَلُ فِیْ قَسْمِ الْغَنَائِمِ عَشْرًا مِنَ الشَّائِ بِبَعِیْرٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا کل دشمن سے مقابلہ ہونے والا ہے، اگر جانور ذبح کرنے کے لیے ہمارے پاس چھری نہ ہو توہمیں کیا کرنا چاہیے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام ذکر کیا گیا ہو، اس کو کھا لو، البتہ وہ دانت اور ناخن نہ ہو،میں تمھیں بتاتا ہوں کہ دانت اور ناخن کی وجہ کیا ہے، دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشہ کی چھری ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کچھ مال غنیمت ملا، اس میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا، لوگو ں نے بہت روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ روکنے کی طاقت نہ رکھ سکے، ایک آدمی نے اس پر تیر پھینکا، تو وہ رک گیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بعض اونٹ وحشیوں کی طرح بدک جاتے ہیں، اگر کوئی ایسا جانور تم پر غالب آ جائے تو اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو۔ اس دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے ایک اونٹ کے عوض دس بکریاں شمار کی تھیں۔

7610

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7610

Sahih

(۷۶۱۰)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: اَتَی النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم فَتًی شَابٌّ مِنْ بَنِیْ سَلِمَۃَ فَقَالَ: اِنِّیْ رَاَیْتُ اَرْنَبًا فَخَذَفْتُہَا، وَلَمْ تَکُنْ مَعِیْ حَدِیْدَۃٌ اُذَکِّیْہَا بِہَا وَاِنِّیْ ذَکَّیْتُہَا بِمَرْوَۃٍ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم: ((کُلْ)) (مسند احمد: ۱۴۵۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنو سلمہ میں سے ایک نوجوان، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے ایک خرگوش دیکھا، جسے میں نے کنکر مارا، پھر میرے پاس چھری نہ تھی، جس کے ساتھ میں اسے ذبح کرتا تو میں نے اس کو پتھر سے ذبح کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو کھا لو۔

7611

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7611

Sahih

(۷۶۱۱)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ اَنَّہُ صَادَ اَرْنَبِیْنَ فَلَمْ یَجِدْ حَدِیْدَۃً یَذْبَحُہُمَا بِہَا، فَذَبَحَہُمَا بِمَرْوَۃٍ، فَاَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَاَمَرَہُ بِاَکْلِہِمَا۔ (مسند احمد: ۱۵۹۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا محمد بن صفوان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دو خرگوش شکار کئے، چھری وغیرہ موجود نہ تھی کہ انہیں ذبح کیا جا سکے، سو میں نے ان کو پتھر کے ساتھ ذبح کر دیا، پھر جب میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو کھا لینے کا حکم دیا۔

7612

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7612

Sahih

(۷۶۱۲)۔عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ: اَنَّ ذِئْبًا نَیَّبَ فِیْ شَاۃٍ فَذَبَحُوھَا بِمَرْوَۃٍ، فَرَخَّصَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم فِیْ اَکْلِہَا۔ (مسند احمد: ۲۱۹۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بکری میں ایک بھیڑیئے نے دانت چبھو دیئے، لیکن پھر لوگوں نے اسے پتھر سے ذبح کر دیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو کھا لینے کی رخصت دے دی۔

7613

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7613

Zaeef

(۷۶۱۳)۔عَنْ سَفِیْنَۃَ: اَنَّ رَجُلًا اَشَاطَ نَاقَتَہُ بِجِذْلٍ، فَسَاَلَ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم فَاَمَرَھُمْ بِاَکْلِہَا۔ (مسند احمد: ۲۲۲۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی اونٹنی کا ایک تیز دھار لکڑی کے ذریعہ خون بہا دیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو کھانے کی اجازت دے دی۔

7614

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7614

Sahih

(۷۶۱۴)۔عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِیْ حَارِثَۃَ اَنَّ رَجُلًا وَجَأَ نَاقَۃً فِیْ لَبَّتِہَا بِوَتَدٍ وَ خَشِیَ اَنْ تَفُوْتَہُ، فَسَاَلَ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم فَاَمَرَہُمْ، بِاَکْلِہَا۔ (مسند احمد: ۲۴۰۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عطاء بن یسار، بنو حارثہ کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی اونٹنی کے گلے کے گڑھے میں ایک میخ مار دی اور اسے اندیشہ ہوا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ویسے ہی مر جائے، اس لیے اس نے میخ سے ذبح کر دی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو کھانے کی اجازت دے دی۔