Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 42 · Chapter 479

Greetings

بَابُ التَّسْلِيمِ عَلَى النِّسَاءِ

عورتوں کو سلام کہنا

2 hadiths in this chapter

1052

Al-Adab Al-Mufrad #1052

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ، وَعُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ، قَالَ بِيَدِهِ إِلَيْهِنَّ بِالسَّلَامِ، فَقَالَ: ((إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَانَ الْمُنْعِمِينَ، إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَانَ الْمُنْعِمِينَ)) ، قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: نَعُوذُ بِاللَّهِ، يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللَّهِ، قَالَ: " بَلَى إِنَّ إِحْدَاكُنَّ تَطُولُ أَيْمَتُهَا، ثُمَّ تَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتَقُولُ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِنْهُ سَاعَةً خَيْرًا قَطُّ، فَذَلِكَ كُفْرَانُ نِعَمِ اللَّهِ، وَذَلِكَ كُفْرَانُ نِعَمِ الْمُنْعِمِينَ "

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے گزرے تو وہاں عورتوں کا جتھا بیٹھا تھا۔ آپ نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا اور فرمایا:’’احسان کرنے والوں کی ناشکری سے بچو، احسان کرنے والوں کی ناشکری مت کرو۔‘‘ ان میں سے ایک نے کہا:اے اللہ کے نبی! ہم اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے سے اللہ کی پناہ چاہتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم یقیناً ایسا کرتی ہو، تم میں سے کسی کے کنوارے پن کا زمانہ طویل ہو جاتا ہے (اور پھر شادی ہوتی ہے)اور شوہر پر غصہ آتا ہے تو کہتی ہے:اللہ کی قسم! میں نے اس سے کبھی لمحہ بھر بھی خیر نہیں پائی۔ یہ اللہ کی نعمتوں کی ناقدری ہے اور یہ احسان کرنے والوں کی احسان فراموشی ہے۔‘‘

1053

Al-Adab Al-Mufrad #1053

Sahih

حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ ابْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ، مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي جِوَارِ أَتْرَابٍ لِي، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَقَالَ: ((إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنْعِمِينَ)) ، وَكُنْتُ مِنْ أَجْرَئِهِنَّ عَلَى مَسْأَلَتِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا كُفْرُ الْمُنْعِمِينَ؟ قَالَ: " لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ تَطُولُ أَيْمَتُهَا مِنْ أَبَوَيْهَا، ثُمَّ يَرْزُقُهَا اللَّهُ زَوْجًا، وَيَرْزُقُهَا مِنْهُ وَلَدًا، فَتَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتَكْفُرُ فَتَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ "

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنی ہم عمر سہیلیوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ آپ نے ہمیں سلام کہا اور فرمایا:’’انعام و اکرام والوں کی ناشکری سے بچو۔‘‘ میں آپ سے سوال کرنے میں ان سب سے زیادہ جری تھی۔ میں نے عرض کیا:اللہ کے رسول! منعمین کی ناشکری کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کسی کا ماں باپ کے درمیان بے شوہر رہنے کا زمانہ طویل ہوجاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کو شوہر دیتا ہے اور اس سے اولاد دیتا ہے، پھر غصہ میں آجاتی ہے تو ناشکری کرتے ہوئے کہتی ہے:میں نے تجھ میں کبھی خیر نہیں دیکھی۔