Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 103 · Chapter 1092

ہبہ اور ہدیہ کے مسائل

مشرکوں کے تحائف قبول نہ کرنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

6279

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6279

Sahih

۔ (۶۲۷۹)۔ عَنْ عُبَیْدِ اللّـہِ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ حَکِیْمَ بْنَ حِزَامٍ قَالَ: کَانَ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحَبَّ رَجُلٍ فِیْ النَّاس إِلیَّ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، فَلَمَّا تَنَبَّأَ وَخَرَجَ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ شَہِدَ حَکِیْمُ بْنُ حِزَامٍ الْمَوْسِمَ وَھُوَ کَافِرٌ فَوَجَدَ حُلَّۃً لِذِیْیَزَنَ تُبَاعُ فَاشْتَرَاھَا بِخَمْسِیْنَ دِیْنَارًا لِیُہْدِیَہَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فقَدِمَ بِہَا عَلَیْہِ الْمَدِیْنَۃَ فَأَرَادَہُ عَلٰی قَبْضِہَا ھَدِیَّۃً فَاَبٰی، قَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ: حَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ: ((إِنَّا لَانَقْبَلُ شَیْئًا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَلَکِنْ اِنْ شِئْتَ أَخَذْنَاھَا بِالثَّمَنِ۔)) فَأَعْطَیْتُہُ حِیْنَ اَبٰی عَلَیَّ الْھَدِیَّۃَ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عراک بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: دورِ جاہلیت میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تمام لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ پسند تھے، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نبوت کا دعویٰ کیا اور مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج میں شریک ہوئے تھے، لیکن ابھی تک وہ کافر تھے، انھوں نے دیکھا کہ ذی یزن کا حلہ فروخت کیا جا رہا تھا، حکیم نے اس مقصد کے لیے وہ خرید لیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بطورِ ہدیہ پیش کیا جائے، پس وہ یہ لے کر مدینہ منورہ آئے اور ان کا یہ ارادہ تھا کہ وہ اس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بطور ہدیہ پیش کریں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ لینے سے انکار کر دیا۔ عبید اللہ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم مشرکوں کا تحفہ قبول نہیں کرتے، ہاں اگر تو چاہتا ہے تو ہم اس کو قیمت کے عوض خرید لیتے ہیں۔ پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بطورِ ہدیہ قبول کرنے سے انکار کیا تو میں نے قیمت کے عوض دے دیا۔

6280

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6280

Sahih

۔ (۶۲۸۰)۔ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشَعِیِّ وَکَانَتْ بَیْنَہُ وَ بَیْنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعْرِفَۃٌ قَبْلَ أَنْ یُبْعَثَ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَھْدٰی لَہُ ھَدِیَّۃً، قَالَ: أَحْسِبُہَا إِبِلًا فَاَبٰی أَنْ یَقْبَلَہَا وَقَالَ: ((إِنَّا لَا نَقْبَلُ زَبْدَ الْمُشْرِکِیْنَ۔))، قَالَ: قُلْتُ: مَا زَبْدُ الْمُشْرِکِیْنَ؟ قال: رِفْدُھُمْ، ھَدِیَّتُہُمْ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ عیاض بن حماد مجاشعی اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درمیان بعثت سے پہلے جان پہچان تھی، پھر جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نبوت ملی تو عیاض نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک تحفہ دیا، میرا خیال ہے کہ وہ اونٹ کی صورت میں تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اورفرمایا: ہم مشرکوں کاہدیہ قبول نہیں کرتے۔ میں ابن عون نے کہا: مشرکوں کے زَبْد سے کیا مراد ہے؟ حسن بصری نے کہا: ان کے تحفے اور عطیے۔

6281

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6281

Zaeef

۔ (۶۲۸۱)۔ عَنْ ذِی الْجَوْشَنِ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ أَنْ فَرَغَ مِنْ أَھْلِ بَدْرٍ بِابْنِ فَرَسٍ لِیْیُقَالُ لَھَا: الْقَرْحَائُ، فَقُلْتُ: یَا مُحَمَّدُ! إِنِّیْ قَدْ جِئْتُکَ بِاِبْنِ الْعَرْجَائِ لِتَتَّخِذَہُ قَالَ: ((لَا حَاجَۃَ لِیْ فِیْہِ، وَلٰکِنْ إِنْ شِئْتَ أَنْ أَقِیْضَکَ بِہِ الْمُخْتَارَۃَ مِنْ دُرُوْعِ بَدْرٍ، فَعَلْتُ۔)) فَقُلْتُ: مَاکُنْتُ لِأَقِیْضَکَ الْیَوْمَ بِغُرَّۃٍ، قَالَ: ((فَلا حَاجَۃَ لِیْ فِیْہِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((یَا ذَا الْجَوْشَنِ! اَلَا تُسْلِمُ فَتَکُوْنَ مِنْ أَوَّلِ ھٰذَا الْأَمْرِ؟)) قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((لِمَ؟)) قُلْتُ: إِنِّیْ رَأَیْتُ قَوْمَکَ قَدْ وَلَعُوْا بِکَ، قَالَ: ((فَکَیْفَ بَلَغَکَ عَنْ مَصَارِعِہِمْ بِبَدْرٍ؟)) قَالَ: قُلْتُ: بَلَغَنِیْ اَنْ تَغْلِبْ عَلٰی مَکَّۃَ وَتَقْطُنْہَا، قَالَ: ((لَعَلَّکَ اِنْ عِشْتَ أَنْ تَرٰی ذٰلِکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ: ((یَا بِلَالُ! خُذْ حَقِیْبَۃَ الرَّجُلِ فَزَوِّدْہُ مِنَ الْعَجْوَۃِ۔)) فَلَمَّا أَنْ أَدْبَرْتُ قَالَ: ((أَمَا إِنَّہُ مِنْ خَیْرِ بَنِیْ عَامِرٍ۔)) قَالَ: فَوَاللّٰہِ! اِنِّیْ بِأَھْلِیْ بِالْغَوْرِ إِذْ أَقْبَلَ رَاکِبٌ فَقُلْتُ: مِنْ أَیْنَ؟ قَالَ: مِنْ مَکَّۃَ، فَقُلْتُ: مَا فَعَلَ النَّاسُ؟ قَالَ: قَدْ غَلَبَ عَلَیْہَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: قُلْتُ: ھَبَلَتْنِیْ أُمِّیْ فَوَاللّٰہِ! لَوْ أُسْلِمُ یَوْمَئِذٍ ثُمَّ أَسْئَلُہُ الْحِیْرَۃَ لِأَقْطَعَنِیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۶۷۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ذوالجوشن کہتے ہیں: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جنگ بدر سے فارغ ہوئے تو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے اس گھوڑی کا بچہ لایا ہوں، جس کے چہرے پر تھوڑی سی سفیدی ہوتی ہے، تاکہ آپ اس کو بطور تحفہ قبول فرمائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں،لیکن اگر تو چاہتا ہے کہ میں تجھے اس کے بدلے میں بدر کی عمدہ زرہیں دے دوں، تو ٹھیک ہے۔ اس نے کہا: جی نہیں،میں تو آج اس کے عوض لونڈی بھی نہیں لوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ذوالجوشن! کیا تو اسلام قبول نہیں کر لیتا، تاکہ اس دین کے پہلے والے لوگوں میں سے ہو جائے؟ اس نے کہا: جی نہیں، میں ایسا نہیں کروں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں، اس کی کیا وجہ ہے؟ میں نے کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ ابھی تک آپ کی قوم (قریش) آپ سے لڑ رہی ہے، (معلوم نہیں کہ کس کے حق میں نتیجہ نکلتا ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میدان بدر میں ہونے والی ان کی ہلاکتوں کی اطلاع تجھے نہیں ملی؟ اس نے کہا: جی یہ بات تو مجھے پتہ چلی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم تیرے لیے وضاحت کریں گے۔ اس نے کہا: اگر آپ کعبہ پر غالب آ کر اس کو اپنا مسکن بنا لیں تو پھر بات بنے گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو زندہ رہا تو اپنی آنکھوں سے اس چیز کو بھی دیکھ لے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بلال! اس آدمی کا توشہ دان لو اور اس میں عجوہ کھجوریں ڈال کر دو۔ سیدنا ذوالجوشن کہتے ہیں: جب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں سے واپس لوٹا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! یہ بنو عامر کا سب سے بہترین گھوڑ سوار ہے۔ سیدنا ذو الجوشن کہتے ہیں: (ایک عرصہ گزر جانے کے بعد) میں نے دیکھا کہ ایک سوار میری طرف آ رہا تھا، جبکہ میں اس وقت اپنے اہل کے ساتھ (یمن کی) ایک پست جگہ میں تھا، میں نے کہا: کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: مکہ سے، میں نے کہا: کیا بنا لوگوں کا؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ پر غالب آ گئے ہیں۔ میں نے کہا: میری ماں مجھے گم پائے، اگر میں اسی دن مسلمان ہو چکا ہوتا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے حیرہ کا سوال کرتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دے دینا تھا۔