Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 118 · Chapter 1234

نکاح کے مسائل

عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان

2 hadiths in this chapter

6896

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6896

Sahih

۔ (۶۸۹۶)۔ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثَنَا لَیْثٌ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ صَالِحٍ وَاِسْمُہُ الَّذِیْیُعْرَفُ بِہِ نُعِیْمُ بْنُ النَّحَّامِ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمَّاہُ صَالِحًا، أَخْبَرَہُ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: اخْطُبْ عَلَی ابْنَۃِ صَالِحٍ، فَقَالَ: اِنَّ لَہُ یَتَامٰی، وَلَمْ یَکْنُ لِیُؤْثِرَنَا عَلَیْہِمْ، قَالَ: فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللّٰہِ إِلٰی عَمِّہِ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ لِیَخْطُبَ فَانْطَلَقَ زَیِدٌ إِلٰی صَالِحٍ فَقَالَ: اِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ أَرْسَلَنِیْ إِلَیْکَیَخْطُبُ اِبْنَتَکَ، فَقَالَ: لِیْیَتَامٰی وَلَمْ أَکُنْ لِأَتْرِبَ لَحْمِیْ وَأَرْفَعَ لَحْمَکُمْ، أُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَنْکَحْتُہَا فُلَانًا وَکَانَ ھَوٰی أُمِّہَا اِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، فَأَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! خَطَبَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ابْنَتِیْ فَأَنْکَحَہَا أَبُوْھَا یَتِیْمًا فِیْ حَجْرِہِ وَلَمْ یُؤَامِرْھَا، فَأَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی صَالِحٍ فَقَالَ: ((أَ نَکَحْتَ ابْنَتَکَ وَلَمْ تُؤَامِرْھَا؟)) فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: ((اَشِیْرُوْا عَلَی النِّسَائِ فِیْ أَنْفُسِہِنَّ)) وَھِیَ بِکْرٌ۔ فَقَالَ صَالِحٌ: فَاِنَّمَا فَعَلْتُ ھٰذَا لِمَا یُصْدِقُہَا ابْنُ عُمَرَ، فَاِنَّ لَہُ فِیْ مَالِیْ مِثْلَ مَا أَعْطَاھَا۔ (مسند احمد: ۵۷۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا، صالح کی بیٹی کو منگنی کا پیغام بھیجیں۔ صالح، نُعیم بن نحام کے نام سے معروف تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا نام صالح رکھا تھا، انہوں نے کہا: صالح کے ہاں یتیم بچے زیر پرورش ہیں، وہ انہیں چھوڑنا گوارا نہیں کرے گا، نکاح کے لئے انہیں ترجیح دے گا۔ یہ بات سن کر سیدنا عبد اللہ اپنے چچا زید بن خطاب کے پاس گئے تاکہ وہ منگنی کا پیغام دیں۔ چنانچہ زید، صالح کے پاس گئے اور کہا: عبد اللہ بن عمر‌رضی ‌اللہ ‌عنہمانے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ کی بیٹی سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتاہے، اس نے کہا: میرے زیر پرورش یتیم بچے ہیں، میں نہیں چاہتا کہ اپنی توہین کر دوں اور تمہیں عزت دوں، میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے فلاں سے فلاں کا نکاح کر دیا ہے، مگر اس عورت کی ماں کا میلان سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی جانب تھا، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے نبی! عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے میری بیٹی کیلئے پیغام نکاح بھیجا تھا، لیکن صالح نے زیر پرورش ایک یتیم سے اس کا نکاح کر دیا اور مجھ سے مشورہ نہیں کیا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صالح کو پیغام بھیجا، جب وہ آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے دریافت کیا: کیا تو نے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے اور بیوی سے مشوہ ہی نہیں کیا۔ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان عورتوں سے مشورہ کیا کرو۔ جبکہ بچی کنواری ہو۔ صالح نے کہا: میں نے ایسا اس لئے کیا ہے کہ ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمانے اس کے مہر کی جو مقدار رکھی، اتنی مقدار تو میرے مال سے یتیم کا حصہ بنتی تھی، اس لیے میں نے پھر اسی کو ترجیح دی۔

6897

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6897

Sahih

۔ (۶۸۹۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہ، خَطَبَ اِلٰی نَسِیْبٍ لَہُ ابْنَتَہُ قَالَ: فَکَانَ ھَوٰی أُمِّ الْمَرْأَۃِ فِی ابْنِ عُمَرَ، وَکَانَ ھَوٰی أَبِیْہَا فِیْیَتِیْمٍ لَہُ، قَالَ: فَزَوَّجَہَا الْأَبُ یَتِیْمَہُ ذَالِکَ، فَجَائَ تْ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَتْ ذَالِکَ لَہُ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((آمِرُوْا النِّسَائَ فِیْ بَنَاتِہِنَّ۔)) (مسند احمد: ۴۹۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے نسب میں اپنے قریبی کو اس کی بیٹی کے لئے منگنی کا پیغام بھیجا، اس لڑکی کی والدہ کا میلان ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی طرف ہی تھا، لیکن باپ کی خواہش یہ تھی کہ وہ اپنے زیر تربیت یتیم سے اس کا نکاح کر دے، تو اس نے اس یتیم سے اس کی شادی کر دی، اس کی ماں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس چیز کا آپ سے ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی بیویوں سے بیٹیوں کی شادی کے سلسلے میں مشورہ کیا کرو۔