Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 120 · Chapter 1255

نکاح کے موانع کا بیان

نکاح متعہ کے منسوخ اور منہی عنہ ہونے کا بیان

7 hadiths in this chapter

6989

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6989

Sahih

۔ (۶۹۸۹)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ أَنَّہ، سَمِعَ أَبَاہُ عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ لِاِبْنِ عَبَّاسٍ: وَبَلَغَہُ أَنَّہ رَخَّصَ فِیْ مُتْعَۃِ النِّسَائِ، فَقَالَ لَہُ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَہٰی عَنْہَا یَوْمَ خَیْبَرَ وَعَنْ لُحُوْمِ الْحُمُرِ الْأَھْلِیَّۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کو سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے حوالے سے اس بات کا علم ہوا کہ وہ متعہ کی رخصت دیتے ہیں تو انھوں نے ان کو کہا:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع کر دیا تھا۔

6990

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6990

Sahih

۔ (۶۹۹۰)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ نُعَیْمِ الْأَعْرَجِیِّ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ وَ اَنَا عِنْدَہُ عَنِ الْمُتْعَۃِ، مُتْعَۃِ النِّسَائِ فَغَضِبَ وَقَالَ: واللّٰہِ! مَاکُنَّا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زُنَاۃً وَلَا مُسَافِحِیْنَ۔ (مسند احمد: ۵۸۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد الرحمن بن نعیم اعرجی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے متعہ کے نکاح کے بارے میں سوال کیا، وہ غصے میں آگئے اور کہا: اللہ کی قسم! ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں زنا کار اور بدکار نہ تھے۔

6991

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6991

Sahih

۔ (۶۹۹۱)۔ عَنِ الرَّبِیْعِِ بْنِ سَبْرَۃَ الْجُہَنِیِّ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ فَأَقَمْنَا خَمْسَ عَشْرَۃَ مِنْ بَیْنِ لَیْلَۃٍ وَیَوْمٍ، قَالَ: فَاِذَنَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمُتْعَۃِ، قَالَ: وَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِیْ فِیْ اَسْفَلِ مَکَّۃَ أَوْ قَالَ: فِیْ أَعَلَا مَکَّۃَ فَلَقِیْنَا فَتَاۃٌ مِنْ بَنِیْ عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَۃَ کَاَنَّہَا الْبَکْرَۃُ الْعَنَطْنَطَۃُ، قَالَ: وَأَنَا قَرِیْبٌ مِنَ الدَّمَامَۃِ وَعَلَیَّ بُرْدٌ جَدِیْدٌ غَضٌّ، وَعَلَی ابْنِ عَمِّیْ بُرْدٌ خَلَقٌ، قَالَ: فَقُلْنَا لَھَا: ھَلْ لَکَ أَنْ یَسْتَمْتِعَ مِنْکِ أَحَدُنَا؟ قَالَتْ: وَھَلْ یَصْلُحُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ اِلَی ابْنِ عَمِّیْ، فَقُلْتُ لَھَا: اِنَّ بُرْدِیْ ھٰذَا جَدِیْدٌ غَضٌّ وَبُرْدُ ابْنِ عَمِّیْ ھٰذَا خَلَقٌ مَحٌّ، قَالَتْ: بُرْدُ ابْنِ عَمِّکَ ھٰذَا لَا بَأْسَ بِہِ، فَاسْتَمْتَعَ مِنْہَا فَلَمْ نَخْرُجْ مِنْ مَکَّۃَ حَتّٰی حَرَّمَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سبرہ جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ فتح مکہ والے دن نکلے، ہم پندرہ روز وہاں ٹھہرے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نکاح متعہ کی اجازت دے دی، میں اور میرا چچا زاد مکہ کے زیریں یا بالائی علاقے میں گئے، وہاں ہم بنی عامر بن صعصعہ کی ایک نوجوان لڑکی سے ملے، گویا کہ وہ لمبی گردن والی نوخیز اونٹنی تھی، میں خوش شکل نہ تھا، لیکن میری چادر بالکل نئی تھی اور میرے چچا کے بیٹے پر پرانی اور بوسیدہ چادر تھی، ہم نے اس سے کہا: کیا تو ہم میں سے کسی ایک کے ساتھ نکاح متعہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟ اس نے کہا: کیایہ کرنا درست ہے؟ ہم نے کہا: ہاں، پھر اس نے دیکھنا شروع کر دیا، جب وہ میرے چچا زاد بھائی کی جانب دیکھتی تو میں اس کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کہتا: میری یہ چادر بالکل نئی ہے اور اس کی چادر پرانی اور بوسیدہ ہے۔ اس نے کہا: تیرے چچا زاد بھائی کی چادر میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، پس اس نے میرے چچا زاد بھائی سے متعہ کر لیا، بعد میں ہم ابھی مکہ سے باہر نہیں آئے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح متعہ کو حرام قرار دیا۔

6992

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6992

Sahih

۔ (۶۹۹۲)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِعُسْفَانَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْعُمْرَۃَ قَدْ دَخَلَتْ فِی الْحَجِّ۔)) فَقَالَ لَہُ سُرَاقَۃُ بْنُ مَالِکٍ أَوْ مَالِکُ بْنُ سُرَاقَۃَ شَکَّ عَبْدُ الْعَزِیْزِ: أَیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ عَلِّمْنَا تَعْلِیْمَ قَوْمٍ کَأَنَّمَا وُلِدُوْا الْیَوْمَ، عُمْرَتُنَا ھٰذِہٖلِعَامِنَاھٰذَاأَمْلِلْاَبَدِ؟قَالَ: ((لَابَلْلِلْأَبَدِ۔)) فَلَمَّاقَدِمْنَامَکَّۃَ طُفْنَا الْبَیْتَ وَبَیْنَ الْصَفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ أَمَرَنَا بِمُتْعَۃِ النِّسَائِ فَرَجَعْنَا اِلَیْہِ فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہُنَّ قَدْ أَبَیْنَ اِلَّا اِلٰی أَجَلٍ مُسَمّٰی، قَالَ: ((فَافْعَلُوْا)) قَالَ: فَخَرَجْتُ اَنَا وَصَاحِبٌ لِیْ،عَلَیَّ بُرْدٌ وَعَلَیْہِ بُرْدٌ فَدَخَلْنَا عَلَی امْرَأَۃٍ فَعَرَضْنَا عَلَیْہَا أَنْفُسَنَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ اِلٰی بُرْدِ صَاحِبِیْ، فَتَرَاہُ أَجْوَدَ مِنْ بُرْدِیْ وَتَنْظُرُ اِلَیَّ فَتَرَانِیْ أَشَبَّ مِنْہُ فَقَالَتْ: بُرْدٌ مَکَانَ بُرْدٍ، وَاخْتَارَتْنِیْ فَتَزَوَّجْتُہَا عَشْرًا بِبُرْدِیْ فَبِتُّ مَعَہَا تِلْکَ اللَّیْلَۃَ فَلَمَّا اَصْبَحْتُ غَدَوْتُ اِلَی الْمَسْجِدِ فَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ یخَطُبَیَقُوْلُ: ((مَنْ کَانَ مِنْکُمْ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً اِلٰی أَجَلٍ فَلْیُعْطِہَا مَاسَمّٰی لَھَا وَلَا یَسْتَرْجِعْ مِمَّا اَعْطَاھَا شَیْئًا وَلْیُفَارِقْہَا، فَاِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَدْ حَرَّمَہَا عَلَیْکُمْ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سبرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر نکلے، جب ہم عسفان میں تھے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمرہ حج میں داخل ہو چکا ہے۔ سراقہ بن مالک یا مالک بن سراقہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اس طرح تعلیم دیں، جس طرح اس قوم کو تعلیم دی جاتی ہے جو آج پیدا ہوئی ہو، سوال یہ ہے کہ ہمارا یہ عمرہ اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے۔ جب ہم مکہ میں پہنچے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے کی اجازت دے دی۔ ہم آپ کی طرف واپس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! عورتوں نے انکار کر دیا ہے، البتہ وہ مقررہ وقت تک ماننے کے لیے تیار ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسے ہی کرلو۔ میں نکلا ، میرے ساتھ ایک ساتھی بھی تھا، ایک چادر میرے اوپر تھی، ایک چادر اس کے اوپر تھی۔ ہم ایک عورت کے پاس گئے، ہم نے اپنے آپ کو اس پر پیش کیا، جب وہ عورت میرے ساتھی کی چادر کی جانب دیکھتی تواسے میری چادر سے عمدہ پاتی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے اس سے زیادہ جوان پاتی، بالآخر اس نے کہا: چادر تو چادر ہی ہے، آدمی کا بدل تو نہیں ہوتا، پس اس نے مجھے پسند کر لیا، میں نے اس سے دس دن کے لئے چادر کے عوض شادی کر لی، میں نے اس کے ساتھ ابھی تک ایک رات گزاری تھی کہ جب میں صبح کے وقت مسجد میں گیا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منبر پر پایا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ تم میں سے جس نے بھی کسی عورت سے وقت مقررہ تک شادی کی ہے، جو عوض مقرر کیا ہے ،وہ اسے دے دے اور جو دے رکھا ہے، وہ واپس نہ لے اور اسے جدا کر دے، اللہ تعالی نے اس متعہ والے نکاح کو تم پر قیامت تک کے لئے حرام کر دیا ہے۔

6993

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6993

Sahih

۔ (۶۹۹۳)۔ وعَنْہُ اَیْضًا عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ مُتْعَۃِ النِّسَائِ یَوْمَ الْفَتْحِ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سبرہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے دن نکاح متعہ سے منع کر دیا تھا۔

6994

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6994

Sahih

۔ (۶۹۹۴)۔ عَنِ الزُّھْرِیِّ قَالَ: تَذَاکَرْنَا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ الْمُتْعَۃَ مُتْعَۃَ النِّسَائِ، فقَالَ رَبِیْعُ بْنُ سَبْرَۃَ: سَمِعْتُ اَبِیْیَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ یَنْہٰی عَنْ نِکَاحِ الْمُتْعَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ امام زہری کہتے ہیں: ہم نے عمر بن عبد العزیز کے پاس متعہ کا ذکرکیا، ربیع بن سبرہ نے کہا: میں نے اپنے باپ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃالوداع کے موقع پر متعہ کا نکاح حرام قرار دیا تھا۔

6995

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6995

Sahih

۔ (۶۹۹۵)۔ عَنْ إِیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ عَنْ اَبَیْہِ قَالَ: رَخَّصَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتْعَۃَ النِّسَائِ عَامَ أَوْطَاسٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اوطاس والے سال متعہ کی رخصت دی تھی۔