Al-Adab Al-Mufrad #1154
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمَجَالِسِ بِالصُّعُدَاتِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيَشُقُّ عَلَيْنَا الْجُلُوسُ فِي بُيُوتِنَا؟ قَالَ: ((فَإِنْ جَلَسْتُمْ فَأَعْطُوا الْمَجَالِسَ حَقَّهَا)) ، قَالُوا: وَمَا حَقُّهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((إِدْلَالُ السَّائِلِ، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَغَضُّ الْأَبْصَارِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ))
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں کے سامنے ’’تھڑوں‘‘ پر بیٹھنے سے منع فرمایا تو لوگوں نے کہا:اللہ کے رسول! گھروں کے اندر بیٹھے رہنا ہمارے لیے باعث مشقت ہے۔ آپ نے فرمایا:اگر تمہارا چارہ نہ ہو تو پھر ان مجلسوں کا حق ادا کرو۔ انہوں نے کہا:اللہ کے رسول! ان کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:’’راستہ پوچھنے والے کی راہنمائی کرنا، سلام کا جواب دینا، نگاہوں کو پست رکھنا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔‘‘