Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 106 · Chapter 1105

فرائض کے ابواب

مقتول کی دیت تمام ورثاء کے لیے ہونے کا اور اس حمل کی میراث کا بیان، جس نے پیدا ہونے کے بعد چیخ ماری ہو

4 hadiths in this chapter

6343

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6343

Sahih

۔ (۶۳۴۳)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا أَرَی الدِّیَۃَ اِلَّا لِلْعَصَبَۃِ لِأَنَّہُمْ یَعْقِلُوْنَ عَنْہُ، فَہَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْکُمْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ذٰلِکَ شَیْئًا؟ فَقَامَ الضَّحَّاکُ بْنُ سُفْیَانَ الْکَلَابِیُّ وَکَانَ اسْتَعْمَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی الْأَعْرَابِ: کَتَبَ إِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَۃَ أَشْیَمَ الضِّبَّابِیِّ مِنْ دِیَۃِ زَوْجِہَا، فَأَخَذَ بِذٰلِکَ عُمْرُ بْنُ الْخَطَّابِ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ دیت صرف عصبہ کو دی جائے، کیونکہ یہی لوگ دیت بھرتے ہیں، کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں کوئی بات سنی ہے؟ سیدنا ضحاک بن سفیان کلابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بدّو لوگوں کا عامل بنایا تھا، وہ کھڑے ہو ئے اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ تحریری حکم بھیجا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو ان کے خاوند کی دیت سے وارث قرار دوں۔

6344

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6344

Sahih

۔ (۶۳۴۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ عُمَرَ قَالَ: الدِّیَۃُ لِلْعَاقِلِۃِ وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَۃُ مِنْ دِیَۃِ زَوْجِہَا حَتّٰی أَخْبَرَہُ الضَّحَّاکُ بْنُ سُفْیَانَ الْکَلَابِیُّ: اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَتَبَ إِلَیَّ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَۃَ اَشْیَمَ الْضِبَّابِیِّ مِنْ دِیَۃِ زَوْجِہَا فَرَجَعَ عُمَرُ عَنْ قَوْلِہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: دیت مرد کے عصبہ میں تقسیم ہوگی اور بیوی اپنے خاوند کی دیت میں سے کسی حصے کی وارث نہیں ہوگی، لیکن جب سیدنا ضحاک بن سفیان کلابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تحریری فرمان بھیجا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کی دیت کا وارث بناؤں، تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی رائے سے رجوع کر لیا تھا۔

6345

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6345

Sahih

۔ (۶۳۴۵)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی لِحَمْلِ بْنِ مَالِکٍ الْھُذَلِیِّ بِمِیْرَاثِہِ عَنِ امْرَأَتِہِ الَّتِیْ قَتَلَتْہَا الْأُخْرٰی وَقَضٰی فِی الْجَنِیْنِ الْمَقْتُوْلِ بِغُرَّۃٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَۃٍ، قَالَ: فَوَرِثَہَا بَعْلُہَا وَبَنُوْھَا قَالَ: وَکَانَ لَہُ مِنْ اِمْرَأَتَیْہِ کِلْتَیْہِمَا وَلَدٌ، اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد:۲۳۱۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حمل بن مالک ہزلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کی بیوی سے، جسے ان کی دوسری بیوی نے قتل کیا تھا، اس مقتولہ بیوی کی دیت سے وارث بنایا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیٹ کا بچہ قتل کر دینے کی وجہ سے ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا تھا، اس طرح اس مقتولہ کا خاوند اور اس کے بیٹے اس کے وارث بن گئے، سیدنا حمل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دونوں بیویوں سے اولاد تھی۔ الحدیث۔

6346

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6346

Sahih

۔ (۶۳۴۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی أَنَّ الْعَقْلَ مِیْرَاثٌ بَیْنَ وَرَثَۃِ الْقَتِیْلِ عَلٰی فَرَائِضِہِمْ۔ (مسند احمد: ۷۰۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دیت، مقتول کے ورثاء کے حصوں کے بقدر ان کے درمیان تقسیم ہوگی۔