Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 106 · Chapter 1104

فرائض کے ابواب

میراث کے موانع کا بیان

6 hadiths in this chapter

6337

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6337

Sahih

۔ (۶۳۳۷)۔ عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ أَنَّہُ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیْنَ تَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَائَ اللّٰہُ؟ وَذٰلِکَ زَمَنَ الْفَتْحِ، فَقَالَ: ((ھَلْ تَرَکَ لَنَا عَقِیْلٌ مِنْ مَنْزِلٍ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((لَایَرِثُ الْکَافِرُ الْمُؤْمِنَ وَلَا الْمُؤْمِنُ الْکَافِرَ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اَلْمُسْلِمُ۔)) بَدْلَ الْمُؤْمِنِ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر اللہ تعالی نے چاہا تو آپ کل مکہ میں کہاں اتریں گے؟ یہ فتح مکہ کے زمانے کی بات تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی جگہ چھوڑی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کافر مؤمن کا اورمؤمن کافر کا وارث نہیں بن سکتا۔

6338

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6338

Sahih

۔ (۶۳۳۸)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعْیَبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَتَوَارَثُ أَھْلُ مِلَّتَیْنِ شَتّٰی۔)) (مسند احمد: ۶۶۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو مختلف دینوں والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے۔

6339

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6339

Zaeef

۔ (۶۳۳۹)۔ عَنْ اَبِی الْأَسْوَدِ الدِّیَلِیِّ قَالَ: کَانَ مُعَاذٌ بِالْیَمَنِ فَارْتَفَعُوْا إِلَیْہِ فِیْیَہُوْدِیٍّ مَاتَ وَتَرَکَ أَخَاہُ مُسْلِمًا فَقَالَ مُعَاذٌ: إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ الْإِسْلَامَ یَزِیْدُ وَلَا یَنْقُصُ۔)) فَوَرَّثَہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو اسود دیلی کہتے ہیں کہ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن میں تھے، لوگ ان کے پاس ایک یہودی کا مقدمہ لے کر آئے، وہ مر گیا تھا اور ایک مسلمان بھائی کو بطورِ وارث چھوڑا، سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اسلام اضافہ کرتا ہے، کمی نہیں کرتا۔ پھر انھوں نے اس مسلمان کو یہودی کا وارث بنایا۔

6340

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6340

Sahih

۔ (۶۳۴۰)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَتَلَ رَجُلٌ اِبْنَہُ عَمَدًا فَرُفِعَ إِلٰی عُمَرَ بَنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَجَعَلَ عَلَیْہِ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثِیْنَ حِقَّۃً وَثَلَاثِیْنَ جَذَعَۃً وَأَرْبَعِیْنَ ثَنِیَّۃً، وَقَالَ: لَا یَرِثُ الْقَاتِلُ، وَلَوْلَا أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یُقْتَلُ وَالِدٌ بِوَلَدِہِ۔)) لَقَتَلْتُکَ۔ (مسند احمد: ۳۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو جان بوجھ کر قتل کردیا، جب اس کا مقدمہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پیش ہوا تو انہوں نے بطورِ دیت اس قاتل پر تیس حِقّوں، تیس جذعوں اور چالیس دو دانتے اونٹوں کا تعین کیا اور کہا: قاتل وارث نہیں بنتا، پھر کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ والد کو اولاد کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ تو میں نے تجھے قصاصاً قتل کر دینا تھا۔

6341

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6341

Sahih

۔ (۶۳۴۱)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ عُمَرُ: لَوْلَا أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیْسَ لِلْقَاتِلِ شَیْئٌ۔)) لَوَرَّثْتُکَ، قَالَ: وَدَعَا اَخَا الْمَقْتُوْلِ فَأَعْطَاہُ الْإِبِلَ۔ (مسند احمد: ۳۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگرمیں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ قاتل کو وراثت سے کچھ نہیں ملتا۔ تو میں تجھے مقتول بیٹے کا وارث قرار دیتا، پھر انھوں نے مقتول کے بھائی کو بلایا اور اسے اونٹ دے دئیے۔

6342

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6342

Sahih

۔ (۶۳۴۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: اَخَذَ عُمَرُ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثِیْنَ حِقَّۃً وَثَلَاثِیْنَ جَذَعَۃً وَأَرْبَعِیْنَ ثَنِیَّۃً إِلٰی بَازِلِ عَامِہَا کُلُّہَا خَلِفَۃٌ، قَالَ: ثُمَّ دَعَا أَخَا الْمَقْتُوْلِ فَأَعْطَا ھَا إِیَّاہُ دُوْنَ اَبِیْہِ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیْسَ لِقَاتِلٍ شَیْئٌ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((مِیْرَاثٌ۔))۔ (مسند احمد: ۳۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس ایسی اونٹنیاں لیں جو دو دانتے سے نویں سال میں داخل ہونے تک تھیں اور وہ ساری کی ساری حاملہ تھیں، پھر انھوں نے مقتول کے بھائی کو بلایایہ سارے اونٹ اسے دے دیئے اور باپ کو کچھ نہ دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میراث میں سے قاتل کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔