Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7167
(۷۱۶۷)۔عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ اَنَّ اَبَا حَسَنٍ مَوْلٰی اَبِیْ نَوْفَلٍ اَخْبَرَہُ اَنَّہُ اسْتَفْتَی ابْنَ عَبَّاسٍ فِیْ مَمْلُوْکٍ تَحْتَہُ مَمْلُوْکَۃٌ فَطَلَّقَھَا تَطْلِیْقَتَیْنِ ثُمَّ عُتِقَا ھَلْ یَصْلَحُ لَہُ اَنْ یَخْطُبَھَا؟ قَالَ: نَعَمْ قَضٰی بِذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم۔ (مسند احمد: ۲۰۳۱)
اردو ترجمہ · Urdu
۔ ابو حسن سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ ایک غلام ہے، اس کی بیوی بھی لونڈی ہے، وہ اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیتا ہے، پھر وہ دونوں آزاد ہو جاتے ہیں توکیا اب اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کو منگنی کا پیغام بھیجے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے جواب دیا:ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فیصلہ کیا تھا۔