Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 118 · Chapter 1235

نکاح کے مسائل

باپ کا اپنی بیوہیا بالغ کنواری بچی کا اس کی رضامندی کے بغیر شادی کر دینے کا بیان

4 hadiths in this chapter

6898

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6898

Zaeef

۔ (۶۸۹۸)۔ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ اَبِیْ لُبَابَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذرِ الْاَنْصَارِیِّ أَنَّ جَدَّتَہُ أُمَّ السَّائِبِ خُنَاسَ بِنْتَ خِذَامِ بْنِ خَالِدٍ کَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ قَبْلَ اَبِیْ لُبَابَۃَ تَأَیَّمَتْ مِنْہُ فَزَوَّجَہَا أَبُوْھَا خِذَامُ بْنُ خَالِدٍ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ، فَأَبَتْ اِلَّا أَنْ تَحُطَّ اِلٰی اَبِیْ لُبَابَۃَ وَأَبٰی أَبُوْھَا اِلَّا أَنْ یَلْزِمَہَا الْعَوْفِیَّ حَتَّی اِرْتَفَعَ أَمْرُھَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھِیَ أَوْلٰی بِأَمْرِھَا فَأَلْحِقْہَا بِہَوَاھَا۔))، قَالَ: فَانْتُزِعَتْ مِنَ الْعَوْفِیِّ وَتَزَوَّجَتْ أَبَا لُبَابَۃَ فَوَلَدَتْ لَہُ أَبَا السَّائِبِ بْنَ اَبِیْ لُبَابَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حجاج بن سائب سے مروی ہے کہ اس کی جدہ (دادی یا نانی) ام سائب خُناس بنت خذام ،ابو لبابہ کے زیر نکاح آنے سے پہلے ایک اور آدمی کی بیوی تھی، وہ آدمی فوت ہو گیا اور وہ بیوہ بن گئی، پھر اس کے باپ خذام نے بنو عمرو بن عوف بن خزرج کے ایک آدمی سے اس کی شادی کر دی، لیکن اس نے اس کے ہاں جانے سے انکار کر دیا اوراس کی یہی رٹ تھی کہ اس نے ابو لبابہ سے شادی کرنی ہے، مگر اس کا باپ اس چیز پر بضد تھا کہ یہ جائے گی تو صرف عوف قبیلہ کے آدمی کے گھر ہی جائے گی،یہاں تک کہ ان کا یہ معاملہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ خاتون اپنے اس معاملے کی زیادہ حقدار ہے، اس لیے تو اس کی مرضی کے مطابق اس کی شادی کر دے۔ پس اس کو عوفی سے علیحدہ کر لیا گیا اور اس نے ابو لبابہ سے شادی کرلی، ان سے سائب بن ابی لبابہ پیدا ہوا تھا۔

6899

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6899

Sahih

۔ (۶۸۹۹)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ وَمُجَمِّعٍ اِبْنَیْیَزِیْدَ بْنِ جَارِیَۃَ عَنْ خَنْسَائَ بِنْتِ خِذَامٍ أَنَّ أَبَاھَا زَوَّجَہَا وَھِیَ کَارِھَۃٌ وَکَانَتْ ثَیِّبًا فَرَدَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِکَاحَہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا خنساء بنت خذام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ اس کے باپ نے جس سے اس کی شادی کی، وہ اس کو ناپسند کرتی تھی، جبکہ وہ پہلے بیوہ بھی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا نکاح ردّ کروادیا۔

6900

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6900

Zaeef

۔ (۶۹۰۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ خِذَامًا أَبَا وَدِیْعَۃَ أَنْکَحَ ابْنَتَہُ رَجُلًا، فَأَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاشْتَکَتْ اِلَیْہِ أَنَّہَا أُنْکِحَتْ وَھِیَ کَارِھَۃٌ، فَانْتَزَعَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ زَوْجِہَا وَقَالَ: ((لَا تُکْرِھُوْھُنَّ)) قَالَ: فَنَکَحَتْ بَعْدَ ذَالِکَ أَبَا لُبَابَۃَ الْأَنْصَارِیَّ وَکَانَتْ ثَیِّبًا۔ (مسند احمد:۳۴۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ ابو ودیعہ خذام نے ایک آدمی سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا، لیکن وہ بچی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور آپ سے یہ شکایت کی کہ اس کا نکاح کر دیا گیا ہے، جبکہ وہ ناپسند کر رہی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اس خاوند سے علیحدہ کروا دیا اور فرمایا: عورتوں کو مجبور نہ کیا کرو۔ پھر اس نے ابو لبابہ انصاری سے شادی کر لی تھی، جبکہ وہ خاتون پہلے سے بیوہ تھی۔

6901

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6901

Sahih

۔ (۶۹۰۱)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا اَنَّ جَارِیَۃَ بِکْرًا اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَتْ أَنَّ أَبَاھَا زَوَّجَہَا وَھِیَ کَارِھَۃٌ فَخَیَّرَھَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ اس کے با پ نے ایسے آدمی سے اس کی شادی کر دی ہے، جس کو وہ ناپسند کرتی ہے، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دے دیا۔