Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 125 · Chapter 1297

ایلاء کے مسائل

{لِلَّذِیْنَ یُوْلُوْنَ مِنْ نِسَائِہِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْھُرٍ… }کی تفسیر کا بیان

8 hadiths in this chapter

7184

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7184

Sahih

(۷۱۸۴)۔عَنْ عَائِشۃ رضي الله عنها قَالَتْ: اَقْسَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم اَنْ لَّا یَدْخُلَ عَلٰی نِسَائِہِ شَہْرًا، قَالَتْ: فَلَبِثَ تِسْعًا وَ عِشْرِیْنَ، قَالَتْ: فَکُنْتُ اَوَّلَ مَنْ بَدَأَ بِہِ، فَقُلْتُ لِلنَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم: اَلَیْسَ کُنْتَ اَقْسَمْتَ شَھْرًا؟ فَعَدَتُّ الْاَیَّامَ تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ، فَقَالَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اَلشَّھْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ))۔ (مسند احمد: ۲۴۵۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک ماہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انتیس دن تک رکے رہے، پھر میں وہ پہلی بیوی تھی، جس کے پاس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سب سے پہلے تشریف لائے، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا: کیا آپ نے ایک ماہ تک نہ آنے کی قسم نہیں اٹھائی تھی؟میں نے تو ابھی انتیس دن شمار کئے ہیں۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارشا د فرمایا: (یہ) مہینہ انتیس دن کا ہے۔

7185

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7185

Sahih

(۷۱۸۵)۔عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَیْلَۃً دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَدَأَ بِی فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّکَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَیْنَا شَہْرًا وَإِنَّکَ قَدْ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِینَ أَعُدُّہُنَّ؟ فَقَالَ: ((إِنَّ الشَّہْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! إِنِّی ذَاکِرٌ لَکِ أَمْرًا فَلَا عَلَیْکِ أَنْ لَا تَعْجَلِی فِیہِ حَتّٰی تَسْتَأْمِرِی أَبَوَیْکِ۔)) ثُمَّ قَرَأَ عَلَیَّ الْآیَۃَ {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ حَتّٰی بَلَغَ أَجْرًا عَظِیمًا۔} قَالَتْ عَائِشَۃُ: قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَیَّ لَمْ یَکُونَا یَأْمُرَانِی بِفِرَاقِہِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَفِی ہٰذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَیَّ فَإِنِّی أُرِیدُ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے (یہ بھی) روایت ہے کہ جب انتیس دن گزر گئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس داخل ہوئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو قسم اٹھائی تھی کہ آپ ایک ماہ تک ہمارے پاس نہیں آئیں گے، میں دن شمارکرتی رہی ہوں، آپ تو ہمارے پاس انتیس دن کے بعد آ گئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک (یہ) مہینہ انتیس دنوں کا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! میں ایک بات ذکر کرنے لگا ہوں، اس کا جواب دینے میں جلد بازی سے کام نہ لینا، پہلے اپنے والدین سے مشورہ کر لینا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ حَتّٰی بَلَغَ أَجْرًا عَظِیمًا۔} سیدہ نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جانتے تھے کہ میرے ماں باپ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جدائی کا کبھی نہیں کہہ سکتے۔ پس میں نے کہا: کیا میں اس بارے میں اپنے ماں باپ سے مشورہ طلب کروں؟ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہوں۔

7186

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7186

Sahih

(۷۱۸۶)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ھَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ نِسَائَ ہُ شَھْرًا فَلَمَّا مَضٰی تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ اَتَاہُ جِبْرِیْلُ فَقَالَ: قَدْ بَرَّتْ یَمِیْنُکَ وَقَدْ تَمَّ الشَّہْرُ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمابیا ن کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں سے ایک ماہ تک قطع تعلقی کر لی، جب انتیس دن گزر گئے تو جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: مہینہ پورا ہو چکا ہے لہٰذا آپ کی قسم بھی پوری گئی۔

7187

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7187

Sahih

(۷۱۸۷)۔عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ انْفَکَّتْ قَدَمُہُ فَقَعَدَ فِی مَشْرُبَۃٍ لَہُ دَرَجَتُہَا مِنْ جُذُوعٍ وَآلَی مِنْ نِسَائِہِ شَہْرًا فَأَتَاہُ أَصْحَابُہُ یَعُودُونَہُ فَصَلّٰی بِہِمْ قَاعِدًا وَہُمْ قِیَامٌ فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ الْأُخْرٰی قَالَ لَہُمْ: ((ائْتَمُّوا بِإِمَامِکُمْ فَإِذَا صَلّٰی قَائِمًا فَصَلُّوا قِیَامًا وَإِنْ صَلّٰی قَاعِدًا فَصَلُّوا مَعَہُ قُعُودًا۔)) قَالَ وَنَزَلَ فِی تِسْعٍ وَعِشْرِینَ قَالُوا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّکَ آلَیْتَ شَہْرًا؟ قَالَ: ((الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قدم مبارک میں موچ آ گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ایک بالا خانے میں تشریف فرما ہوئے، جس کی سیڑھی درخت کے تنوں سے بنائی گئی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں سے ایک ماہ کے لیے قسم بھی اٹھا لی، صحابۂ کرام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمارداری کے لیے آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں بیٹھ کر نمازپڑھائی اور وہ کھڑے تھے، جب دوسری نماز کا وقت آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے امام کی اقتداء کیا کرو، پس جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگروہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انتیس تاریخ کو بالا خانے سے نیچے تشریف لے آئے تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو ایک ماہ کے لیے قسم اٹھا رکھی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ انتیس دنوں کا ہے۔

7188

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7188

Sahih

(۷۱۸۸)۔عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ رضي الله عنها اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم حَلَفَ اَنْ لَّا یَدْخُلَ عَلٰی بَعْضِ اَھْلِہِ شَھْرًا، فَلَمَّا مَضٰی تِسْعَۃٌ وَعِشْرُوْنَ یَوْمًا غَدَا عَلَیْھِمْ اَوْ رَاحَ، فَقِیْلَ لَہُ: حَلَفْتَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! لَا تَدْخُلُ عَلَیْھِنَّ شَھْرًا، فَقَالَ: ((اِنَّ الشَّھْرَ تِسْعَۃٌ وَعِشْرُوْنَ یَوْمًا))۔ (مسند احمد: ۲۷۲۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ماہ تک اپنی بعض بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم اٹھا لی، جب انتیس دن گزر گئے تو صبح یا شام کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے۔کسی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی ! آپ نے تو ایک ماہ تک ان کے پاس داخل نہ ہونے کی قسم کھائی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواب دیا: یہ بلا شبہ مہینہ انتیس دن کا ہے۔

7189

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7189

Sahih

(۷۱۸۹)۔حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاہِیجَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ ہَجَرَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم نِسَائَہُ قَالَ شُعْبَۃُ وَأَحْسَبُہُ قَالَ شَہْرًا فَأَتَاہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضي الله عنه وَہُوَ فِی غُرْفَۃٍ عَلٰی حَصِیرٍ قَدْ أَثَّرَ الْحَصِیرُ بِظَہْرِہِ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کِسْرٰی یَشْرَبُونَ فِی الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَأَنْتَ ہٰکَذَا۔ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّہُمْ عُجِّلَتْ لَہُمْ طَیِّبَاتُہُمْ فِی حَیَاتِہِمْ الدُّنْیَا۔)) ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اَلشَّہْرُ تِسْعَۃٌ وَعِشْرُونَ ہٰکَذَا وَہٰکَذَا۔)) وَکَسَرَ فِی الثَّالِثَۃِ الْإِبْہَامَ۔ (مسند احمد: ۷۹۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں کو ایک ماہ تک چھوڑ دیا، آپ کے پاس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے، جبکہ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بالا خانے میں چٹائی پر تشریف فرما تھے، چٹائی کے نشانات آپ کی کمر مبارک پر نمایاں نظر آ رہے تھے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایران کے بادشاہ تو سونے اور چاندی کے برتنوں میں پئیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح فقر و فاقہ میں ہوں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کی نیکیاں ان کو دنیا میں ہی چکوائی جا رہی ہیں۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا ہے، اس طرح، اس طرح اور اس طرح۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیسری مرتبہ انگوٹھے کو بند کر لیا۔

7190

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7190

Sahih

(۷۱۹۰)۔حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرًا یَقُولُ ہَجَرَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نِسَائَہُ شَہْرًا فَکَانَ یَکُونُ فِی الْعُلْوِ وَیَکُنَّ فِی السُّفْلِ فَنَزَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَیْہِنَّ فِی تِسْعٍ وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّکَ مَکَثْتَ تَسْعًا وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الشَّہْرَ ہٰکَذَا وَہٰکَذَا۔)) بِأَصَابِعِ یَدِہِ مَرَّتَیْنِ وَقَبَضَ فِی الثَّالِثَۃِ إِبْہَامَہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں سے ایک مہینہ تک علیحدگی اختیار کر لی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بالا خانے میں رہائش اختیار کر لی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج مطہرات نیچے تھیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انتیس دنوں کے بعد بیویوں کے پاس اتر آئے تو ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ انتیس دن ٹھہرے ہیں (جبکہ قسم تو مہینے کی تھی)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ اس طرح ہے اور اس طرح ہے اور اس طرح ہے۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسری بار انگوٹھا بند کر لیا۔

7191

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7191

Zaeef

(۷۱۹۱)۔عَنْ خَوْلَۃَ بِنْتِ ثَعْلَبَۃَ قَالَتْ: وَاللّٰہِ! فِیَّ وَفِیْ اَوْسِ بْنِ الصَّامتِ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ صَدْرَ سُوْرَۃِ الْمُجَادَلَۃِ، قَالَتْ: کُنْتُ عِنْدَہُ وَکَانَ شَیْخًا کَبِیْرًا قَدْ سَائَ خُلُقُہُ وَضَجَرَ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَیَّ یَوْمًا فَرَاجَعْتُہُ بِشَیْئٍ فَغَضِبَ فَقَالَ: اَنْتِ عَلَیَّ کَظَہْرِ اُمِّیْ، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ فَجَلَسَ فِیْ نَادِی قَوْمِہِ سَاعَۃً ثُمَّ دَخَلَ عَلَیَّ فَاِذَا ھُوَ یُرِیْدُنِیْ عَلٰی نَفْسِیْ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: کَلَّا وَالَّذِیْ نَفْسُ خُوَیْلَۃَ بِیَدِہٖ! لاتَخْلُصُ اِلَیَّ وَقَدْ قُلْتَ مَا قُلْتَ حَتّٰی یَحْکُمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ فِیْنَا بِحُکْمِہٖ، قَالَتْ: فَوَاثَبَنِیْ وَامْتَنَعْتُ مِنْہُ فَغَلَبْتُہُ بِمَا تَغْلَبُ بِہِ الْمَرْاَۃُ الشَّیْخَ الضَّعِیْفَ فَاَلْقَیْتُہُ، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجْتُ اِلٰی بَعْضِ جَارَاتِیْ فَاسْتَعَرْتُ مِنْہَا ثِیَابَہَا ثُمَّ خَرَجْتُ حَتّٰی جِئْتُ رَسَوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَجَلَسْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَذَکَرْتُ لَہُ مَالَقِیْتُ مِنْہُ فَجَعَلْتُ اَشْکُوْ اِلَیْہِ صلى الله عليه وآله وسلم مَا اَلْقٰی مِنْ سُوْئِ خُلُقِہٖ، قَالَتْ: فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُوْلُ: ((یَا خُوَیْلَۃُ! اِبْنُ عَمِّکِ شَیْخٌ کَبِیْرٌ فَاتَّقِی اللّٰہَ فِیْہِ۔)) قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! مَا بَرِحْتُ حَتّٰی نَزَلَ فِیَّ الْقُرْآنُ فَتَغَشّٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم مَا کَانَ یَتَغَشَّاہُ ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ، فَقَالَ لِیْ: ((یَا خُوَیْلَۃُ! قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْکِ وَفِیْ صَاحِبِکِ۔)) ثُمَّ قَرَاَ عَلَیَّ: {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا وَ تَشْتَکِیْ اِلَی اللّٰہِ، وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ} اِلٰی قَوْلِہِ: {وَلِلْکَافِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ} فَقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((مُرِیْہِ فَلْیُعْتِقْ رَقَبَۃً۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا عِنْدَہُ مَا یُعْتِقُ، قَالَ: ((فَلْیَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ))، قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہُ شَیْخٌ کَبِیْرٌ مَا بِہٖ مِنْ صِیَامٍ، قَالَ: ((فَلْیُطْعِمْ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا ذٰلِکَ عِنْدَہُ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((فَاِنَّا سَنُعِیْنُہُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَاَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! سَاُعِیُنُہُ بِعَرَقٍ آخَرَ، قَالَ: ((قَدْ اَصَبْتِ وَاَحْسَنْتِ فَاذْھَبِیْ فَتَصَدَّقِیْ عَنُہُ، ثُمَّ اسْتَوْصِیْ بِاِبْنِ عَمِّکِ خَیْرًا۔))، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ اَبِیْ: قَالَ سَعْدٌ: اَلْعَرَقُ اَلصَّنُّ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ خولہ بنت ثعلبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے ، وہ کہتی ہیں: اللہ کی قسم! سورۂ مجادلہ کی شروع والی آیات میرے اور میرے خاوند سیدنا اوس بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھیں، تفصیل یہ ہے کہ میں ان کے نکاح میں تھی، وہ بہت بوڑھے تھے، ان میں سختی اور چڑچڑا پن بھی پیدا ہو چکا تھا، ایک دن وہ میرے پاس آئے، میں نے ان سے کسی چیز کے بارے تکرار کیا، وہ غضب ناک ہوئے اور کہہ دیا: تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مانند ہے، یہ کہہ کر وہ باہر چلے گئے اور کچھ دیر اپنی قوم کی مجلس میں بیٹھ کر آئے اور مجھ سے جماع کی خواہش کی، میں نے کہا: ایسا ہر گز نہیں ہو گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں خولہ کی جان ہے! آپ میرے تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے، کیونکہ آپ نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا ہے، آپ نے ظہار کر لیا ہے، اب تب ہی میرے پاس آ سکتے ہو، جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے حکم کے مطابق فیصلہ کریں گے تو۔ یہ سن کر وہ مجھ پر کود پڑے، مگر میں خود کو محفوظ رکھنے میں ان پر غالب آ گئی وہ بہت ضعیف اوربوڑھے تھے، میں نے انہیں خود سے دور کر دیا اور میں ایک پڑوسن کے گھر گئی اور اس سے چادر ادھار مانگ کر اپنے اوپر لی اور میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئی، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیٹھ کر اپنے خاوند سے پیش آنے والا سارا معاملہ بیان کیا، میں جو اپنے خاوند کی بداخلاقی کا شکار ہوئی تھی، اس کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شکایت کی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے: اے خولہ! یہ تیرے چچے کا بیٹا ہے اور نہایت بوڑھا ہو چکا ہے، اب اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا خوف کر۔ لیکن میں بھی ڈٹی رہی اور اللہ کی قسم ہے کہ ابھی میں اپنی جگہ سے ہٹی نہیں تھی کہ میرے بارے میں قرآن پاک نازل ہوا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کی کیفیت طاری ہو گئی، جو وحی کے نزول کے وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ڈھانپ لیتی تھی، پھر جب وہ کیفیت دور ہوئی توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے خولہ! تیرے اور تیرے خاوند کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل کر دیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیات تلاوت کیں: {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا وَ تَشْتَکِیْ اِلَی اللّٰہِ، وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ … … وَلِلْکَافِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ}۔ سیدہ خولہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خاوند سے کہو کہ وہ ایک غلام یا لونڈی بطور کفارہ ادا کرے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے پاس گردن آزاد کرنے کی گنجائش نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو بہت بوڑھا ہے، وہ روزے کی طاقت نہیں رکھتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر وہ ساٹھ مسکینوں میں ایک وسق کھجور یں تقسیم کر دے۔ خولہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے پاس یہ بھی نہیں ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس کے ساتھ ایک ٹوکرا کھجوروں کا تعاون کرتا ہوں (جس کی مقدار تقریباً پندر ہ صاع ہے)۔ سیدہ خولہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بھی اس قسم کا ایک ٹوکرا اس کا تعاون کر دیتی ہوں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے درست فیصلہ کیا ہے اور بہت ہی اچھا کیا، اب چلی جا اور اس کی جانب سے صدقہ کر اور اب اپنے چچا کے بیٹے سے اچھا معاملہ کرنا۔ پس میں نے ایسا ہی کیا۔ سعد راوی نے کہا: عرق سے مراد ڈبہ یا ٹوکرا ہے۔