Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 118 · Chapter 1223

نکاح کے مسائل

نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان

8 hadiths in this chapter

6828

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6828

Sahih

۔ (۶۸۲۸)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی فِتْیَۃٍ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ فَقَالَ: ((مَنْ کَانَ مِنْکُمْ ذَا طَوْلٍ فَلْیَتَزَوَّجْ فَاِنَّہُ أَغَضُّ لِلطَّرْفِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَا، فَاِنَّ الصَّوْمَ لَہُ وِجَائٌ۔)) (مسند احمد: ۴۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، نوجوان مہاجروں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم میں سے جو طاقت رکھتا ہے، وہ شادی کرلے، کیونکہ یہ نگاہ کو سب سے زیادہ پست کرنے والی اور شرمگاہ کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والی ہے، اور جس میں اس کی طاقت نہ ہو تو وہ روزے رکھے، بیشک روزہ شہوت کو توڑ دینے والا ہے۔

6829

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6829

Sahih

۔ (۶۸۲۹)۔ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ: کُنْتُ أَمْشِی مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ بِمِنًی فَلَقِیَہ عُثْمَانُ فَقَامَ مَعَہ، یُحَدِّثُہُ فَقَالَ لَہُ عُثْمَانُ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! اَلَّا نُزَوِّجُکَ جَارِیَۃً شَابَّۃً لَعَلَّہَا أَنْ تُذَکِّرَکَ مَا مَضٰی مِنْ زَمَانِکَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاکَ، لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا مَعْشَرَ الشَّبَابَ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَائَۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ، فَاِنَّہُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ فَاِنَّہُ لَہُ وِجَائٌ۔)) (مسند احمد: ۳۵۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ علقمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مِنٰی میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، ان کی سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات ہو گئی اور وہ ان سے کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کیا ہم کسی نوجوان لڑکی سے آپ کی شادی نہ کر دیں، ممکن ہے کہ وہ تمہارا بیتا ہوا زمانہ تازہ کر دے؟ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر آپ شادی کے بارے میں یہ بات کہہ رہے ہیں، تو یقینا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا تھا کہ اے نوجوانو ں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے، وہ شادی کر لے، بیشک یہ نگاہ کو پست کرنے والی اور شرمگاہ کو محفوظ کرنے والی ہے اور جو اس کی طاقت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے، بیشک روزہ شہوت کو توڑ دینے والا ہے۔

6830

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6830

Sahih

۔ (۶۸۳۰)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: دَخَلْنَا عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ وَعِنْدَہُ عَلْقَمَۃُ وَالْأَسْوَدُ، فَحَدَّثَ حَدِیْثًا لَا أَرَاہُ حَدَّثَہُ اِلَّا مِنْ أَجْلِی کُنْتُ أَحْدَثَ الْقَوْمِ سِنًّا، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَبَابٌ لَا نَجِدُ شَیْئًا فَقَالَ: ((یَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ!…۔)) فَذَکَرَہُ۔ (مسند احمد: ۴۰۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس حاضر ہوئے، جبکہ علقمہ اور اسود ان کے پاس پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے ایک حدیث سنائی، میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ حدیث صرف میری وجہ سے بیان کی، کیونکہ میں ہی ان میں زیادہ نو عمر تھا، انھوں نے کہا کہ ہم نوجوان نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہتے تھے اور ہمارے پاس کچھ نہ ہوتا تھا، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارشاد فرمایا: اے نوجوانوں کی جماعت! …۔ پھر اوپر والی حدیث ذکر کی۔

6831

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6831

Sahih

۔ (۶۸۳۱)۔ ) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: لَقِیَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ: تَزَوَّجتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: تَزَوَّجْ، ثُمَّ لَقِیَنِی بَعْدَ ذَالِکَ فَقَالَ: تَزَوَّجَتَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: تَزَوَّجْ، فَاِنَّ خَیْرَ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ کَانَ أَکْثَرَھَا نِسَائً۔ (مسند احمد: ۲۰۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: کیا تم نے شادی کرلی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا:شادی کرو، پھر بعد میں جب ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے پھر وہی بات کہی کہ کیا تم نے شادی کی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: شادی کر لو، کیونکہ اس امت کی بہترین ہستی (یعنی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی سب سے زیادہ بیویاں تھیں۔

6832

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6832

Sahih

۔ (۶۸۳۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ لِی ابْنُ عَبَّاسٍ: تَزَوَّجْ، فَاِنَّ خَیْرَنَا کَانَ أَکْثَرَنَا نِسَائً ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔(مسند احمد: ۳۵۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سعید بن جبیر کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے مجھ سے کہا : شادی کرو کیونکہ جو ہستی ہم میں بہتر تھی، اس کی بیویاں سب سے زیادہ تھیں۔

6833

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6833

Sahih

۔ (۶۸۳۳)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حُبِّبَ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسَائُ وَالطِّیْبُ وَجُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِی فِی الصَّلَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا میں سے عورتوں اور خوشبو کو میرے لیے محبوب بنا دیا گیا ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔

6834

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6834

Zaeef

۔ (۶۸۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: دَخَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ: عَکَّافُ بْنُ بِشْرٍ التَّمِیْمِیُّ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَکَّافُ! ھَلْ لَکَ مِنْ زَوْجَۃٍ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((وَلَا جَارِیَۃٌ؟)) قَالَ: وَلَا جَارِیَۃٌ، قَالَ: ((وَاَنْتَ مُوْسِرٌ بِخَیْرٍ؟)) قَالَ: وَاَنَا مُوْسِرٌ بِخَیْرٍ، قَالَ: ((اَنْتَ اِذًا مِنْ اِخْوَانِ الشَّیَاطِیْنَ، لَوْکُنْتَ فِی النَّصَارٰی کُنْتَ مِنْ رُھَبَانِہِمْ، إِنَّ سُنَّتَنَا النِّکَاحُ، شِرَارُکُمْ عُزَّابُکُمْ وَاَرَاذِلُ مَوْتَاکُمْ عُزَّابُکُمْ، أَبِالشَّیْطَانِ تَمَرَّسُوْنَ، مَالِلشَّیْطَانِ مِنْ سَلَاحٍ اَبْلَغُ فِی الصَّالِحِیْنَ مِنَ النِّسَائِ اِلَّا الْمتَزَوِّجَوْنُ، اُوْلٰئِکَ الْمُطَہَّرُوْنَ مِنَ الْخَنَا، وَیْحَکَیَا عَکَّافُ! اِنَّہُنَّ صَوَاحِبُ اَیُّوْبَ وَدَاوُدَ وَیُوْسُفَ وَکُرْسُفَ۔)) فَقَالَ لَہُ بِشْرُ بْنُ عَطِیَّۃَ: وَمَنْ کُرْسُفُ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((رَجُلٌ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ بِسَاحِلٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْبَحْرِ ثَلَاثَ مِائَۃِ عَامٍ یَصُوْمُ النَّہَارَ وَیَقُوْمُ اللَّیْلَ، ثُمَّ اِنَّہُ کَفَّرَ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ فِی سَبَبِ امْرَأَۃٍ عَشِقَہَا، وَتَرَکَ مَا کَانَ مِنْ عِبَادَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، ثُمَّ اسْتَدْرَکَ اللّٰہُ بِبَعْضِ مَا کَانَ مِنْہُ فَتَابَ عَلَیْہِ، وَیْحَکَیَا عَکَّافُ! تَزَوَّجْ وَاِلَّا فَأَنْتَ مِنَ الْمُذَبْذَبِیْنَ۔)) قَالَ: زَوِّجْنِییَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((قَدْ زَوَّجْتُکَ کَرِیْمَۃَ بِنْتَ کُلْثُوْمٍ الْحِمْیَرِیَّ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عکاف بن بشیر تمیمی نامی ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: اے عکاف! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لونڈی بھی نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم مالدار نہیں ہو؟ اس نے کہا : جی میں مالدار ہوں۔ پھر تو تم شیطان کے بھائیوں میں سے ہو، اگر تم عیسائیوں میں سے ہوتے تم راہب ہوتے، ہماری سنت تو نکاح ہے، تم میں سے بدترین لوگ وہ ہیں، جو غیر شادی شدہ ہیں اور تمہارے مُردوں میں سے سب سے زیادہ رذیل وہ ہیں، جو غیر شادی شدہ ہیں، کیا تم شیطان کے ساتھ کھیلتے ہو، نیک لوگوں کو جال میں پھنسانے کے لئے شیطان کے پاس سب سے زیادہ موثر ہتھیار عورت ہے،ما سوائے شادی شدہ افراد کے، کہ وہ اس ہتھیار سے محفوظ رہتے ہیں،وہ لوگ فحش باتوں سے پاکیزہ ہیں، اے عکاف! یہ عورتیں ایوب، داؤد، یوسف اور کرسف کی ساتھی ہیں۔ بشر بن عطیہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کرسف کون تھے ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک آدمی تھے، اس نے سمندر کے ساحل پر تین سو سال عبادت کی،دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا، پھر اس نے ایک عورت کے عشق میں پڑ کر اللہ تعالی کے ساتھ کفر کر دیا اور عبادت کو ترک کر دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بعض اعمال کی وجہ سے کمی پوری کر دی اور اس پر رجوع کیا، اے عکاف! افسوس ہے تجھ پر، شادی کر، وگرنہ متردد اور مذبذب رہے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر آپ میری شادی کر دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے کریمہ بنت کلثوم حمیری سے تیری شادی کر دی ہے۔

6835

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6835

Zaeef

۔ (۶۸۳۵)۔ عَنْ اَبِی أَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرْبَعٌ مِنْ سُنُنِ الْمُرْسَلِیْنَ، التَّعَطُّرُ وَالنِّکَاحُ وَالسِّوَاکُ وَالْحَیَائُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار چیزیں انبیائے کرام کی سنت ہیں، عطر لگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور حیاء سے زندگی گزارنا۔