Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 123 · Chapter 1293

طلاق کا بیان

سوئے ہوئے، نابالغ بچے اور پاگل اور ذہنی خیالات کی طلاق واقع نہ ہونے کا بیان

2 hadiths in this chapter

7169

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7169

Sahih

(۷۱۶۹)۔عَنْ عَائِشَۃَ رضي الله عنها عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ، عَنِ الصَّبِیِّ حَتّٰی یَحْتَلِمَ وَعَنِ النَّائِمِ حَتّٰی یَسْتَیْقِظَ، وَعَنِ الْمَعْتُوْہِ حَتّٰی یَعْقِلَ))۔ (مسند احمد: ۲۵۲۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین قسم کے افراد مرفوع القلم ہیں(یعنی گناہ کی سزا سے بری ہیں): ایک نابالغ بچہ، جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے، دوسرا سویا ہوا شخص، جب تک وہ بیدار نہ ہو جائے اور تیسرا پاگل شخص، جب تک اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہ ہو جائے۔

7170

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7170

Sahih

(۷۱۷۰)۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((تُجُوِّزَ (وَفِیْ لَفْظٍ: اَنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ) لِاُمَّتِیْ عَمَّا حَدَّثَتْ فِیْ اَنْفُسِہَا اَوْ وَسْوَسَتْ بِہِ اَنْفُسُہَا مَالَمْ تَعْمَلْ بِہِ اَوْ تَکَلَّمْ بِہِ))۔ (مسند احمد: ۷۴۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کے(افراد کے دل میں آنے والے فاسد) خیالات اور دلی وسوسوں سے تب تک در گزر فرمایا ہے، جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے یاانہیں زبان پر نہ لا یا جائے۔