Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 134 · Chapter 1375

شکار اور ذبائح کا بیان

ذبیحہ سے نرمی کرنے، اس کو جلدی جلدی ذبح کر دینے، چھری کو تیز کرنے اور دودھ والے جانور کو چھوڑ دینے کا بیان

5 hadiths in this chapter

7602

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7602

Sahih

(۷۶۰۲)۔عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ ثِنْتَانِ حَفِظْتُہُمَا عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ کَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَۃَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْیُحِدَّ أَحَدُکُمْ شَفْرَتَہُ وَلْیُرِحْ ذَبِیحَتَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: دو چیزیں میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یاد کی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض قرار دیا ہے، پس جب تم کسی کو ضرورت کے تحت قتل کرو تو اچھے انداز میں قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو ذبح کا اچھا انداز اختیار کرو، اپنی چھری تیز رکھو اور اپنے ذبح کئے جانے والے جانور کو آرام پہنچاؤ۔

7603

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7603

Zaeef

(۷۶۰۳)۔عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم اَمَرَ بِحَدِّ الشِّفَارِ وَاَنْ تُوَارٰی عَنِ الْبَہَائِمِ وَاِذَا ذَبَحَ اَحَدُکُمْ فَلْیُجْھِزْ۔ (مسند احمد: ۵۸۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھری تیز کرنے کا اور اس کو جانورں سے اوجھل رکھنے کا حکم دیا اور یہ بھی فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جانور ذبح کرے تو جلدی جلدی ذبح کر دے۔

7604

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7604

Zaeef

(۷۶۰۴)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ ذَبَحَ عُصْفُورًا بِغَیْرِ حَقِّہِ سَأَلَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قِیلَ: وَمَا حَقُّہُ؟ قَالَ: ((یَذْبَحُہُ ذَبْحًا وَلَا یَأْخُذُ بِعُنُقِہِ فَیَقْطَعَہُ۔)) (مسند احمد: ۶۸۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے چڑیا کو بغیر حق کے ذبح کیا اس سے روز قیامت اللہ تعالیٰ پوچھیں گے۔ کسی نے پوچھا: اس کا حق کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے ذبح کیا جائے اور اس کی گردن اس طرح نہ پکڑی جائے کہ وہ مکمل کٹ جائے۔

7605

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7605

Sahih

(۷۶۰۵)۔عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی لَأَذْبَحُ الشَّاۃَ وَأَنَا أَرْحَمُہَا أَوْ قَالَ إِنِّی لَأَرْحَمُ الشَّاۃَ أَنْ أَذْبَحَہَا فَقَالَ: ((وَالشَّاۃُ إِنْ رَحِمْتَہَا رَحِمَکَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا قرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بکری ذبح کرتاہوں اور مجھے اس پر ترس آتا ہے کہ میں اسے ذبح کر رہا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو بکری پر رحم کرتا ہے تو اللہ تجھ پر رحم کرے گا۔

7606

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7606

Zaeef

(۷۶۰۶)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَعَمِدْتُ إِلَی عَنْزٍ لِأَذْبَحَہَا فَثَغَتْ فَسَمِعَ ثَغَوْتہَا فَقَالَ: ((یَا جَابِرُ! لَا تَقْطَعْ دَرًّا وَلَا نَسْلًا۔)) فَقُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنَّمَا ہِیَ عَتُودَۃٌ عَلَفْتُہَا الْبَلَحَ وَالرُّطَبَ حَتّٰی سَمِنَتْ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، میں نے ایک بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا، تو اس نے آواز نکالی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی آواز سن لی اور فرمایا: اے جابر! دودھ اور نسل والی بکری ذبح نہ کرنا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ بکری چھوٹی ہے، میں نے اسے کچی اورترکھجوریں چارہ ڈال کر موٹا تازہ کیا ہے۔