Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 118 · Chapter 1229

نکاح کے مسائل

منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان

6 hadiths in this chapter

6865

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6865

Sahih

۔ (۶۸۶۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلٰی خِطْبَۃِ أَخِیْہِ حَتّٰییَدَعَہَا الَّذِیْ خَطَبَہَا أَوَّلَ مَرَّۃٍ اَوْ یَأْذَنَ لَہُ۔ (مسند احمد: ۶۰۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایاہے کہ آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجے، الّا یہ کہ پہلے منگنی کا پیغام بھیجنے والا اس خاتون کو چھوڑ دے یا دوسرے کو بھی اجازت دے دے۔

6866

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6866

Sahih

۔ (۶۸۶۶)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَحِلُّ لِاِمْرِیئٍ مُسْلِمٍ یَخْطُبُ عَلٰی خِطْبَۃِ أَخِیْہِ حَتَّییَتْرُکَ، وَلَا یَبِعْ عَلٰی بَیْعِ اَخِیْہِ حَتّٰییَتْرُکَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجے،یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے، اسی طرح کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، الّا یہ کہ وہ اسے چھوڑ دے۔

6867

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6867

Sahih

۔ (۶۸۶۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلٰی خِطْبَۃِ أَخِیْہِ، وَلَا یَسُوْمُ عَلٰی سَوْمِ أَخِیْہِ، وَلَا تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی عَمَّتِہَا وَلَا عَلٰی خَالَتِہَا، وَلَاتَسْأَلُ طَلَاقَ اُخْتِہَا لِتَکْفِیئَ مَا فِیْ صَحْفَتِہَا وَلِتَنْکِحْ، فَاِنَّمَا لَھَا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَھَا۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے بھائی کی منگنی پرمنگنی کا پیغام نہ بھیجے، اور نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے،کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا خالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے، کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ وہ اس کے پیالے کی چیز کو انڈیل دے، اس کو چاہیے کہ وہ بھی نکاح کر لے، بے شک اسے وہ مل کر رہے گا، جو اللہ تعالی نے اس کے لیے لکھا ہو گا۔

6868

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6868

Sahih

۔ (۶۸۶۸)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی اَنْ یَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلٰی خِطْبَۃِ اَخِیْہِ اَوْ یَبْتَاعَ عَلٰی بَیْعِہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۳۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایاکہ آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجےیا اس کے سودے پر سودا کرے۔

6869

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6869

Sahih

۔ (۶۸۶۹)۔ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ قَالَتْ: طَلَّقَنِیْ زَوْجِیْ ثَلَاثًا فَأَمَرَنِیْ رَُسوْلُ اللّٰـہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أَعْتَدَّ فِیْ بَیْتِ ابْنِ اُمِّ مَکْتُوْمٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں اورنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر عدت گزاروں۔

6870

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6870

Sahih

۔ (۶۸۷۰)۔ ) عَنْ سُفْیَانَ سَمِعَہُ مِنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ اَبِی الْجَہْمِ، سَمِعْتُ فَاطِمَۃَ بِنْتَ قَیْسٍ قَالَتْ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا اَحْلَلْتِ فَآذِنِیْنِیْ۔)) فَآذَنْتُہُ فَخَطَبَہَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ اَبِیْ سُفْیَانَ وَأَبُو الْجَہْمِ وَأُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَّا مُعَاوِیَۃُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَامَالَ لَہُ، وَأَمَّا اَبُو الْجَہْمِ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَائِ وَلٰکِنْ اُسَامَۃَ۔))، قَالَ: فَقَالَتْ بَیَدِھَا ھٰکَذَا اُسَامَۃُ تَقُوْلُ لَمْ تُرِدْہُ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((طَاعَۃُ اللّٰہِ وَطَاعَۃُ رَسُوْلِہِ خَیْرٌ لَکِ۔)) فتَزَوَّجَتْہُ فَاغْتَبَطَتْہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تو عدت سے فارغ ہو جائے تو مجھے بتانا۔ پس میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دی اور بتلایا کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان، سیدنا ابو جہم اور سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم نے مجھے منگنی کے پیغامات بھیجے ہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: معاویہ تو فقیر آدمی ہے، اس کے پاس مال نہیں ہے اور ابو جہم عورتوں کو بہت مارنے والا آدمی ہے، البتہ اسامہ، وہ ٹھیک ہے۔ میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اسامہ نہیں، میں اس کو نہیں چاہتی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تیرےلیے بہتر ہے۔ پس میں نے اسامہ سے شادی کر لی اور مجھ پر رشک کیا گیا۔