Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7184
(۷۱۸۴)۔عَنْ عَائِشۃ رضي الله عنها قَالَتْ: اَقْسَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم اَنْ لَّا یَدْخُلَ عَلٰی نِسَائِہِ شَہْرًا، قَالَتْ: فَلَبِثَ تِسْعًا وَ عِشْرِیْنَ، قَالَتْ: فَکُنْتُ اَوَّلَ مَنْ بَدَأَ بِہِ، فَقُلْتُ لِلنَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم: اَلَیْسَ کُنْتَ اَقْسَمْتَ شَھْرًا؟ فَعَدَتُّ الْاَیَّامَ تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ، فَقَالَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اَلشَّھْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ))۔ (مسند احمد: ۲۴۵۵۱)
اردو ترجمہ · Urdu
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ماہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتیس دن تک رکے رہے، پھر میں وہ پہلی بیوی تھی، جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے پہلے تشریف لائے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: کیا آپ نے ایک ماہ تک نہ آنے کی قسم نہیں اٹھائی تھی؟میں نے تو ابھی انتیس دن شمار کئے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشا د فرمایا: (یہ) مہینہ انتیس دن کا ہے۔