Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 42 · Chapter 470

Greetings

بَابُ التَّسْلِيمِ عَلَى الْأَمِيرِ

امیر کو سلام کہنا

5 hadiths in this chapter

1028

Al-Adab Al-Mufrad #1028

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ سَأَلَ أَبَا بَكْرِ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ: لِمَ كَانَ أَبُو بَكْرٍ يَكْتُبُ: مِنْ أَبِي بَكْرٍ خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ، ثُمَّ كَانَ عُمَرُ يَكْتُبُ بَعْدَهُ: مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَلِيفَةِ أَبِي بَكْرٍ، مَنْ أَوَّلُ مَنْ كَتَبَ: أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي الشِّفَاءُ - وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ، وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا هُوَ دَخَلَ السُّوقَ دَخَلَ عَلَيْهَا - قَالَتْ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى عَامِلِ الْعِرَاقَيْنِ: أَنِ ابْعَثْ إِلَيَّ بِرَجُلَيْنِ جَلْدَيْنِ نَبِيلَيْنِ، أَسْأَلُهُمَا عَنِ الْعِرَاقِ وَأَهْلِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ صَاحِبُ الْعِرَاقَيْنِ بِلَبِيدِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، فَقَدِمَا الْمَدِينَةَ فَأَنَاخَا رَاحِلَتَيْهِمَا بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ دَخَلَا الْمَسْجِدَ فَوَجَدَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، فَقَالَا لَهُ: يَا عَمْرُو، اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ، فَوَثَبَ عَمْرٌو فَدَخَلَ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَا بَدَا لَكَ فِي هَذَا الِاسْمِ يَا ابْنَ الْعَاصِ؟ لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ، قَالَ: نَعَمْ، قَدِمَ لَبِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَعَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، فَقَالَا لِي: اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَقُلْتُ: أَنْتُمَا وَاللَّهِ أَصَبْتُمَا اسْمَهُ، وَإِنَّهُ الْأَمِيرُ، وَنَحْنُ الْمُؤْمِنُونَ. فَجَرَى الْكِتَابُ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ رحمہ اللہ سے پوچھا:ابوبکر رضی اللہ عنہ کیوں لکھتے تھے:من ابی بکر خلیفۃ رسول اللہ، پھر ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لکھتے تھے:عمر بن خطاب خلیفۃ ابوبکر کی طرف سے اور پھر سب سے پہلے امیر المومنین کس نے لکھنا شروع کیا؟ انہوں نے کہا کہ مجھے میری دادی شفاء نے بتایا اور وہ ابتدا میں ہجرت کرنے والیوں میں سے تھیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب بازار آتے تو ان کے ہاں ضرور حاضر ہوتے، وہ فرماتی ہیں:سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کوفہ و بصرہ کے گورنروں کو لکھا کہ میرے پاس دو مضبوط اور سمجھ دار آدمی بھیجو تاکہ میں ان سے عراق اور وہاں کے باشندوں کے بارے میں دریافت کرسکوں۔ چنانچہ دونوں گورنروں نے لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہما کو بھیجا۔ وہ مدینہ طیبہ آئے اور دونوں نے اپنی سواریاں مسجد کے سامنے بٹھائیں اور مسجد میں داخل ہوئے تو انہیں سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ملے۔ دونوں نے ان سے کہا:اے عمرو! ہمارے لیے امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت طلب کیجیے۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ جلدی سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا:السلام علیک یا أمیر المؤمنین۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا:عاص کے بیٹے یہ نام تجھے کہاں سے سوجھا؟ جو تم نے کہا اس کی وجہ بیان کرو۔ انہوں نے کہا:ضرور، لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم آئے ہیں اور انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ امیر المومنین سے ہمارے لیے اجازت طلب کرو۔ تو میں نے کہا:اللہ کی قسم تم نے ان کا صحیح نام تجویز کیا ہے۔ وہ واقعی امیر ہیں اور ہم مومن ہیں۔ اسی دن سے یہ خطاب جاری ہوگیا۔

1029

Al-Adab Al-Mufrad #1029

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ حَاجًّا حَجَّتَهُ الْأُولَى وَهُوَ خَلِيفَةٌ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْأَمِيرُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَأَنْكَرَهَا أَهْلُ الشَّامِ وَقَالُوا: مَنْ هَذَا الْمُنَافِقُ الَّذِي يُقَصِّرُ بِتَحِيَّةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَبَرَكَ عُثْمَانُ عَلَى رُكْبَتِهِ ثُمَّ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ هَؤُلَاءِ أَنْكَرُوا عَلَيَّ أَمْرًا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ حَيَّيْتُ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، فَمَا أَنْكَرَهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِمَنْ تَكَلَّمَ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ: عَلَى رِسْلِكُمْ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ بَعْضُ مَا يَقُولُ، وَلَكِنَّ أَهْلَ الشَّامِ قَدْ حَدَثَتْ هَذِهِ الْفِتَنُ، قَالُوا: لَا تُقَصَّرُ عِنْدَنَا تَحِيَّةُ خَلِيفَتِنَا، فَإِنِّي إِخَالُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ تَقُولُونَ لِعَامِلِ الصَّدَقَةِ: أَيُّهَا الْأَمِيرُ

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبیداللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ بننے کے بعد پہلا حج کرنے کے لیے آئے تو سیدنا عثمان بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہ ان سے ملنے آئے تو انہوں نے کہا:السلام علیک أیہا الأمیر ورحمۃ اللّٰہ۔ اہل شام کو یہ انداز برا لگا اور انہوں نے کہا:یہ منافق کون ہے جو امیر المؤمنین کے سلام میں نقص پیدا کرتا ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے، پھر فرمایا:امیر المؤمنین! یہ لوگ مجھ سے ایسی بات پر ناراض ہو رہے جسے آپ ان سے زیادہ جانتے ہیں۔ اللہ کی قسم میں نے سیدنا ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو اسی طرح سلام کہا تو کسی نے ان میں سے اسے ناپسند نہیں کیا۔ اہل شام میں سے جس نے یہ بات کی تھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا:ٹھہر جاؤ۔ انہوں نے وہی بات کی ہے جو وہ کہتے تھے۔ لیکن شام والوں کو جب یہ فتنہ پیش آیا تو کہنے لگے کہ ہمارے پاس ہمارے خلیفہ کے سلام میں کوتاہی نہ کی جائے۔ اے اہل مدینہ! میرا خیال ہے کہ تم صدقہ وصول کرنے والے عامل کو أیّہا الأمیر کہتے ہو (اس لیے انہوں نے برا محسوس کیا ہے۔)

1030

Al-Adab Al-Mufrad #1030

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ فَمَا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حجاج کے پاس آیا تو میں نے اسے سلام نہیں کہا۔

1031

Al-Adab Al-Mufrad #1031

Sahih

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّبِّيِّ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ حَذْلَمٍ قَالَ: إِنِّي لَأَذْكُرُ أَوَّلَ مَنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ بِالْإِمْرَةِ بِالْكُوفَةِ، خَرَجَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ مِنْ بَابِ الرَّحَبَةِ، فَفَجَأَهُ رَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ - زَعَمُوا أَنَّهُ: أَبُو قُرَّةَ الْكِنْدِيُّ - فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْأَمِيرُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَكَرِهَهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَيُّهَا الْأَمِيرُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، هَلْ أَنَا إِلَّا مِنْهُمْ، أَمْ لَا؟ قَالَ سِمَاكٌ: ثُمَّ أَقَرَّ بِهَا بَعْدُ

اردو ترجمہ · Urdu

تمیم بن حذلم رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:مجھے یاد ہے کہ کوفہ میں سب سے پہلے کس کو امیر کے لفظ سے سلام کہا گیا۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رحبہ کے دروازے سے نکلے تو ایک شخص کندہ سے آیا۔ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ابو قرہ کندی تھا۔ اس نے سلام کہا اور یہ الفاظ بولے:السلام علیک أیہا الأمیر ورحمۃ اللہ، السلام علیکم! سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے یہ انداز ناپسند کیا اور فرمایا:السلام علیکم أیہا الأمیر، السلام علیکم! (یہ کیا انداز ہوا)کیا میں ان لوگوں میں شامل ہوں کہ نہیں (پھر مجھے الگ سلام کی کیا ضرورت؟)سماک رحمہ اللہ کہتے ہیں:بعدازاں سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اس کو مان لیا۔

1032

Al-Adab Al-Mufrad #1032

Zaeef

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ عُبَيْدٍ - بَطْنٌ مِنْ حِمْيَرٍ - قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى رُوَيْفِعٍ، وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى أَنْطَابُلُسَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، وَنَحْنُ عِنْدَهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْأَمِيرُ، فَقَالَ لَهُ رُوَيْفِعٌ: لَوْ سَلَّمْتَ عَلَيْنَا لَرَدَدْنَا عَلَيْكَ السَّلَامَ، وَلَكِنْ إِنَّمَا سَلَّمْتَ عَلَى مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ - وَكَانَ مَسْلَمَةُ عَلَى مِصْرَ - اذْهَبْ إِلَيْهِ فَلْيَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ، قَالَ زِيَادٌ: وَكُنَّا إِذَا جِئْنَا فَسَلَّمْنَا وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ

اردو ترجمہ · Urdu

زیاد بن عبید حمیری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم رویفع بن سکن انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جبکہ وہ انطابلس کے امیر تھے ہم وہاں موجود تھے کہ ایک آدمی آیا اور سلام کہتے ہوئے یہ الفاظ بولے:السلام علیک أیہا الأمیر تو رویفع رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا:اگر تم ہمیں سلام کہتے تو ہم تیرے سلام کا جواب دیتے لیکن تم نے تو مسلمہ بن مخلد پر سلام کیا ہے (مسلمہ رضی اللہ عنہ ان دنوں مصر کے گونر تھے۔)ان کے پاس جاؤ وہی تیرے سلام کا جواب دیں گے۔ زیاد کہتے ہیں کہ جب وہ کسی مجلس میں ہوتے اور ہم آکر سلام کرتے تو یوں کہتے:السلام علیکم۔