Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 133 · Chapter 1346

مشروبات کا بیان

پانی پلانے کی فضیلت اور زائد پانی کو روک لینے سے ممانعت اور اس معاملے میں سختی کا بیان

5 hadiths in this chapter

7434

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7434

Sahih

(۷۴۳۴)۔عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ أَنَّ أُمَّہُ مَاتَتْ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ أُمِّی مَاتَتْ فَأَتَصَدَّقُ عَنْہَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: فَأَیُّ الصَّدَقَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((سَقْیُ الْمَائِ۔)) قَالَ فَتِلْکَ سِقَایَۃُ آلِ سَعْدٍ بِالْمَدِینَۃِِِِِ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری ماں وفات پا گئیں اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میری ماں وفات پا چکی ہے، کیا میں اس کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل۔ میں نے کہا: کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانی سے سیراب کرنا افضل صدقہ ہے۔ پس انہوں نے ایک کنواں کھدوا دیا، جو مدینہ میں آل سعد کے نام سے مشہور تھا۔

7435

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7435

Sahih

(۷۴۳۵)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالَ إِنِّی أَنْزِعُ فِی حَوْضِی حَتّٰی إِذَا مَلَأْتُہُ لِأَہْلِی وَرَدَ عَلَیَّ الْبَعِیرُ لِغَیْرِی فَسَقَیْتُہُ فَہَلْ لِی فِی ذٰلِکَ مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((فِی کُلِّ ذَاتِ کَبِدٍ حَرّٰی أَجْرٌ)) (مسند احمد: ۷۰۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیااور کہا:میں پانی کھینچ کر اپنے حوض میں ڈالتا ہوں اور اپنے گھر والوں کے لیے اس کو بھرتا ہوں، لیکن کسی دوسرے کے اونٹ آتے ہیں اور میں انہیں پلا دیتا ہوں، کیا مجھے اس کا اجر و ثواب ملے گا؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ایک جگر والے یعنی ہر جاندار کو پانی پلانے کا اجر ملتاہے۔

7436

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7436

Sahih

(۷۴۳۶)۔أَنَّ سُرَاقَۃَ بْنَ جُعْشُمٍ دَخَلَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی وَجَعِہِ الَّذِی تُوُفِّیَ فِیہِ قَالَ فَطَفِقْتُ أَسْأَلُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی مَا أَذْکُرُ مَا أَسْأَلُہُ عَنْہُ، فَقَالَ: اذْکُرْہُ قَالَ: وَکَانَ مِمَّا سَأَلْتُہُ عَنْہُ أَنْ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! الضَّالَّۃُ تَغْشٰی حِیَاضِی وَقَدْ مَلَئْتُھَا مَائً لِاِبِلِیْ، ہَلْ لِی مِنْ أَجْرٍ أَنْ أَسْقِیَہَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((نَعَمْ فِی سَقْیِ کُلِّ کَبِدٍ (وَفِیْ لَفْظٍ: فِیْ کُلِّ ذَاتِ کَبِدٍ) حَرَّائَ أَجْرٌ لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اس بیماری میں گیا، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات ہوئی تھی، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوالات پوچھنے شروع کئے، یہاں تک کہ مجھے اب یاد نہیں کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا کیا پوچھتا رہا، ایک نے کہا: کوئی سوال تو یاد کرو اور ہمیں بتاؤ، انھوں نے کہا:میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا تھا کہ اے اللہ کے رسول! ایک گم شدہ جانور میرے اُس حوض پر آتا ہے، جس کو میں نے اپنے اونٹوں کے لیے بھر رکھا ہوتا ہے، اگر میں اسے پانی سے سیراب کرتا ہوں تو کیا مجھے اس کا اجر ملے گا؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں! ہر پیاس سے جلنے والے جگر کی پیاس بجھانے سے اجر ملتا ہے۔

7437

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7437

Zaeef

(۷۴۳۷)۔عَنْ بُہَیْسَۃَ قَالَتْ اسْتَأْذَنَ أَبِی النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم فَجَعَلَ یَدْنُو مِنْہُ وَیَلْتَزِمُہُ: ثُمَّ قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! مَا الشَّیْئُ الَّذِی لَا یَحِلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ: ((اَلْمَائُ۔)) ثُمَّ قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! مَا الشَّیْئُ الَّذِی لَا یَحِلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ: ((اَلْمِلْحُ۔)) ثُمَّ قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! مَا الشَّیْئُ الَّذِی لَا یَحِلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنْ تَفْعَلِ الْخَیْرَ خَیْرٌ لَکَ۔)) قَالَ فَانْتَہٰی قَوْلُہُ إِلَی الْمَاء ِ وَالْمِلْحِ قَالَ وَکَانَ ذٰلِکَ الرَّجُلُ لَا یَمْنَعُ شَیْئًا وَإِنْ قَلَّ۔ (مسند احمد: ۱۶۰۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ بہیسہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میرے باپ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ان کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اجازت دی، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہو گئے اور ساتھ چمٹ گئے، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے، جسے روکنا جائز نہیں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانی۔ پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے، جسے روکنا حلال نہیں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نمک ہے۔ پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! وہ کیا چیز ہے جسے روکنا حلال نہیں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرے لیے یہی بہتر ہے کہ تو بھلائی والا کام کرے۔ اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات تو پانی اور نمک تک محدود رہی، لیکن اس کے بعد وہ آدمی کبھی کسی چیز کو دینے سے انکار نہ کرتا تھا، اگرچہ وہ معمولی سی بھی ہوتی۔

7438

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7438

Sahih

(۷۴۳۸)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((مَنْ مَنَعَ فَضْلَ مَائِہٖ اَوْ فَضْلَ کَلَئِہٖ مَنَعَہُ اللّٰہُ فَضْلَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۶۶۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو زائد پانی اور زائد گھاس روکے گا، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس سے اپنا فضل روک لے گا۔