Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 128 · Chapter 1311

عدتوں کا بیان

حاملہ خاتون کی عدت وضع حمل ہے، خواہ وہ طلاق یافتہ ہو یا بیوہ، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور حاملہ خواتین کی عدت کی مدت یہ ہے کہ وہ حمل وضع کر دیں

5 hadiths in this chapter

7232

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7232

Sahih

(۷۲۳۲)۔عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَنَّہُ قَالَ سُئِلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو ہُرَیْرَۃَ عَنِ الْمُتَوَفّٰی عَنْہَا زَوْجُہَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ آخِرَ الْأَجَلَیْنِ وَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ إِذَا وَلَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَہَا عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَتْ وَلَدَتْ سُبَیْعَۃُ الْأَسْلَمِیَّۃُ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا بِنِصْفِ شَہْرٍ فَخَطَبَہَا رَجُلَانِ أَحَدُہُمَا شَابٌّ وَالْآخَرُ کَہْلٌ فَحَطَّتْ إِلَی الشَّابِّ فَقَالَ الْکَہْلُ لَمْ تَحِلَّ وَکَانَ أَہْلُہَا غُیَّبًا وَرَجَا إِذَا جَائَ أَہْلُہَا أَنْ یُؤْثِرُوہُ فَجَائَتْ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ حَلَلْتِ فَانْکِحِی مَنْ شِئْتِ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس عورت کی عدت کے بارے میں سوال کیا گیا جس کا خاوند فوت ہو چکا ہو اوروہ حاملہ ہو، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمانے کہا: دو عدتوں میں سے دور والی عدت ہو گی، جبکہ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب وہ بچے کوجنم دے گی تو اس کی عدت ختم ہو جاتی ہے۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئے اور ان سے اس مسئلہ کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: جب سیدہ سبیعہ اسلمیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے نصف ماہ بعد بچے کو جنم دیا تو اسے دو آدمیوں نے پیغام نکاح بھیجا، ان میں سے ایک نوجوان تھا اور دوسرا ذرا ادھیڑ عمر تھا، اس خاتون کا میلان یہ تھا کہ وہ نوجوان سے نکاح کرے، یہ صورت حال دیکھ کر ادھیڑعمر کہنے لگا کہ یہ تو ابھی عدت سے ہی باہر نہیں ہوئی، دراصل اس عورت کے گھروالے وہاں موجود نہ تھے اور اس بوڑھے کو امید تھی کہ جب اس کے گھروالے آ جائیں گے تو وہ اس ادھیڑ عمر کو ترجیح دیں گے، اس کی بات سن کر وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور فتویٰ پوچھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیری عدت ختم ہو چکی ہے،تو جس سے چاہتی ہے، نکاح کر سکتی ہے۔

7233

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7233

Zaeef

(۷۲۳۳)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ سُبَیْعَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ حَمْلَہَا بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا بِخَمْسَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً فَدَخَلَ عَلَیْہَا أَبُو السَّنَابِلِ فَقَالَ: کَأَنَّکِ تُحَدِّثِینَ نَفْسَکِ بِالْبَائَۃِ مَا لَکِ ذٰلِکَ حَتّٰی یَنْقَضِیَ أَبْعَدُ الْأَجَلَیْنِ، فَانْطَلَقَتْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْہُ بِمَا قَالَ أَبُو السَّنَابِلِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((کَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ إِذَا أَتَاکِ أَحَدٌ تَرْضَیْنَہُ فَأْتِینِی بِہِ أَوْ قَالَ فَأَنْبِئِینِی۔)) فَأَخْبَرَہَا أَنَّ عِدَّتَہَا قَدِ انْقَضَتْ۔ (مسند احمد: ۴۲۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں سیدہ سبیعہ بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے پندرہ دن بعد بچے کوجنم دیا، ان کے پاس سیدنا ابو سنابل آئے اور کہا: معلوم ہوتا ہے تمہارے دل میں نکاح کرنے کا خیال گردش کر رہا ہے، تمہیں اس کی اجازت نہیں ہو گی حتیٰ کہ دو عدتوں میں سے دور والی عدت نہ گزار لو، یہ سن کر وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور ابوسنابل کی بات کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوبتایا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو سنابل غلط کہہ رہا ہے، تمہاری عدت پوری ہو چکی ہے، جب تمہارے لیے مناسب یا تمہاری پسند کا رشتہ آئے تو میرے پاس آنا اور مجھے اس کی اطلاع دینا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو خبر دی کہ اس کی عدت پوری ہو چکی ہے۔

7234

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7234

Zaeef

(۷۲۳۴)۔عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِی السَّنَابِلِ بْنِ بَعْکَکٍ قَالَ وَضَعَتْ سُبَیْعَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِہَا بِثَلَاثٍ وَعِشْرِینَ أَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً فَلَمَّا تَعَلَّتْ تَشَوَّفَتْ لِلنِّکَاحِ فَاُنْکِرَ ذٰلِکَ عَلَیْہَا وَذُکَرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((إِنْ تَفْعَلْ فَقَدْ حَلَّ أَجَلُہَا قَالَ عَفَّانُ فَقَدْ خَلٰی أَجَلُہَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۹۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سنابل بن بعکک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ سبیعہ بنت حارث نے اپنے شوہر کی وفات سے تئیس یا پچیس دن بعد بچے کو جنم دیا، جب مدت نفاس گزر چکی تو اس نے نئی شادی میں رغبت کا اظہار کیا، لیکن اس پر اعتراض کیا گیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں اس چیز کا تذکرہ کیا گیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ عورت ایسا کرنا چاہے تو وہ کر سکتی ہے کیونکہ اس کی عدت وضع حمل کی وجہ سے پوری ہو چکی ہے۔

7235

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7235

Sahih

(۷۲۳۵)۔عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی سُبَیْعَۃَ بِنْتِ أَبِی بَرْزَۃَ الْأَسْلَمِیَّۃِ فَسَأَلْتُہَا عَنْ أَمْرِہَا فَقَالَتْ کُنْتُ عِنْدَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَۃَ فَتُوُفِّیَ عَنِّی فَلَمْ أَمْکُثْ إِلَّا شَہْرَیْنِ حَتّٰی وَضَعْتُ قَالَتْ فَخَطَبَنِی أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْکَکٍ أَخُو بَنِی عَبْدِ الدَّارِ فَتَہَیَّأْتُ لِلنِّکَاحِ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَیَّ حَمَوَیَّ وَقَدْ اخْتَضَبْتُ وَتَہَیَّأْتُ فَقَالَ: مَاذَا تُرِیدِینَ؟ یَا سُبَیْعَۃُ! قَالَتْ فَقُلْتُ أُرِیدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ، قَالَ: وَاللّٰہِ! مَا لَکِ مِنْ زَوْجٍ حَتّٰی تَعْتَدِّینَ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ: فَجِئْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ صلى الله عليه وآله وسلم: ((قَدْ حَلَلْتِ فَتَزَوَّجِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ سبیعہ بنت ابی برزہ اسلمیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا اور ان سے ان کے معاملہ کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: میں سعد بن خولہ کے نکاح میں تھی، وہ فوت ہو گئے اوران کی وفات کے صرف دو ماہ بعد میں نے بچہ جنم دیا، اُدھر بنو عبددار والے ابو سنابل بن بعکک نے مجھے پیغام نکاح بھیجا، میں نکاح کرنے کے لیے تیار تھی کہ میرا دیور میرے پاس آیا، میں نے مہندی بھی لگا لی اور مکمل تیاری کر لی، اس نے کہا: اے سبیعہ کیا کرنا چاہتی ہو؟ میں نے کہا: میں شادی کرنا چاہتی ہوں، اس نے کہا: اللہ کی قسم! تو ابھی شادی نہیں کر سکتی، جب تک کہ چار ماہ دس دن عدت نہ گزار لے، سبیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو حلال ہو چکی ہے اور شادی کر سکتی ہے۔

7236

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7236

Zaeef

(۷۲۳۶)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم: {وَاُلاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ} لِلْمُطَلَّقَۃِ ثَلَاثًا اَوْ لِلْمُتَوَفّٰی عَنْہَا؟ قَالَ: ((ھِیَ لِلْمُطَلَّقَۃِ ثَلَاثًا وَلِلْمُتَوَفّٰی عَنْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: قرآن مجید کی آیت {وَاُلاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ} میں مذکور عدت ان عورتوں کی ہے جن کو تین طلاقیں دی جا چکی ہوں یا یہ بیوہ عورت کی عد ت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواباً فرمایا: دونوں کے لئے۔