Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 130 · Chapter 1322

بچوں کی پرورش کا بیان

پرورش میں والدین کے تنازعہ اور اختلاف کے وقت بچے کے سلسلے میں قرعہ اندازی کرنے اور سن تمیز تک پہنچنے کی صورت میں اس کا اختیار دینے کا بیان

2 hadiths in this chapter

7277

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7277

Sahih

(۷۲۷۷)۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ جَائَ تِ امْرَاَۃٌ اِلَی النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَدْ طَلَّقَہَا زَوْجُہَا فَاَرَادَتْ اَنْ تَاْخُذَ وَلَدَھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِسْتَہِمَا فِیْہِ۔)) فَقَالَ الرَّجُلُ: مَنْ یَحُوْلُ بَیْنِیْ وَبَیْنَ اِبْنِیْ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم لِلْاِبْنِ: (وَفِیْ لَفْظٍ: یَا غُلَامُ ھٰذَا اَبُوْکَ وَھٰذِہِ اُمُّکَ) ((اِخْتَرْ اَیَّہُمَا شِئْتَ۔))، فَاخْتَارَ اُمَّہُ فَذَھَبَتْ بِہِ۔ (مسند احمد: ۹۷۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی، اس کے خاوند نے اسے طلاق دے رکھی تھی اور وہ عورت اپنا بچہ لینا چاہتی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بچے کے بارے میں قرعہ اندازی کرو۔ لیکن اس آدمی نے کہا: میرے اور میرے بچے کے درمیان کون رکاوٹ بن سکتا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بچے! یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے، ان میں سے تو جس کو چاہتا ہے، منتخب کر سکتا ہے۔ اس نے اپنی ماں کا انتخاب کیا، پس وہ اسے لے کر چل دی۔

7278

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7278

Sahih

(۷۲۷۸)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِی أَبِی عَنْ جَدِّی رَافِعِ بْنِ سِنَانٍ أَنَّہُ أَسْلَمَ وَأَبَتِ امْرَأَتُہُ أَنْ تُسْلِمَ فَأَتَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ ابْنَتِی وَہِیَ فَطِیمٌ أَوْ شَبَہُہُ وَقَالَ رَافِعٌ: ابْنَتِی، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اُقْعُدْ نَاحِیَۃً۔)) وَقَالَ لَہَا: ((اُقْعُدِی نَاحِیَۃً۔)) فَأَقْعَدَ الصَّبِیَّۃَ بَیْنَہُمَا ثُمَّ قَالَ: ((ادْعُوَاہَا۔)) فَمَالَتْ إِلٰی أُمِّہَا فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اَللَّہُمَّ اہْدِہَا۔))) فَمَالَتْ إِلٰی أَبِیہَا فَأَخَذَہَا۔ (مسند احمد: ۲۴۱۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا رافع بن سنان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اسلام قبول کر لیا اور اس کی بیوی نے مسلمان ہونے سے انکار کر دیا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یہ میری بیٹی ہے، اس کا دودھ چھڑا دیا گیا ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رافع سے فرمایا: تم ایک طرف ہو کر بیٹھ جاؤ اور اس کی بیوی سے فرمایا کہ تم دوسری طرف ہو کر بیٹھ جاؤ۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بچی کو دونوں کے درمیان بٹھا دیا اور فرمایا: دونوں اس کو بلاؤ، وہ بچی ماں کی جانب مائل ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کی: اے میرے اللہ! اس بچی کو ہدایت دے۔ پس وہ اپنے باپ کی جانب جھکی اور اس نے اسے پکڑ لیا۔