Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 9 · Chapter 85

Being a master

بَابُ الْعَفْوِ عَنِ الْخَادِمِ

خادم سے درگزر کرنے کا بیان

2 hadiths in this chapter

163

Al-Adab Al-Mufrad #163

Hasan

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ غُلَامَانِ، فَوَهَبَ أَحَدُهُمَا لِعَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَقَالَ: ((لَا تَضْرِبْهُ، فَإِنِّي نُهِيتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلَاةِ، وَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مُنْذُ أَقْبَلْنَا)) ، وَأَعْطَى أَبَا ذَرٍّ غُلَامًا وَقَالَ: ((اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا)) ، فَأَعْتَقَهُ، فَقَالَ: ((مَا فَعَلَ؟)) قَالَ: أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْتَوْصِي بِهِ خَيْرًا، فَأَعْتَقْتُهُ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو امامۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ آپ کے ساتھ دو غلام تھے۔ ان میں سے ایک آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا اور نصیحت کی:’’اسے مارنا نہیں ہے کیونکہ مجھے نمازی (مسلمان)غلاموں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے اور یہ جب سے ہمارے پاس آیا ہے میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔‘‘ اور ایک غلام حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو دیا اور یوں نصیحت فرمائی:’’اس کے بارے میں اچھائی کی وصیت قبول کرو۔‘‘ تو انہوں نے اسے آزاد کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:’’تونے اس غلام کا کیا کیا؟‘‘ انہوں نے عرض کیا:آپ نے مجھے اس کے بارے میں حسن سلوک کی وصیت قبول کرنے کا حکم دیا تو میں نے اسے آزاد کر دیا۔

164

Al-Adab Al-Mufrad #164

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ لَهُ خَادِمٌ، فَأَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي حَتَّى أَدْخَلَنِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ لَبِيبٌ، فَلْيَخْدُمْكَ. قَالَ: فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ حَتَّى تُوُفِّيَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُ: لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا؟ وَلَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ: أَلَا صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا؟

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ کے پاس کوئی خادم نہیں تھا، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا:اللہ کے نبی! انس بڑا ذہین و فطین اور ہوشیار بچہ ہے، لہٰذا یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ کی مدینہ تشریف آوری سے وفات تک حضر و سفر میں آپ کی خدمت کی۔ آپ نے کبھی میرے کسی (نامناسب)کام پر یہ نہیں کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ اور نہ میرے کسی کام کے سر انجام نہ دینے پر یہ کہا کہ تم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟