Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 133 · Chapter 1360

مشروبات کا بیان

نبیذ کی ناجائز صورتوں اور مٹکے کی نبیذ کابیان

11 hadiths in this chapter

7492

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7492

Zaeef

(۷۴۹۲)۔عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی مُوسٰی عَنْ أَبِیہِ قَالَ بَعَثَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْیَمَنِ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ بِہَا أَشْرِبَۃً فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ؟ قَالَ: ((وَمَا ہِیَ؟)) قُلْتُ: الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ، فَلَمْ یَدْرِ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا ہُوَ، فَقَالَ: ((مَا الْبِتْعُ وَمَا الْمِزْرُ؟)) قَالَ: أَمَّا الْبِتْعُ فَنَبِیذُ الذُّرَۃِ یُطْبَخُ حَتّٰی یَعُودَ بِتْعًا وَأَمَّا الْمِزْرُ فَنَبِیذُ الْعَسَلِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَشْرَبَنَّ مُسْکِرًا۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہاں کچھ (مخصوص) مشروبات پائے جاتے ہیں، میں ان میں سے کون سے پی سکتا ہوں اور کون سے ترک کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ کونسے (مشروبات) ہیں؟ میں نے کہا: وہ بتع اور مزر ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انہیں پہچان نہ سکے کہ وہ کون کون سے ہیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بتع اور مزر کسے کہتے ہیں؟ میں نے کہا: بتع مکئی کی نبیذ ہے، اس کو پکایا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ بتع بن جاتی ہے اور شہد کی نبیذ کو مزر کہتے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بس، نشہ آور مشروب نہیں پینا۔

7493

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7493

Sahih

(۷۴۹۳)۔(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٍ) عَن سَعِیدِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ عَن أَبِیہِ عَن جَدِّہِ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَبَا مُوسٰی وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَی الْیَمَنِ فَقَالَ لَہُمَا: ((یَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَتَطَاوَعَا۔)) قَالَ أَبُو مُوسَی: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّا بِأَرْضٍ یُصْنَعُ فِیہَا شَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ یُقَالُ لَہُ الْبِتْعُ وَشَرَابٌ مِنَ الشَّعِیرِ یُقَالُ لَہُ الْمِزْرُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سن) سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری اورسیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو یمن کی جانب نمائندے بنا کر بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ آسانی کرنا، تنگی نہ کرنا، خوش خبری دینا، نفرت نہ دلانا اور آپس میں اتفاق سے چلنا اختلاف نہ کرنا۔ سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی سرزمین میں ہیں جس میں شہد سے شراب تیار کی جاتی ہے،جسے بتع کہتے ہیں اور ایک جو سے شراب تیار کی جاتی ہے، جسے مزر کہا جاتا ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

7494

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7494

Sahih

(۷۴۹۴)۔عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((لَیَسْتَحِلَّنَّ طَائِفَۃٌ مِنْ اُمَّتِی الْخَمْرَ بِاِسْمٍ یُسَمُّوْنَہَا اِیَّاہٗ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ شراب کو اس طرح حلال تصور کر لے گا کہ وہ اس کا نام تبدیل کر لے گا۔

7495

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7495

Sahih

(۷۴۹۵)۔عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیْزٍ یُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِنَّ اُنَاسًا مِنْ اُمَّتِیْ یَشْرَبُوْنَ الْخَمْرَ یُسَمُّوْنَہَا بِغَیْرِ اِسْمِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابن محیریز ، ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ اس طرح شراب پئیں گے کہ اس کا نام تبدیل کر دیں گے۔

7496

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7496

Sahih

(۷۴۹۶)۔حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللّٰہِ الْجَسْرِیُّ قَالَ سَأَلْتُ مَعْقِلَ بْنَ یَسَارٍ عَنِ الشَّرَابِ فَقَالَ کُنَّا بِالْمَدِینَۃِ وَکَانَتْ کَثِیرَۃَ التَّمْرِ فَحَرَّمَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْفَضِیخَ وَأَتَاہُ رَجُلٌ فَسَأَلَہُ عَنْ أُمٍّ لَہُ عَجُوزٍ کَبِیرَۃٍ أَنَسْقِیہَا النَّبِیذَ فَإِنَّہَا لَا تَأْکُلُ الطَّعَامَ فَنَہَاہُ مَعْقِلٌ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو عبد اللہ جسری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مشروب کے متعلق دریافت کیا،انہوں نے کہا: اس وقت کی بات ہے جب ہم مدینہ میں تھے، وہاں کھجوریں بہت زیادہ ہوتی تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے لیے وہ مشروب حرام قرار دیا تھا، جو کھجوروں سے تیار ہوتا تھا جسے فضیخ کہتے تھے، معقل کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے ان سے سوال کیا کہ میری بوڑھی ماں ہے، وہ بہت عمر رسیدہ ہے، وہ کھانا نہیں کھا سکتی، کیا ہم اسے نبیذ پلا سکتے ہیں؟ سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے منع کر دیا۔

7497

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7497

Sahih

(۷۴۹۷)۔عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقُلْتُ أَنُہِیَ عَنْ نَبِیذِ الْجَرِّ؟ فَقَالَ قَدْ زَعَمُوا ذَاکَ فَقُلْتُ مَنْ زَعَمَ ذَاکَ؟ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: زَعَمُوا ذَاکَ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! أَنْتَ سَمِعْتَہُ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قَدْ زَعَمُوا ذَاکَ، قَالَ فَصَرَفَہُ اللّٰہُ تَعَالَی عَنِّی یَوْمَئِذٍ وَکَانَ أَحَدُہُمْ إِذَا سُئِلَ أَنْتَ سَمِعْتَہُ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَضِبَ ثُمَّ ہَمَّ بِصَاحِبِہِ۔ (مسند احمد: ۵۰۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے دریافت کیا کہ کیا مٹکے میں بنایا گیا نبیذ پینے سے منع کیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: لوگوں کا خیال تویہی ہے، میں نے کہا: یہ کس کا خیال ہے؟ کیا یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خیال ہے؟ انھوں نے کہا: لوگوں کا خیال یہی ہے کہ اس سے منع کیا گیا ہے، میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کیا آپ نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: لوگوں کا خیال یہی ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے ان کو مجھ سے در گزر کروا دیا، وگرنہ جب کوئی ان سے یہ کہتا کہ آیا تم نے یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے تو وہ غضبناک ہو جاتے تھے اورکہنے والے کو سخت جھنجھوڑا کرتے تھے۔

7498

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7498

Zaeef

(۷۴۹۸)۔عَنْ سُوَیْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم بِنَبِیْذٍ فِیْ جَرَّۃٍ فَسَاَلْتُہُ فَنَہَانِیْ عَنْہَا فَکَسَرْتُہَا۔ (مسند احمد: ۲۴۱۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سوید بن مقرن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مٹکے میں بنایا ہوا نبیذ لے کر آیا اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا،آپ نے مجھے منع فرما دیا تو میں نے سرے سے وہ مٹکا ہی توڑ دیا۔

7499

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7499

Sahih

(۷۴۹۹)۔عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم نَہٰی عَنْ نَبِیْذِ الْجَرِّ۔ (مسند احمد: ۲۶۵۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مٹکے میں بنائے گئے نبیذ سے منع فرمایا ہے۔

7500

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7500

Sahih

(۷۵۰۰)۔عَنِ الشَّیْبَانِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ اَبِیْ اَوْفٰی قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم عَنْ نَبِیْذِ الْجَرِّ الْاَخْضَرِ قَالَ: قُلْتُ: فَالْاَبْیَضُ؟ قَالَ: لَا اَدْرِیْ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سبز مٹکے میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے، ثابت کہتے ہیں: میں نے کہا: سفید مٹکے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے اس بارے معلوم نہیں ہے۔

7501

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7501

Sahih

(۷۵۰۱)۔عَنْ صَفِیَّۃَ رضي الله عنها زَوْجِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم بِنَحْوِہٖ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ام المومنین سیدنا صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح بیان کرتی ہیں۔

7502

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7502

Sahih

(۷۵۰۲)۔عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَاَلْتُ اَنَسًا عَنْ نَبِیْذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: لَمْ اَسْمَعْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فِیْہِ شَیْئًا، قَالَ: وَکَانَ اَنَسٌ رضي الله عنه یَکْرَھُہٗ۔ (مسند احمد: ۱۳۹۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ امام قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مٹکے میں بنائے گئے نبیذ کے بارے دریافت کیا، انہوں نے کہا: اس بارے میں میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کچھ نہیں سنا۔ قتادہ کہتے ہیں کہ سیدنا انس اسے ناپسند کرتے تھے۔