Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 134 · Chapter 1371

شکار اور ذبائح کا بیان

کتے پر بسم اللہ پڑھ کرچھوڑنے کا مسئلہ

7 hadiths in this chapter

7583

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7583

Sahih

(۷۵۸۳)۔عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنَّا أَہْلُ صَیْدٍ، فَقَالَ: ((إِذَا رَمٰی َٔحَدُکُمْ بِسَہْمِہِ فَلْیَذْکُرْ اسْمَ اللّٰہِ تَعَالٰی فَإِنْ قَتَلَ فَلْیَأْکُلْ وَإِنْ وَقَعَ فِی مَائٍ فَوَجَدَہُ مَیْتًا فَلَا یَأْکُلْہُ فَإِنَّہُ لَا یَدْرِی لَعَلَّ الْمَائَ قَتَلَہُ فَإِنْ وَجَدَ سَہْمَہُ فِی صَیْدٍ بَعْدَ یَوْمٍ أَوْ اثْنَیْنِ وَلَمْ یَجِدْ فِیہِ أَثَرًا غَیْرَ سَہْمِہِ فَإِنْ شَائَ فَلْیَأْکُلْہُ قَالَ وَإِذَا أَرْسَلَ عَلَیْہِ کَلْبَہُ فَلْیَذْکُرْ اسْمَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ أَدْرَکَہُ قَدْ قَتَلَہُ فَلْیَأْکُلْ وَإِنْ أَکَلَ مِنْہُ فَلَا یَأْکُلْ فَإِنَّہُ إِنَّمَا أَمْسَکَ عَلٰی نَفْسِہِ وَلَمْ یُمْسِکْ عَلَیْہِ وَإِنْ أَرْسَلَ کَلْبَہُ فَخَالَطَ کِلَابًا لَمْ یَذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہَا فَلَا یَأْکُلْ فَإِنَّہُ لَا یَدْرِی أَیُّہَا قَتَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم شکاری لوگ ہیں، اس بارے میں آپ ہمیں ہدایات دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شکار پر اپنا تیر پھینکے تو وہ بسم اللہ پڑھ لے، اگر وہ تیر شکار کو مار بھی دے، پھر بھی کھا لو، لیکن اگر وہ شکار زخمی ہو کر پانی میں گر جائے اور وہیں مر جائے تو پھر نہیں کھانا، کیونکہ ہو سکتا ہے وہ پانی میں ڈوب کر مرا ہو، اور اگرشکار میں تیر لگا ہو اور وہ ایک دو دن بعد میں ملا ہو اور اس میں سوائے تمہارے تیر کے کسی اور کے تیر کا نشان نہ ہو تو اگر مرضی ہوتو کھا سکتے ہو اور جب شکار پر کتا چھوڑا ہو تو چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھ لو، اگر وہ شکار اس حالت میں مر بھی گیا ہو تو اس کو کھا لو اور اگر کتا شکار میں سے کچھ کھا لے، تو پھر نہ کھانا، کیونکہ یہ کتے نے اپنے لیے روکا ہے، شکاری کے لیے نہیں روکا، اگر کتا شکار کے لیے چھوڑا ہے اور اس کے ساتھ دوسرے کتے بھی مل جل گئے ہوں، جن کو چھوڑتے وقت بسم اللہ نہ پڑھی گئی ہو تو پھر اس کو نہیں کھانا، کیونکہ معلوم نہیں کہ ان میں سے کس نے شکار ماراہے۔

7584

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7584

Sahih

(۷۵۸۴)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم عَنْ صَیْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ: ((مَا أَصَبْتَ بِحَدِّہِ فَکُلْہُ وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِہِ فَہُوَ وَقِیذٌ۔)) وَسَأَلْتُہُ عَنْ صَیْدِ الْکَلْبِ قَالَ وَکِیعٌ قَالَ: ((إِذَا أَرْسَلْتَ کَلْبَکَ وَذَکَرْتَ اسْمَ اللّٰہِ فَکُلْ فَقَالَ وَمَا أَمْسَکَ عَلَیْکَ وَلَمْ یَأْکُلْ فَکُلْہُ فَإِنَّ أَخْذَہُ ذَکَاتُہُ وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ کَلْبِکَ کَلْبًا آخَرَ فَخَشِیتَ أَنْ یَکُونَ أَخَذَہُ مَعَہُ وَقَدْ قَتَلَہُ فَلَا تَأْکُلْ فَإِنَّکَ إِنَّمَا ذَکَرْتَ اسْمَ اللّٰہِ عَلٰی کَلْبِکَ وَلَمْ تَذْکُرْہُ عَلٰی غَیْرِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا کہ جو شکار تیر کے درمیانی موٹے حصے کے لگنے سے مرے گا، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو دھار کی جانب سے تیر شکار کو لگے وہ کھا لو اور جو اس موٹے حصے کی جانب سے لگے، وہ لاٹھی سے مارے ہوئے جانور کی مانند ہے، اسے کھانا جائز نہیں۔ میں نے کتے کے شکار کے متعلق سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام ذکر کیا ہو، اگر وہ کتا شکار روکتا ہے تو کھا لو، لیکن اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا پاتے ہو اور یہ خدشہ ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اُس کتے نے مارا ہو تو پھر شکار نہ کھاؤ، کیونکہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے، دوسرے کتے پر تو نہیں پڑھی۔

7585

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7585

Sahih

(۷۵۸۵)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبِی کَانَ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیَقْرِی الضَّیْفَ وَیَفْعَلُ کَذَا، قَالَ: ((إِنَّ أَبَاکَ أَرَادَ شَیْئًا فَأَدْرَکَہُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَرْمِی الصَّیْدَ وَلَا أَجِدُ مَا أُذَکِّیہِ بِہِ إِلَّا الْمَرْوَۃَ وَالْعَصَا؟ قَالَ: ((أَمِرَّ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ ثُمَّ اذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) قُلْتُ: طَعَامٌ مَا اَدَعُہُ اِلَّا تَحَرُّجًا؟ قَالَ: ((مَا ضَارَعْتَ فِیْہِ نَصْرَانِیَّۃً فَلَا تَدَعْہٗ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے باپ حاتم طائی صلہ رحمی کرتے تھے اور کوئی نیک کام کرتے تھے؟ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارے والد نے جس کام کا ارادہ کیا تھا، اس نے اس کو پا لیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد شہرت اور نمود و نمائش تھی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تیر پھینکتا ہوں اب شکار ذبح کرنے کے لیے میرے پاس صرف پتھر یا لاٹھی ہوتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بسم اللہ پڑھو اور شکار سے خون جاری کردو (یعنی خون جاری کر دینے والا کوئی آلہ استعمال کر لو)۔ میں نے کہا: بعض کھانے ایسے ہوتے ہیں کہ میں ان کو صرف گناہ میں واقع ہونے کے خوف سے چھوڑ دیتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کھانے کو چھوڑنے میں عیسائیت سے مشابہت پیدا ہوتی ہو وہ کھانا نہ چھوڑنا۔

7586

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7586

Sahih

(۷۵۸۶)۔عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ وَحُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ یَقُوْلَانِ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((کُلْ مَا رَدَّتْ عَلَیْکَ قَوْسُکَ)) (مسند احمد: ۲۳۶۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر اور سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیری کمان جس چیز کو شکار کر لے، تو اس کو کھا لے۔

7587

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7587

Sahih

(۷۵۸۷)۔عَنْ اَبِیْ ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِذَا رَمَیْتَ بِسَہْمِکَ فَغَابَ ثَلَاثَ لِیَالٍ فَاَدْرَکْتَہُ فَکُلْ مَا لَمْ یُنْتِنْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم تیر شکار پر پھینکتے ہو اور وہ تین دن تک تم سے غائب ہو جاتا ہے اور پھر اسے پا لیتے ہو تو اس کو کھایا جاسکتا ہے، بشرطیکہ وہ بدبودار نہ ہوا ہو۔

7588

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7588

Sahih

(۷۵۸۸)۔عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَیْدٍ فَیَرْمِی أَحَدُنَا الصَّیْدَ فَیَغِیبُ عَنْہُ لَیْلَۃً أَوْ لَیْلَتَیْنِ فَیَجِدُہُ وَفِیہِ سَہْمُہُ؟ قَالَ: ((إِذَا وَجَدْتَ سَہْمَکَ وَلَمْ تَجِدْ فِیہِ أَثَرَ غَیْرِہِ وَعَلِمْتَ أَنَّ سَہْمَکَ قَتَلَہُ فَکُلْہُ۔)) (وَبِلَفْظٍ آخَرَ) ((فَاِذَا وَجَدْتَ فِیْہِ سَہْمَکَ وَلَمْ یَاْکُلْ مِنْہُ سَبُعٌ فَکُلْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عدی بن حاتم طائی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا کہ ہماری سر زمین شکارکے لیے بہت موزوں ہے، ہم میں سے اگر کوئی شکارکو تیر مارتا ہے اوروہ شکار ایک یا د ودن غائب رہتاہے اور پھر وہ پایا جاتا ہے اور اس میں وہی تیر موجود ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اس میں اپنا تیر پاتے ہو اور اس میں کسی اور تیرکے اثرات نہ ہوں اور تم جانتے ہو کہ اسے تمہارے تیر نے ہی مارا ہے تو تم اسے کھا لو۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اس میں اپنا تیر لگا ہوا دیکھتے ہیں اور اس سے کسی درندے نے نہ کھایا ہو تو پھر تم وہ شکار کھا سکتے ہو۔

7589

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7589

Sahih

(۷۵۸۹)۔وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((اِذَا وَقَعَتْ رَمْیَتُکَ فِی الْمَائِ فَغَرَقَ فَلَا تَاْکُلْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شکار پر تم نے تیر چلایا ہو، لیکن (تیر لگنے کے بعد) وہ پانی میں گر کر مر گیا ہو تو اس کو نہیں کھانا۔