Al-Adab Al-Mufrad #111
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَقَدْ أَتَى عَلَيْنَا زَمَانٌ - أَوْ قَالَ: حِينٌ - وَمَا أَحَدٌ أَحَقُّ بِدِينَارِهِ وَدِرْهَمِهِ مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، ثُمَّ الْآنَ الدِّينَارُ وَالدِّرْهَمُ أَحَبُّ إِلَى أَحَدِنَا مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كَمْ مِنْ جَارٍ مُتَعَلِّقٌ بِجَارِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ: يَا رَبِّ، هَذَا أَغْلَقَ بَابَهُ دُونِي، فَمَنَعَ مَعْرُوفَهُ "
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ یا دور بھی گزرا ہے کہ درہم و دینار کا سب سے زیادہ مستحق مسلمان بھائی کو سمجھا جاتا تھا، پھر اب ایسا زمانہ آگیا ہے کہ درہم و دینار مسلمان بھائی سے زیادہ محبوب ہوگئے ہیں۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے:’’کتنے پڑوسی ایسے ہیں جو قیامت کے روز اپنے پڑوسیوں سے چمٹے ہوئے کہیں گے:اے میرے رب! اس نے اپنا دروازہ مجھ پر بند کر لیا تھا اور مجھے اپنے حسنِ سلوک سے محروم رکھا۔‘‘