Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 120 · Chapter 1250

نکاح کے موانع کا بیان

حرام کرنے والی رضعات کی تعداد اور بڑے آدمی کی رضاعت کا بیان

6 hadiths in this chapter

6967

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6967

Sahih

۔ (۶۹۶۷)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ أَبَا حُذَیْفَۃَ تَبَنّٰی سَالِمًا وَھُوَ مَوْلٰی لِِاِمْرَأَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ کَمَا تَبَنَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَیْدًا، وَکَانَ مَنْ تَبَنّٰی رُجْلًا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ دَعَاہُ النَّاسُ ابْنَہُ وَ وَرِثَ مِنْ مِیْرَاثِہِ حَتّٰی أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {اُدْعُوْھُمْ لِآبَائِہِمْ ھُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ، فَاِنْ لَمْ تَعْلَمُوْا آبَائَ ھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ} فَرُدُّوْا إِلٰی آبَائِہِمْ، فَمَنْ لَمْ یُعْلَمْ لَہُ أَبٌ فَمَوْلًی وَأَخٌ فِیْ الدِّیْنِ، فَجَائَتْ سَہْلَۃُ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنَّا نَرٰیسَالِمًا وَلَدًا یَأْوِیْ مَعِیَ وَمَعَ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ وَیَرَانِیْ فُضُلًا (وَفِیْ لَفْظٍ: وَقَدْ بَلَغَ مَا یَبْلُغُ الرِّجَالُ) وَقَدْ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِمْ مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَقَالَ: ((اَرْضِعِیْہِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اَرْضِعِیْہِ تَحْرُمِیْ عَلَیْہِ۔)) فَکَانَ بِمِنْزِلَۃِ وَلَدِھَا مِنَ الرَّضَاعِ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ:) فَاَرْضَعْتُہُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَکَانَ بِمَنْزِلَۃِ وَلَدِھَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ فَبِذَالِکَ کَانَتْ عَائِشَۃُ تَأْمُرُ أَخَوَاتِہَا وَبَنَاتِ أَخَوَاتِہَا أَنْیُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَۃُ أَنْ یَرَاھَا وَیَدْخُلَ عَلَیْہَا وَاِنْ کَانَ کَبِیْرًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ یَدْخُلُ عَلَیْہَا، وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُدْخِلْنَ عَلَیْہِنَّ بِتِلْکَ الرَّضَاعَۃِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ حَتّٰییَرْضَعَ فِی الْمَہْدِ وَقُلْنَ لِعَائِشَۃَ: وَاللّٰہِ! مَانَدْرِیْ لَعَلَّہَا کَانَتْ رُخْصَۃً مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِسَالِمٍ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا سالم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا، سالم انصار کی ایک عورت کا غلام تھا، اس نے اس کو آزاد کر دیا تھا اورسیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کو منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا، جس طرح کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو متبنی بیٹا بنا لیا تھا، دورِجاہلیت میں لوگ ایسا کرتے تھے، پھر جو منہ بولا بیٹا بناتا تھا اس کو بیٹا کہہ کر ہی آواز دیتا تھا اور وہ وراثت کا حقدار بننا تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے یہ حکم اتار دیا: {اُدْعُوْھُمْ لِآبَائِہِمْ……فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ} انہیں ان کے باپوں کے نام سے پکارو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات زیادہ انصا ف والی ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہیں جانتے تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔ (سورۂ احزاب:۵)اس آیت کے بعد منہ بولے بیٹے اصلی باپ کے نام کی جانب پھیر دئیے گئے، جن کے باپوں کے نام معلوم نہ تھے، ان کو دوست یا بھائی کہہ کر پکارا جاتا، سیدنا ابو حذیفہ کی اہلیہ سیدہ سہلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئیں اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو سالم کو بیٹا بنا رکھا تھا، وہ میرے اور ابو حذیفہ کے پاس آتا تھا اور کام کاج کے عام کپڑوں میں دیکھتا رہتا تھا، اب وہ بڑا ہو چکا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالی نے ان کے بارے میں یہ حکم بھی اتار دیا ہے کہ منہ بولا بیٹا، حقیقی نہیں ہوتا، انہیں ان کے باپوں کے نام سے پکارو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اس کو پانچ مرتبہ دودھ پلا دے، اس وجہ سے تو اس پر حرام ہو جائے گی اور وہ رضاعی بیٹا بن جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: پس سہلہ نے اسے پانچ مرتبہ دودھ پلایا اور یہ ان کے رضاعی بیٹا بن گیا۔ اس واقعہ سے استدلال کرتے ہوئے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا جن افراد کو دیکھنا چاہتی تھیں، اپنی بہنوں کو اور بھانجیوں کو حکم دیتیں کہ وہ ان کو دودھ پلا دیں، اگرچہ وہ بڑی عمر کے ہوتے، جب وہ اسے پانچ مرتبہ دودھ پلا دیتیں تو وہ داخل ہو سکتا تھا، مگر سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دوسری ازواج مطہرات کسی کو اس رضاعت کی وجہ سے داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتی تھیں، وہ اس رضاعت کو معتبر سمجھتی تھیں، جو دودھ کی عمر میں ہوتی تھی، اور وہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہتی تھیں کہ ممکن ہے یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے نہ ہو، بلکہ صرف سیدنا سالم کے لئے ہو کہ انہوں نے بڑی عمر میں بھی دودھ پی لیا تو رضاعت ثابت ہوگئی۔

6968

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6968

Sahih

۔ (۶۹۶۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اَتَتْ سَہْلَۃُ بِنْتُ سُہَیْلٍ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ سَالِمًا کَانَ مِنَّا حَیْثُ قَدْ عَلِمْتَ، اَنَّا کُنَّا نَعُدُّہُ وَلَدًا، فَکَانَ یَدْخُلُ عَلَیَّ کَیْفَ شَائَ وَلَا نَحْتَشِمُ مِنْہُ، فَلَمَّا أَنْزَلَ فِیْہِ وَفِیْ اَشْبَاھِہِ مَا أَنْزَلَ، أَنْکَرْتُ وَجْہَ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ اِذَا رَآہُ، یَدْخُلُ عَلَیَّ، قَالَ: ((فَأَرْضِعِیْہِ عَشْرَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ لِیَدْخُلْ عِلَیْکِ کَیْفَ شَائَ فَاِنَّمَا ھُوَ ابْنُکِ۔))، فَکَانَتْ عَائِشَۃُ تَرَاہُ عَامًّا لِلْمُسْلِمِیْنَ، وَکَانَ مَنْ سِوَاھَا مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرٰی اَنَّہَا کَانَتْ خَاصَّۃً لِسَالِمٍ مَوْلٰی اَبِیْ حُذَیْفَۃَ الَّذِیْ ذَکَرَتْ سَہْلَۃُ مِنْ شأَنْہِ رُخْصَۃً لَہُ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سہلۃ بنت سہیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ سالم کا ہمارے ہاں کیا مقام تھا، بس ہم اس کو بیٹا ہی سمجھتے تھے، وہ میرے پاس جیسے چاہتا، آجاتا تھا، ہم اس کی کوئی پرواہ نہ کرتے تھے، اب اس کے بارے میں اور اس قسم کے لے پالک لڑکوں کے بارے میں نیا حکم نازل ہو چکا ہے، اب جب سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو دیکھتے ہیں تو ان کا چہرہ متغیرہو جاتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اسے دس مرتبہ دودھ پلادے، پھر وہ جیسے چاہے، تیرے پاس آ جائے، وہ تیرا بیٹا بن جائے گا۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اس حکم کو عام سمجھتی تھیں، لیکن دوسری ازواج مطہرات کا خیال تھا کہ یہ حکم مولائے ابی حذیفہ سالم کے ساتھ خاص تھا، کیونکہ سیدہ سہلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس کی ایک خاص صورت ذکر کی تھی۔

6969

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6969

Sahih

۔ (۶۹۶۹)۔ عَنْ سَہْلَۃَ امْرَأَۃِ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ سَالِمًا مَوْلٰی اَبِیْ حُذَیْفَۃَیَدْخُلُ عَلَیَّ وَھُوَ ذُوْلِحْیَۃٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ A: ((أَرْضِعِیْہِ۔)) فقَالَتْ: کَیْفَ اُرْضِعُہُ وَھُوَ ذُوْلِحْیَۃٍ، فَاَرْضَعَتْہُ فَکَانَ یَدْخُلُ عَلَیْہَا۔ (مسند احمد: ۲۷۵۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اہلیہ سیدہ سہلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سیدنا ابوحذیفہ کا آزاد شدہ غلام میرے پاس آتا ہے، جبکہ اب تو وہ داڑھی والا جوان ہو چکا ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اسے دودھ پلا دے۔ اس نے کہا: میں اسے کیسے دودھ پلا ؤں وہ تو داڑھی والا ہے؟ پھر انھوں نے اس کو دودھ پلا دیا تھا اور وہ ان کے پاس آتا جاتا تھا۔

6970

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6970

Sahih

۔ (۶۹۷۰)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَتْ تَقُوْلُ: أَبٰی سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُدْخِلْنَ عَلَیْہِنَّ اَحَدًا بِتِلْکَ الرَّضَاعَۃِ وَقُلْنَ لِعَائِشَۃَ: وَاللّٰہِ! مَانَرٰی ھٰذَا اِلَّا رُخْصَۃً أَرْخَصَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِسَالِمٍ خَاصَّۃً، فَمَا ھُوَ بِدَاخِلٍ عَلَیْنَا أَحَدٌ بِہٰذِہِ الرَّضَاعَۃِ وَلَا رَائِیْنَا۔ (مسند احمد: ۲۷۱۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی تھیں: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ باقی تمام ازواجِ مطہرات نے اس سے انکار کر دیا تھا کہ سالم جیسی رضاعت کی وجہ سے کوئی آدمی ان کے پاس آئے، اور انھوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: ہماری تو صرف یہ رائے ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دی ہوئی یہ رخصت سالم کے ساتھ خاص ہے، لہٰذا ایسی رضاعت کی وجہ سے نہ کوئی ہم پر داخل ہو اور نہ ہمیں دیکھے۔

6971

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6971

Sahih

۔ (۶۹۷۱)۔ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: قَالَتْ اُمُّ سَلَمَۃَ لِعَائِشَۃَ: إِنَّہ یَدْخُلُ عَلَیْکِ الْغُلَامُ الْأَیْفَعُ الَّذِیْ مَا أُحِبُّ اَنْ یَدْخُلَ عَلَیَّ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: أَ مَا لَکِ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ؟ قَالَتْ: اِنَّ امْرَأَۃَ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ سَالِمًا یَدْخُلُ عَلَیَّ وَھُوَ رَجُلٌ، وَفِیْ نَفْسِ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ مِنْہُ شَیْئٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَرْضِعِیْہِ حَتّٰییَدْخُلَ عَلَیْکِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ زینب بنت ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: عائشہ! آپ کے پاس بلوغت کے قریب ایک لڑکا آتا ہے، میں پسند نہیں کرتی کہ وہ میرے پاس آئے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا : کیا آپ کے لئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں بہترین نمونہ نہیں ہے؟ ابو حذیفہ کی بیوی نے کہا: اے اللہ کے رسول! سالم میرے پاس آتا ہے اور اب وہ مرد بن چکا ہے اور ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کے آنے کو اچھا نہیں سمجھتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اسے دودھ پلا دے تاکہ وہ تیرے پاس آ سکے۔

6972

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6972

Sahih

۔ (۶۹۷۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا جَائَتْ سَہْلَۃُ بِنْتُ سُہَیْلٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ أَرٰی فِیْ وَجْہِ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ شَیْئًا مِنْ دُخُوْلِ سَالِمٍ عَلَیَّ، فَقَالَ: ((أَرْضِعِیْہِ۔))، فَقَالَتْ: کَیْفَ اُرْضِعُہُ وَھُوَ رَجُلٌ کَبِیْرٌ، فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((أَ لَسْتُ اَعْلَمُ أَنَّہُ، رَجُلٌ کَبِیْرٌ؟)) ثُمَّ جَائَتْ فَقَالَتْ: مَا رَاَیْتُ فِیْ وَجْہِ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ شَیْئًا اَکْرَھُہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سہلہ بنت سہیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! جب سالم میرے پاس داخل ہوتا ہے تو مجھے اپنے خاوند سیدنا ابوحذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چہرے پر تبدیلی نظر آتی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تواسے دودھ پلا دے۔ اس نے کہا: میں اس کو کیسے دودھ پلاؤں، وہ اتنا بڑا ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہنسنے لگے اور فرمایا: کیا میں نہیں جانتا کہ وہ بڑا ہے۔ پھر جب وہ آئی تو اس نے کہا:اب حذیفہ کے چہرے میں کوئی کراہت نظر نہیں آتی۔