Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 120 · Chapter 1249

نکاح کے موانع کا بیان

کیا دودھ پلانے والی خاتون کے خاوند اور اس کے رشتہ داروں کے لیے بھی رضاعت کا حکم ثابت ہو جائے گا یا نہیں

4 hadiths in this chapter

6963

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6963

Sahih

۔ (۶۹۶۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: جَائَ نِیْ عَمِّیْ مِنَ الرَّضَاعَۃِیَسْتَأْذِنُ عَلَیَّ بَعْدَ مَاضُرِبَ الْحِجَابُ فَذَکَرَ نَحْوَہ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: پردہ کے احکام نازل ہونے کے بعد میرے رضاعی چچا نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، … پھر وہی حدیث بیان کی۔

6964

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6964

Sahih

۔ (۶۹۶۴)۔ (وعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: جَائَ نِیْ أَفْلَحُ بْنُ اَبِیْ الْقُعَیْسِیَسْتَأْذِنُ عَلَیَّ، وَالَّذِیْ أُرْضِعَتْ عَائِشَۃُ مِنْ لَبَنِہِ ھُوَ أَخُوُہ،، فَجَائَ یَسْتَأْذِنُ عَلَیَّ فَأَبَیْتُ أَنْ آذَنَ لَہُ، فَدَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ A فَقَالَ: ((ائْذَنِیْ لَہُ۔)) الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: افلح بن ابی قعیس آیا اور میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، جس خاتون نے عائشہ کو دودھ پلایا تھا، یہ شخص اس کے خاوند کا بھائی تھا، پس اس نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، لیکن میں نے انکار کر دیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو اجازت دے دیا کر۔ … الحدیث۔

6965

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6965

Sahih

۔ (۶۹۶۵)۔ عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُوْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: امْرَأَۃُ اَبِیْ اَرْضَعَتْ جَارِیَۃً مِنْ عُرْضِ النَّاسِ بِلَبَنِ أَخَوَیَّ، أَ فَتَرٰی أَنِّی أَتَزَوَّجُہَا؟ فَقَالَ: لَا، أَبُوْکَ أَبُوْھَا قَالَ: ثُمَّ حَدَّثَ حَدِیْثَ اَبِیْ الْقُعَیْسِ فَقَالَ: اِنَّ أَبَا الْقُعَیْسِ أَتٰی عَائِشَۃَیَسْتَأْذِنُ عَلَیْہَا فَلَمْ تَأْذَنْ لَہُ، فَلَمَّا جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبَا قُعَیْسٍ جَائَ یَسْتَأْذِنُ عَلَیَّ فَلَمْ آذَنْ لَہ،، فَقَالَ: ((ھُوَ عَمُّکِ فَلْیَدْخُلْ عَلَیْکِ۔))، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِی الْمَرْأَۃُ وَلَمْ یُرْضِعْنِیْ الرَّجُلُ، فَقَالَ: ((ھُوَ عَمُّکِ فَلْیَدْخُلْ عَلَیْکِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۳۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

عباد بن منصور کہتے ہیں:میں نے قاسم بن محمد سے کہا: میرے باپ کی بیوی نے میرے بھائیوں کا دودھ عوام میں سے کسی لڑکی کو پلایا، اب کیا میں اس لڑکی سے شادی کر سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا: نہیں، کیونکہ اب تیرا اور اس لڑکی کاباپ ایک ہے، پھر اس نے ابو قعیس کی حدیث بیان کی اور وہ اس طرح کہ ابو قعیس، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آیا اور ان سے اندر جانے کی اجازت طلب کی، لیکن انہوں نے اس کو اجازت نہ دی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو قعیس آیا تھا، اس نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، لیکن میں نے اس کو اجازت نہیں دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تو تمہارا چچا ہے، اس کو تمہارے پاس آ جانا چاہیے۔ میں نے کہا: مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے، نہ کہ مردنے ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں کہہ رہا ہوں وہ آپ کا چچا ہے،وہ تمہارے پاس آ سکتا ہے۔

6966

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6966

Sahih

۔ (۶۹۶۶)۔ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّ عَائِشَۃَ أَخْبَرَتْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ عِنْدَھَا وَأَنَّہَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ یَسْتَأْذِنُ فِیْ بَیْتِ حَفْصَۃَ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: فقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذَا رَجُلٌ یَسْتَأْذِنُ فِیْ بَیْتِکَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَرَاہُ فُلَاناً لِعَمٍّ لِحَفْصَۃَ مِنَ الرَّضَاعَۃِ۔))، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوْکَانَ فُلَانٌ حَیًّا لِعَمِّہَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ دَخَلَ عَلَیَّ؟ فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ، إِنَّ الرَّضَاعَۃَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے، میں نے ایک آدمی کی آواز سنی، وہ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر داخل ہونے کی اجازت مانگ رہاتھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آدمی، آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ حفصہ کا فلاں رضاعی چچا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میرا فلاں رضاعی چچا زندہ ہوتا تو وہ مجھ پر داخل ہو سکتا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، بیشک رضاعت ان رشتوں کو حرام کر دیتی ہے، جو نسب اور ولادت کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔