Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 118 · Chapter 1228

نکاح کے مسائل

بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان

4 hadiths in this chapter

6861

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6861

Sahih

۔ (۶۸۶۱)۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنَا وَامْرَأَۃٌ سَفْعَائُ الْخَدَّیْنِ کَہَاتَیْنِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ (وَفِیْ لَفْظٍ: ((اَنَا وَامْرَأَۃٌ سَفْعَائُ فِی الْجَنَّۃِ کَہَاتَیْنِ۔)) وَجَمَعَ بَیْنَ إِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی) امْرَأَۃٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ آمَتْ مِنْ زَوْجِہَا حَبَسَتْ نَفْسَہَا عَلٰی اَیْتَامِہَا حَتّٰی بَانُوْا أَوْمَاتُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اور سیاہی مائل رخسار والی عورت روز قیامت جنت میں ان دو انگلیوں کی مانند قریب قریب ہوں گے، ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو جمع کر کے اشارہ کیا، وہ خاتون جو منصب اور جمال والی ہو، لیکن بیوہ ہو جانے کے بعد اپنے نفس کو اپنے یتیموں کی خاطر پابند کیے رکھے،یہاں تک کہ وہ اس سے الگ ہو کر (اپنے پاؤں پر کھڑے) ہو جائیں یا فوت ہو جائیں۔

6862

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6862

Sahih

۔ (۶۸۶۲)۔ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ أُمَّ ھَانِیئٍ بِنْتَ اَبِی طَالِبٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ کَبُرْتُ وَلِیَ عِیَالٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ نِسَائُ قُرَیْشٍ، اَحْنَاہُ عَلٰی وَلَدٍ فِی صِغَرِہِ وَاَرْعَاہُ عَلٰی زَوْجٍ فِی ذَاتِ یَدِہِ۔)) قَالَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ: وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِیْرًا۔ (مسند احمد: ۷۶۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ام ہانی بنت ابی طالب کو منگنی کا پیغام بھیجا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری عمر بڑی ہے اور میرے بال بچے بھی ہیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین عورتیں جو اونٹ پر سوار ہوتی ہیں، وہ قریش کی عورتیں ہیں، وہ اپنے چھوٹے بچوں پر بے حد شفقت کرتی ہیں اور خاوند کی ملکیت کی بے حد حفاظت کرتی ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا مریم بنت عمران کبھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئی تھیں۔

6863

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6863

Sahih

۔ (۶۸۶۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ امْرَأَۃً مِنْ قَوْمِہِ یُقَالُ لَھَا: سَوْدَۃُ وَکَانَتْ مُصْبِیَۃً، کَانَ لَھَا خَمْسَۃُ صِبْیَۃٍ أَوْسِتَّۃٌ ِمنْ بَعْلٍ لَھَا مَاتَ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا یَمْنَعُکِ مِنِّیْ؟)) قَالَتْ: وَاللّٰہِ! یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! مَا یَمْنَعُنِی مِنْکَ اِلَّا أَنْ لَا تَکُوْنَ اَحَبَّ الْبَرِیَّۃِ اِلَیَّ، وَلٰکِنِّی اُکْرِمُکَ اَنْ یَضْغُوَ ھٰؤُلَائِ الصِّبْیَۃُ عِنْدَ رَأْسِکَ بُکْرَۃً وَعَشِیَّۃً، قَالَ: ((فَہَلْ مَنَعَکِ مِنِّیْ شَیْئٌ غَیْرُ ذٰلِکِ؟)) قَالَتْ: لَا، وَاللّٰہِ! قَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَرْحَمُکِ اللّٰہُ، اِنَّ خَیْرَ نِسَائٍ رَکِبْنَ اَعْجَازَ الْإِبِلِ، صَالِحُ نِسَائِ قُرَیْشٍ اَحْنَاہُ عَلٰی وَلَدٍ فِیْ صِغَرٍ وَأَرْعَاہُ عَلٰی بَعْلٍ بِذَاتِ یَدٍ۔)) (مسند احمد: ۲۹۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی قوم کی سودہ نامی ایک خاتون کو منگنی کا پیغام بھیجا، وہ صاحب اولاد تھی، اس کے فوت ہونے والے خاوند سے اس کے پانچ یا چھ بچے تھے، اس لیے اس نے انکار کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ شادی کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ اس نے کہا:اللہ کی قسم! اے اللہ کے نبی! کوئی رکاوٹ نہیں ہے، آپ مجھے روئے زمین پر سب سے زیادہ محبوب ہیں، لیکن میں آپ کو اس سے برتر اور اعلی سمجھتی ہوں کہ صبح و شام یہ بچے آپ کے سرہانے رونا دھونا کرتے رہیں۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ تو کوئی چیز رکاوٹ نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے، بہترین وہ عورتیں جو اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں، قریش کی صالح عورتیں ہیں، جو چھوٹے بچوں سے انتہائی شفقت کرتی ہیں اور خاوند کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔

6864

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6864

Zaeef

۔ (۶۸۶۴)۔ عَنْ کَرِیْمِ بْنِ اَبِیْ حَازِمٍ عَنْ جَدَّتِہِ سَلْمٰی بِنْتِ جَابِرٍ اَنَّ زَوْجَہَا اسْتُشْہِدَ فَاَتَتْ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ فَقَالَتْ: اِنِّی امْرَأَۃٌ قَدْ خَطَبَنِی الرِّجَالُ فَأَبَیْتُ اَنْ أَتَزَوَّجَ حَتّٰی اَلْقَاہُ فَتَرْجُوْ لِیْ اَنِ اجْتَمَعْتُ اَنَا وَھُوَ أَنْ أَکُوْنَ مِنْ أَزْوَاجِہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فقَالَ لَہُ رَجُلٌ: مَارَأَیْنَاکَ فَعَلْتَ ھٰذَا مُذْ قَاعَدْنَاکَ، قَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ أَسْرَعَ أُمَّتِیْ بِیْ لُحُوْقًا فِی الْجَنَّۃ امْرَأَۃٌ مِنْ أَحْمَسَ۔)) (مسند احمد: ۳۸۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ سلمی بنت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرا خاوند شہید ہو گیا، میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئی او رکہا: میرے پاس آدمیوں کے منگنیوں کے پیغام آرہے ہیں، جبکہ میں نے شادی سے انکار کر دیا ہے، میں چاہتی ہوں کہ میں اپنے خاوند سے اسی حال میں ملوں، کیا آپ امید دلاتے ہیں کہ اگر میں اور میرا خاوند جمع ہو گئے تو میں اس کی بیویوں میں سے ہوں گی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ سن کر ایک بندے نے ان سے کہا: جب سے ہم آپ کے ساتھ بیٹھے ہیں، ہم نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے کیا ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: میری امت میں سے جو خاتون سب سے جلدی مجھے جنت میں ملے گی، وہ احمس سے ہوگی۔