Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 134 · Chapter 1372

شکار اور ذبائح کا بیان

معراض کے شکار کا بیان

3 hadiths in this chapter

7590

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7590

Sahih

(۷۵۹۰)۔عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم عَنْ صَیْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ: ((مَا اَصَابَ بِحَدّہٖ فَخَزَقَ فَکُلْ، وَ مَا اَصَابَ بِعَرْضِہٖ فَقَتَلَ فَاِنَّہُ وَقِیْذٌ فَلَاتَاْکُلْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا کہ جو شکار تیر کے درمیانی موٹے حصے کے لگنے سے مرے گا، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شکار کو تیر کی دھار لگے اور وہ اس میں گھس جائے اس کو کھا لو اور جب تیر کا درمیانی حصہ لگے اور شکار کو قتل کر دے تو وہ لاٹھی سے مارے ہوئے جانور کی مانند ہے، پس اسے نہیں کھانا۔

7591

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7591

Sahih

(۷۵۹۱)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِذَا اَرْسَلْتَ کَلْبَکَ وَسَمَّیْتَ فَخَالَطَ کِلَابًا اُخْرٰی فَاَخَذَتْہُ جَمِیْعًا فَلَا تَاْکُلْ، فَاِنَّکَ لَا تَدْرِیْ اَیُّہَا اَخَذَہٗ، وَاِذَا رَمَیْتَ فَسَمَّیْتَ فَخَزَقَتْ فَکُلْ، فَاِنْ لَمْ یَتَخَزَّقْ فَلَا تَاْکُل،ْ وَلَا تَاْکُلْ مِنَ الْمِعْرَاضِ، وَلَا تَاْکُلْ مِنَ الْبُنْدُقَۃِ اِلَّا مَاذَکَّیْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور بسم اللہ بھی کہو ، لیکن اگر یہ کتا دوسرے کتوں کے ساتھ مل جائے تو وہ شکار نہیں کھانا، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ کس کتے نے اس شکار کو مارا ہے (جبکہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے)، اسی طرح جب تم تیر پھینکو اور بسم اللہ کہی ہو اور وہ تیر شکار میں پیوست ہو گیا ہو تو اس کو کھا لو، اگر وہ پیوست نہ ہو اور تیر کے درمیانی موٹے حصے کی ضرب سے مرے ہوئے شکار کو نہ کھاؤ اور بندق کے کیے گئے شکار کو نہ کھاؤ، الا یہ کہ اس کو ذبح کر لو۔

7592

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7592

Sahih

(۷۵۹۲)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِنَّا قَوْمٌ نَرْمِی بِالْمِعْرَاضِ فَمَا یَحِلُّ لَنَا؟ قَالَ: ((لَا تَاْکُلْ مَا اَصَبْتَ بِالْمِعْرَاضِ اِلَّا مَا ذَکَّیْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ تیر کے درمیانے موٹے حصے سے شکار کرتے ہیں، کیا وہ ہمارے لیے حلال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تیر کے درمیانے موٹے حصے سے شکار کرو، اس کو نہ کھاؤ، الا یہ کہ اس کو خود ذبح کر لو۔