Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 46 · Chapter 544

Gatherings

بَابُ مَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ

’’چوپالوں یا تھڑوں‘‘ پر بیٹھنے کا بیان

2 hadiths in this chapter

1154

Al-Adab Al-Mufrad #1154

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمَجَالِسِ بِالصُّعُدَاتِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيَشُقُّ عَلَيْنَا الْجُلُوسُ فِي بُيُوتِنَا؟ قَالَ: ((فَإِنْ جَلَسْتُمْ فَأَعْطُوا الْمَجَالِسَ حَقَّهَا)) ، قَالُوا: وَمَا حَقُّهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((إِدْلَالُ السَّائِلِ، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَغَضُّ الْأَبْصَارِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ))

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں کے سامنے ’’تھڑوں‘‘ پر بیٹھنے سے منع فرمایا تو لوگوں نے کہا:اللہ کے رسول! گھروں کے اندر بیٹھے رہنا ہمارے لیے باعث مشقت ہے۔ آپ نے فرمایا:اگر تمہارا چارہ نہ ہو تو پھر ان مجلسوں کا حق ادا کرو۔ انہوں نے کہا:اللہ کے رسول! ان کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:’’راستہ پوچھنے والے کی راہنمائی کرنا، سلام کا جواب دینا، نگاہوں کو پست رکھنا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔‘‘

1155

Al-Adab Al-Mufrad #1155

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ)) ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَّا إِذْ أَبَيْتُمْ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ)) ، قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((غَضُّ الْبَصَرِ، وَكَفُّ الْأَذَى، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ))

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’راستوں پر بیٹھنے سے بچو۔‘‘ انہوں نے عرض کیا:اللہ کے رسول! ہمارا ان مجلسوں میں بیٹھنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ ہم وہاں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اچھا اگر تمہارا اصرار ہے تو پھر راستے کا حق ادا کرو۔‘‘ انہوں نے عرض کیا:اللہ کے رسول! راستے کا کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا:’’نظر کو بچا کر رکھنا، تکلیف دہ چیز راستے سے ہٹا دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔‘‘