Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 103 · Chapter 1091

ہبہ اور ہدیہ کے مسائل

کافروں کے ہدیے قبول کرنا

3 hadiths in this chapter

6276

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6276

Zaeef

۔ (۶۲۷۶)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ مَلِکَ الرُّومِ أَہْدٰی لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُسْتَقَۃً مِنْ سُنْدُسٍ فَلَبِسَہَا وَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلٰییَدَیْہَا تَذَبْذَبَانِ مِنْ طُولِہِمَا فَجَعَلَ الْقَوْمُ یَقُولُونَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! أُنْزِلَتْ عَلَیْکَ ہٰذِہِ مِنَ السَّمَائِ؟ فَقَالَ: ((وَمَا یُعْجِبُکُمْ مِنْہَا فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! إِنَّ مَنْدِیلًا مِنْ مَنَادِیلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِی الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنْہَا۔)) ثُمَّ بَعَثَ بِہَا إِلَی جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ فَلَبِسَہَا فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنِّی لَمْ أُعْطِکَہَا لِتَلْبَسَہَا۔)) قَالَ: فَمَا أَصْنَعُ بِہَا؟ قَالَ: ((أَرْسِلْ بِہَا إِلَی أَخِیکَ النَّجَاشِیِّ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ روم کے بادشاہ نے نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو باریک ریشم کی بنی ہوئی دراز آستین کی پوستین تحفہ میں بھیجی اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو زیبِ تن کیا،گویا کہ میں اب بھی اس کے بازوؤں کی طرف دیکھ رہا ہوں ، جو طویل ہونے کی وجہ سے حرکت کر رہے تھے ،لوگوں نے کہا:اے اللہ کے رسول ! کیا یہ لباس آپ پر آسمان سے اتارا گیا ہے؟آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:تم اتنے تعجب میں کیوں پڑ گئے ہو،پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سےبہتر ہیں۔ پھرآپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کوبھیج دیا،جب انھوں نے اس کو پہنا،تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے پہننے کے لیےتو نہیں دیاتھا، انھوں نے کہا: تو پھر میں اس کو کیا کروں ؟آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:اس کو اپنے بھائی نجاشی کی طرف بھیج دو۔

6277

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6277

Zaeef

۔ (۶۲۷۷)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَھْدٰی کِسْرٰی لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَبِلَ مِنْہُ وَاَھْدٰی لَہٗقَیْصَرُ فَقَبِلَ مِنْہُ، وَاَھْدَتْ لَہُ الْمُلُوْکُ فَقَبِلَ مِنْھُمْ۔ (مسند احمد: ۷۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کہ کسری نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہدیہ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے قبول کیا، قیصر نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تحفہ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے قبول کیا اور دوسرے بادشاہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تحفے دیئے، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبول فرمائے۔

6278

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6278

Zaeef

۔ (۶۲۷۸)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: قَدِمَتْ قُتَیْلَۃُ ابْنَۃُ عَبْدِ الْعُزَّی بْنِ عَبْدِ أَسْعَدَ مِنْ بَنِی مَالِکِ بْنِ حَسَلٍ عَلَی ابْنَتِہَا أَسْمَاء َ ابْنَۃِ أَبِی بَکْرٍ بِہَدَایَا ضِبَابٍ وَأَقِطٍ وَسَمْنٍ وَہِیَ مُشْرِکَۃٌ فَأَبَتْ أَسْمَائُ أَنْ تَقْبَلَ ہَدِیَّتَہَا وَتُدْخِلَہَا بَیْتَہَا فَسَأَلَتْ عَائِشَۃُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {لَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِینَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ} إِلَی آخِرِ الْآیَۃِ فَأَمَرَہَا أَنْ تَقْبَلَ ہَدِیَّتَہَا وَأَنْ تُدْخِلَہَا بَیْتَہَا۔ (مسند احمد: ۱۶۲۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: قتیلہ بنت عبد العزی ضب، پنیر اور گھی کے ہدیے لے کر اپنی بیٹی سیدہ اسماء بنت ِ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس آئی ، جبکہ وہ مشرک خاتون تھی، سو سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس کے تحائف قبول کرنے سے اور اس کو اپنے گھر داخل کرنے سے انکار کر دیا، جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی: {لَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْآ اِلَیْھِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ۔}… جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنے اور منصفانہ اچھا برتاؤ کرنے سے اللہ تعالی تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالی تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۂ ممتحنۃ: ۸) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ اسماء کو حکم دیا کہ وہ اپنی ماں کے تحفے قبول کرے اور اس کو اپنے گھر میں داخل کرے۔